برطانیہ میں امیگریشن سے متعلق 5 حقائق

انٹرنیشنل نیوز ڈیسک


برطانیہ کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہجرت کر کے آنے والوں کی تاریخ طویل عرصے پر محیط ہے اور پچھلے 20 برس میں ہجرت کر کے آنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

آنے والے تارکین وطن معاشرے کو ایک نئی شکل دیتے ہیں اور سیاسی منظرنامے کا حصہ بنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ برطانیہ آ کر بسنے کے نتیجے میں مہاجرین نے تاریخ کو کیا رنگ دیا، ملک پر اس کا کیا اثر ہوا اور یہاں رہنے والے افراد کی اس بارے میں کیا سوچ ہے؟

بی بی سی کے سلسلے ’بی بی سی بریفنگ اِن امیگریشن‘ نے ان سب پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے افرادی قوت میں کمی پوری کرنے کی کوشش کی

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو ملک کے مختلف حصوں میں اہم شعبوں میں مزدوروں کی کمی کا سامنا تھا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم قومی اداروں نے دولت مشترکہ سے کارکنان بھرتی کیے۔ انہی دنوں میں صحت عامہ کے قومی ادارے این ایچ ایس یعنی نیشنل ہیلتھ سروس کے لیے برصغیر سے 18 ہزار ڈاکٹروں کو بھرتی کیا گیا۔ لندن میں بسیں چلانے اور ٹکٹ انسپیکٹرز کی کمی پوری کرنے کے لیے 4 ہزار مرد اور عورتوں کو باربیڈوس سے بلایا گیا۔

سنہ 1948 سے دولت مشترکہ کے شہریوں کو وہی حقوق حاصل تھے جو برطانیہ میں پیدا ہونے والے شہریوں کو حاصل تھے۔ یہی نہیں بلکہ پوری سلطنت برطانیہ میں ہر کسی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی کھلی اجازت تھی۔ تاہم سنہ 1962 میں ایک نئے قانون کی منظوری دی گئی جس کے بعد دولت مشترکہ کے شہریوں کے برطانیہ میں آ کر رہنے اور یہاں کام کرنے کے حق کو ختم کر دیا گیا۔

سنہ 2018 میں ’وِنڈرش سکینڈل‘ نے حکومت کے ان اقدامات کا پردہ فاش کیا کہ آنے والوں میں کس کو رہنے کی اجازت دی گئی اور اس بارے میں کاغذات تلف کردیے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں سنہ 2013 کے بعد وِنڈرش دور میں آنے والے افراد کو برطانیہ میں مراعات ملنا بند ہوگئیں اور انھیں ملک سے بےدخل کردیا گیا۔

2۔ سنہ 1980 میں تبدیلیاں آئیں

کچھ عرصے پہلے تک برطانیہ سے جانے والوں کی تعداد یہاں آ کر بسنے والوں کی تعداد سے زیادہ تھی۔ پچلھے ڈیڑھ سو سال میں عمومی طور پر برطانیہ ہجرت کر کے آنے والوں اور یہاں سے جانے والوں کا توازن منفی میں رہا یعنی ملک چھوڑ کر بیرون ملک سکونت اختیار کرنے والوں کی تعداد برطانیہ آ کر بسنے والوں کی تعداد سے زیادہ تھی۔ مگر 80 کی دہائی کے وسط سے برطانیہ آ کر سکونت اختیار کرنے والوں کی تعداد ملک چھوڑ کر جانے والوں سے مسلسل زیادہ رہی۔

برطانیہ میں برسرِ اقتدار کنزرویٹو پارٹی نے جب سنہ 2010 میں مخلوط حکومت بنائی تب ہجرت کر کے آنے والوں اور ملک چھوڑ کر جانے والوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مجموعی طور پر اس سطح کو ایک لاکھ افراد سے کم رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا (اس ہدف کو سنہ 2019 میں وزیر اعظم بورس جانسن نے ترک کیا) اور مجموعی طور پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی تعداد میں اوسطً اضافہ ہو رہا ہے۔

3۔ برطانوی یونیورسٹیاں طالب علموں میں مقبول

دنیا بھر میں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں میں سے 10 فیصد سے زیادہ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم مکمل کرتے ہیں۔

پچھلے 20 برس میں بیرون ملک سے آنے والے طالب علموں کی تعداد دگنی ہوئی ہے جبکہ سنہ 2012 کے بعد سے اس میں کمی آئی ہے۔ سنہ 2016 اور 2017 کے دوران چار لاکھ چالیس ہزار طالب علم برطانیہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے جن میں ایک تہائی کا تعلق چین سے تھا۔

4۔ ہجرت سے متعلق رویوں میں تبدیلی

عمومی طور پر برطانوی دیگر ممالک کی نسبت ہجرت کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں اور یورپی یونین کے ممالک کے مقابلے میں مہاجرین کا یہاں زیادہ خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ مگر ہمیشہ سے برطانیہ میں مہاجرین کے بارے میں رویہ مثبت نہیں رہا ہے۔ جب سنہ 2011 میں ایک قومی جائزے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا مہاجرین کا ملک پر مثبت یا منفی اثر ہوا ہے تو صرف 19 فیصد نے جواب دیا کہ اس کا مثبت اثر ہوا ہے جبکہ سنہ 2019 میں یہ تعداد 48 فیصد تھی۔

5۔ امیگریشن کی وجہ سے برطانیہ کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے

آبادی میں اضافے کے لحاظ سے برطانیہ یورپ میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ صرف آئرلینڈ، سویڈن اور بلجیئم برطانیہ سے آگے ہیں۔ آبادی میں اضافے کا تخمینہ لگانے کے لیے ملک چھوڑ کر جانے والے اور ملک میں آنے والے افراد میں فرق اور ملک میں ہونے والی پیدائش کو جمع کیا جاتا ہے۔ اس تعداد میں سے انتقال کرنے والوں کی تعداد کو نکال کر آبادی میں اضافے کا پتہ چلتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کی آبادی میں اضافے کی وجہ فطری تھی مگر اب امیگریشن اس میں سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مثال کے طور پر ملک میں ہجرت کر کے آنے والے 90 فیصد افراد 45 برس سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے نتیجے میں برطانیہ کی آبادی میں عمر رسیدہ افراد کی شرح میں کمی ہو رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *