مسئلہ  توہين رسالت کي شرعي حيثيت

قسط اوّل

تحریر ابن قدسی ؔ


٭کیا کسی مسلمان کے لیے توہین رسالت کے حوالے سے کسی قانون کی ضرورت ہے؟

کسی مسلمان کے لیے توہین رسالت کے حوالے سے کسی قانون کی ضرورت نہیںہے۔ مسلمان تو کبھی بھی رسول کریم ﷺ کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔وہ تو مسلمان ہی اسی صورت میں ہے جب وہ رسو ل کریم ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے والا ہے ۔اگر اس کے اندر یہ جذبہ نہیں تو وہ حقیقی مسلمان نہیں اور دل کے اندر جذبہ دنیاوی قانون پیدا نہیں کرتے بلکہ یہ تو ایک روحانی تعلق ہے جو محبت سے پیدا ہوتا ہے ۔رسول کریم ﷺ کے پاکیزہ وجود کے دل نشین پہلوؤں پر غور کرنے سے وہ محبت خود بخود دل میں پیدا ہوجاتی ہے۔mazahib

اگر کوئی مسلمان نہیں ہے اوروہ رسول کریم ﷺ کو رسول ہی تسلیم نہیں کرتا تودیکھا جائے تو وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا ہے ۔کیونکہ آپ ؐ نے جو دعویٰ کیا جس کام کے لیے مامور ہوئے اگر کوئی آپ ؐکی ا س حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا اور انکار کررہاہے تووہ آپ ؐ  کی تکذیب کرکے گستاخی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ کسی ملک کا باشندہ اپنے ملک کے سربراہ کی حیثیت کو تسلیم نہ کرے تو اسے غداری تک کا مرتکب قرار دے کرسزا دی جاتی ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ توہین رسالت کی قانون کی حمایت کرنے والے پوری دنیا کے خلاف موت کا سرٹیفکیٹ جاری کروانا چارہے ہیں ۔اس کرہ ارض پر چھ ارب نوے کروڑ آبادی ہے ۔ اس میں سے مسلمان ایک ارب 57 کروڑ ہیں ۔ تو کیا پانچ ارب 33 کروڑ آبادی توہین رسالت قانون کے تحت سزائے موت سنائی جائے گی ۔اگر کہا جائے جہاں مسلمان اکثریت میںہیں وہاں یہ قانون بنایا جائے تو کیا عیسائی اکثریت والے ممالک کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا نہ ماننے والوں کے لیے کوئی قانون وضع کرلیں ۔

٭کیا تمام اسلامی ممالک میں توہین رسالت قانون جاری ہے ۔

پھرسارے مسلم اکثریت والے ممالک میں بھی توہین رسالت کا قانون اس صورت میں موجود نہیں جیسا پاکستان میں ہے ۔ پاکستان میںاس کی کم از کم سزا سزائے موت ہے لیکن دیگر ممالک میں ایسا نہیں چند ایک ممالک میں توہین مذہب کی سزا ہے مگر موت نہیں ۔انڈونیشیا میں پانچ برس ،ملیشیا میں تین سال قید ،افغانستان میں میں عدالیتں جرم کی سنگینی کے حساب سے توہین مذہب پر سزائے موت تک دے سکتی ہیں لیکن اگر مجرم سزا سنائے جانے کے تین روز کے اندر اظہا رپشمانی کرے تو سزا ساقط بھی ہو سکتی ہے ۔ایران میں توہین مذہب کے لیے علیحدہ کوئی شق نہیں بلکہ اسلامی حکومت کی مخالفت توہین مذہب اور اکثریتی عقیدے سے متصادم مواد کی اشاعت پر سزاؤں کو ایک ہی خانے میں ڈال دیا گیا ہے ان میںسے کسی جرم پر بھی اس کی سنگینی کے اعتبار سے سزائے موت تک دی جاسکتی ہے ۔سعودی عرب میں توہین مذہب کے جرم میں سنگینی کے اعتبار سے جرمانے ،کوڑوں قید یا موت کی سزا دی جاسکتی ہے اوربادشاہ پشمانی ظاہر کرنے والے کو معاف بھی کر سکتا ہے ۔کویت میں توہین مذہب پر جرمانے یا قید کی سزا ہوسکتی ہے ۔مصر میں چھ ماہ تا 5 برس قید اور ایک ہزار پاؤنڈ تک سزا ہوسکتی ہے ۔پاکستان میں 295C کے تحت رسول کریم ﷺ کی براہ راست یا بلاواسطہ یا اشاروں یا کنایوں میں توہین  کی کم از کم سزا موت رکھی گئی ہے اوراس میں معافی کا تصور بھی نہیں ۔

اگر ایسا ہی واضح ہے تو دیگرمسلم ممالک کے فقہاء کیوں ان واضح احکامات سے اپنی عوام کو دور رکھے ہوئے ہیں ۔ قرآن کریم کا ترجمہ تو تقریباً ہر زبان اور ہرجگہ مل جاتا ہے ۔حکومت نہ سہی کم از کم ان مسلم ممالک کی عوام ہی اٹھ کھڑی ہوتی ہے کہ ہم اس قانون کو جاری کروا کر چھوڑیں گے۔

یہاں پر ان آیات جن سے گستاخ رسول ؐ کی سزا قتل بتائی ۔ان آیات کے حوالے سے کسی قدر بحث کی جائے گی ۔

اس سلسلہ میں پہلی آیت جو پیش کی ہے وہ سورة فرقان کی آیت نمبر 27 تا 29 ہے ۔

وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْْہِ یَقُولُ یَا لَیْْتَنِیْ اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیْلاً – یَا وَیْْلَتَی لَیْْتَنِیْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَاناً خَلِیْلاً – لَقَدْ أَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَاء نِیْ وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً –

اس آیت کا ترجمہ یوںکیا جاتا ہے

 ’’جس دن ظالم اپنے ہاتھ کوکاٹے گا اور کہے گا اے کاش میں نے رسول ﷺ کے ساتھ راستہ پکڑ لیا ہوتا ۔ہے ہائے میری شامت کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ البتہ اس نے مجھے نصیحت سے بہکایا اس کے بعد جبکہ وہ میرے پاس پہنچ گئی اور شیطان انسان کو (عین وقت پر )تنہا چھوڑ جانے والا ہے ‘‘

مزید لکھا کہ

 ’’تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ تفسیر جلالین تفسیر ابن کثیر کے مطابق یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب ابی بن خلف کے اکسانے پر عقبہ بن ابی معیط نے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور نبی ﷺ نے اس کو تنبیہ کی کہ اگر تو مکہ کے باہر مجھے ملا تو میں تجھے قتل کروں گا ۔رسول ﷺ نے بد ر کی جنگ کے موقع پر اس کو گرفتاری کی حالت میں قتل کیا تھا۔‘‘

اب اس آیت کی تفسیرمختلف گزشتہ تفاسیر سے پیش خدمت ہے ۔

 تفسیر ابن کثیر اسی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیت کریمہ عمومی رنگ رکھتی ہے اور اس سے ہر ظالم مراد ہے اور قیامت کے دن تمام ظالم ندامت محسوس کرینگے ۔

امام رازی فرماتے ہیں کہ

 ’’ان الظالم غیر مخصوص شخص واحد بل یعم جمیع الظلمۃ فکذا المراد بقولہ فلانا شخصاً واحداً بل کل من اطیع فی معصیۃ اللہ واستشھد القفال بقولہ وکان الکافر علی ربہ ظھیراً (الفرقان :۵۵)ویقول الکافر یالیتنی کنت تراباً (النباء:۴۰)

کہ اس آیت کریمہ میں مذکو ر ظالم کوئی مخصوص ظالم نہیں بلکہ تمام ظالم مراد ہیں ۔جس طرح مثال کے طور پر فلان کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس سے ایک شخص مراد نہیں ہوتا بلکہ جو بھی اللہ کی نافرمانی کرے وہی مراد ہوتا ہے ۔جس طرح قرآن کریم میں ہے کیا کافر خدا کے مقابل پر مددگار ہے اور ایک اور آیت میں ہے کہ اس دن کافر کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا ۔

تفسیر القشیری نے بھی عمومی رنگ میں مضمون کو بیان کیا ہے ۔

البقاعی اپنی تفسیرنظم الدررمیں عقبہ بن ابی معیط کا ذکر تک نہیں کیا ۔

 ابن عجیبةنے اپنی تفسیر تفسیر ابن عجیبة (البحرالمدید)میں کہا کہ ان ارید بہ الجنس فھوکنایۃ عن علم کل من یضلہ کہ اس آیت میں جنس مراد لیا گیا ہے اورہر وہ چیز مراد ہے جو گمراہ کرنے والی ہے ۔اور وہ گمراہ کرتی ہے اللہ کے ذکر ،قرآن ،ایمان ،رسول کی نصیحت ،کلمہ شہادت سے ۔

 عقبہ بن ابی معیط کے حوالے سے ذکر کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے گستاخی کی وجہ سے فرمایا کہ ’’اگر تو مکہ کے باہر مجھے ملا تو میں تجھے قتل کروں گا ‘‘اور پھر اسے اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے قتل کیا ۔اس کے بارے میں مستند ترین روایت اصح الکتب بعد کتاب یعنی صحیح بخاری کتاب الوضوء باب اذا القی علی ظھر المصلیٰ قذر او جیفۃ لم تفسد علیہ صلاتہ میں درج ہے کہ عقبہ جنگ بدر کے دوران ہی قتل ہوا تھا اور اس کی لاش بدر کے کنویں میں پھینکی گئی تھی۔ علامہ الزمخشری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں عقبہ بدر کے دن قتل ہوا اور اسے حضرت علی ؓ نے قتل کیا اور بعض نے کہا ہے کہ عاصم بن ثابت بن افلح الانصاری نے قتل کیا ۔ اس کے علاوہ تفسیر ابن عجیبہ میں بھی یہی درج ہے کہ عقبہ بدر کے دن ہی مارا گیا تھا ۔

اب ثابت ہوا نہ یہ آیت کریمہ عقبہ بن ابی معیط کے واقعہ سے خاص ہے اور نہ ہی عقبہ کی ہلاکت آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں ہوئی جس طرح بیان کیاجاتا ہے تو اس سے استدلال کیسے درست ہوسکتا ہے ۔پھر اس کمزور استدلال پر سزائے موت کی سزا کا جواز نکالنا کس لحاظ سے درست ہے ۔کس طرح یہ قانون بنایا جا سکتا ہے جو بھی گستاخ ہے اسے لازماً قتل کرو۔ اور یہ فقرہ ’’اگر تو مکہ کے باہر مجھے ملا تو میں تجھے قتل کروں گا ‘‘جوآنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ اپنی ذات میں محل نظر ہے ۔وہ رحمة للعالمین جو طائف کی بستی سے تین میل تک پتھر کھاکرلہو ولہان ہونے کے باوجود فرشتے کو کسی قسم کی سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا ۔وہ رسول ﷺ جوروز سر پر کوڑا کرکٹ پھینکنے والی عورت کے گھر خیریت دریافت کرنے پہنچ جاتے ہیں جب وہ ایک روز آپ پر کوڑا نہیں پھینکتی ۔وہ رسولﷺ اس طرح قتل کی دھمکی دے ۔یہ بات اسوہ رسول ؐ کے خلاف جاتی ہے۔پھر کیا پورے مکہ میں صرف یہ ہی ایک شخص تھا جس نے رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔وہاں پر تو اکثریت ہی آپ کی شان میں گستاخی کرنے والی تھی ۔پھرابی بن خلف موجود تھا جس کے کہنے پر عقبہ نے گستاخی کی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔

دوسری آیت جو پیش کی گئی ہے وہ یہ ہے

إِنَّمَا جَزَاء  الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (المائدة :۳۳)

اس کا ترجمہ کچھ یوں تحریر کیا گیا ہے کہ ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین پر فساد پھیلاتے ہیں ان کی سزا صرف یہ ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی پرچڑھائے جائیں یا انکے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو ملک سے باہر نکال دیا جائے ۔یہی ان کے لئے دنیا کی رسوائی اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے ‘‘

اس کے بعدتحریر ہے کہ ’’اس آیت مبارکہ میں فسادی کی سزا واضح طور پر قتل بتلائی گئی ہے ‘‘

حالانکہ واضح طور پر بتلائی جانے والی سزاؤں میں سولی پر چڑھانا،ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کاٹنااور ملک بدر کرنا بھی شامل ہیں مگران سزاؤں میں صرف قتل کو لینا اور باقیوں کو چھوڑنا بلادلیل نظر آتا ہے ۔پھر اس آیت کریمہ میں اللہ اور رسول سے جنگ اور زمین میں فساد پھیلانے کا ذکر ہے مگر علامہ صاحب صرف فساد کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ آیت کریمہ میں واضح طور پر اللہ اور رسول سے جنگ کا بھی ذکر ہے ۔

تقریباً تمام گزشتہ مفسرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ یہ آیت عرینة قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی جو مدینہ آئے پھر بیمار ہوگئے رسول کریم ﷺ نے انہیں مدینہ سے باہر کھلی فضا میں اونٹوں کے پاس رہنے کا کہا وہاں وہ دودھ وغیرہ کے استعمال سے تندرست ہوگئے پھر انہوں نے حضور ﷺ کے چرواہے پر بڑے ظالمانہ انداز میں تشدد کیا اس کی آنکھوں میں لوہے کی سلاخیں گرم کر کے پھیرکر ہلاک کردیا اور سارے جانوروں کو ہانک لے گئے ۔حضورﷺ کے ارشاد پر ان کا تعاقب کیا گیا اور گرفتار کرکے واپس لائے گئے اور ان کو بطور قصاص اسی طرح سلوک کیا جیسا انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا ۔اس آیت کریمہ میں ان کی سزاؤں کی تصریح موجود ہے۔بعض نے اسے بنی اسرائیل (تفسیر رازی )اور بعض نے مشرکین کے بارے میں بھی بیان کیا(تفسیر ابن کثیر) ۔بہرحال اس میں جنگ اور فساد فی الارض کا بیان ہے ۔اور سزا صرف قتل بیان نہیں ہوئی۔

علامہ صاحب نے فسادی کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’ حیرت کی بات ہے کہ بعض نام نہاد دانش ور زنا ،ڈکیتی اور قتل کرنے والے کو فساد فی الارض کا مرتکب قرار دیتے ہیں ۔‘‘ ان کے علم میں اضافہ کے لیے چند’’نام نہاد دانش ور‘‘بزرگان سلف کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔

تفسیر طبری میں امام مجاہدنے فسادکی وضاحت بیان فرمائی کہ قال الزنا،السرقة،قتل الناس و اھلاک الحرث والنسل

تفسیر ابن کثیر میں حضرت انس بن مالک ؓ،ابو قلابہ اورامام بخاری کے حوالے سے درج ہے کہ چوری ،قتل اور اللہ اور رسول سے جنگ کی وجہ سے سزا دی گئی۔

تفسیر امام رازی میں ہے کہ یہ آیت مسلمانوں میں سے جو بھی قاطع الطریق(ڈکیٹ،چور)ہے اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔اور امام رازی لکھتے ہیں یہی بات اکثر مفسرین نے تحریر کی ہے ۔علامہ الزمخشری نے بھی کہا ہے کہ قتل ،مال غصب کرنے ،چوری اور قاطع الطریق(ڈکیتی ) کی وجہ سے یہ سزائیں دی گئیں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فساد فی الارض کی تشریح بیان کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ یعملون فی الارض بالمعاصی وھو القتل واخذ المال ظلماً کہ فسادی وہ ہوتا ہے جو زمین پر گناہ والے کام کرتا ہے اور وہ گناہ والے کام کون سے ہیں (1)قتل (2)اخذ المال یعنی چوری ،ڈکیتی

پھرعلامہ صاحب کہتے ہیں اس آیت سے صرف اور صرف قتل کا سزا کا بیان ہوا ہے مگر آیت کریمہ میں دیگر سزاؤں کا بھی ذکر ہے ۔اور اکثر مفسرین نے اس بات کو تحریرکیا ہے کہ سزا دینے میں امام کو اختیار ہے۔ضروری نہیں کہ قتل کی سزا دی جائے ۔ جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی ایک سزا دی جاسکتی ہے ۔تفسیر امام رازی میں حضرت ابن عباس ؓ ،حضرت ابو طلحہ ؓ،حضرت الحسن اور حضرت سعید بن المسیب نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ سزا کے معاملے میں امام کو اختیار ہے ۔

توہین رسالت کے حوالے سے علماء بیان کرتے ہیں کہ اس میں توبہ کی گنجائش نہیں ۔جس نے توہین کی ہے اسے لازماً سزا ملے گی حالانکہ مذکورہ بالا آیت کی ذیل میں کئی مفسرین نے درج کیا ہے کہ توبہ کی گنجائش ہے اور توبہ سے گناہ ساقط ہو جاتے ہیں ۔امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ توبہ سے تمام حدود ساقط ہوجائیں گی(تفسیر خازن )حضرت ابن عباس ؓ اسی آیت کے تابع اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو کوئی توبہ نہیں کرتااس کے لیے یہ سخت سزائیں رکھی گئی ہیں اور جو توبہ کر لے اسے درگذر کیا جائے ۔تفسیر امام رازی میں بھی امام شافعی کا قول درج ہے کہ توبہ سے گناہ ساقط ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ماعز کا واقعہ درج ہے کہ اسے رجم کی سزا ہوئی اثنائے سزا اس نے توبہ کا اظہار کیا مگر صحابہ ؓنے نہ چھوڑا ۔جب رسول کریم ﷺ سے اس حوالے سے ذکر ہوا تو آپؐ نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۔ اسی طرح تفسیر ابن کثیر میں بھی لکھا کہ اگر وہ توبہ کرلیں تو اس پر کوئی سزا نہیں ۔

مزید بیان کیا جاتا ہے کہ سورة توبہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے دین میں طعن کرنے والے شخص کے بارے میں کہا ہے کہ ایسا شخص اپنے عہد کو توڑنے کا مرتکب ہوتا ہے یعنی مسلم ریاست کا غیر مسلم یا اپنی ریاست میں رہنے والی اقلیتوں سے جو امن معاہدہ ہوتا ہے وہ دین میں طعن کرنے کی وجہ سے ٹو ٹ جاتا ہے اور دین میں طعنہ دینے کی کوئی قسم بھی توہین رسالت سے بڑی نہیں ہوسکتی اور ایسا طعن کرنے والے کی سزا اللہ نے قتل ہی تجویز کی ہے۔ اس کے بعد سورہ توبہ کی مندرجہ ذیل آیت کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔

وَإِن نَّکَثُواْ أَیْْمَانَہُم مِّن بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ إِنَّہُمْ لاَ أَیْْمَانَ لَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَنتَہُونَ(سورة التوبہ:۱۲)

اور اگراپنے عہدکے بعد وہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے علم برداروں کو قتل کرو۔یقینا انکی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید کہ وہ باز آجائیں ‘‘

حالانکہ اس آیت میںبیان شدہ عہد کی کوئی تعیین نہیں کی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ عہد مسلم ریاست میں موجود غیر مسلموںسے ہے اس طرح تو اس بد عہدی میں مسلمان شامل نہیں ہیں ۔مگر جس قانون کی تائیدمیںیہ آیت پیش کی جارہی ہے   وہ تو مسلم اورغیر مسلم کے لیے یکساں ہے ۔بلکہ اب تک اس کی زد میں آنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے ۔

آیت کریمہ میں دین میں طعن کی بھی کوئی وضاحت نہیں ہے ۔مفسرین نے اس کی مختلف وضاحتیں کی ہیں ۔تفسیر السعدی نے بیان کیا ہے کہ

 طعنو ا فی دینکم ۔۔۔۔ویدخل فی ھذا جمیع انواع الطعن الموجھۃ الی الدین او الیٰ القرآن یعنی دین میں طعن کرنا اوراس میں طعن کی سب اقسام شامل ہیں جوطعن دین کی طرف منسوب ہو ۔یا اسے قرآن کریم کی طرف منسوب کیا جائے ۔علامہ صاحب تو اسے توہین رسالت تک محدود کر رہے ہیں مگر یہاں تو اس کا دائرہ بہت وسیع کر دیا ہے کیا توہین رسالت کے ساتھ ساتھ قرآن او ر اسلام کی توہین کرنے والے بھی قتل کی سزا پائیں گے ۔ حالانکہ پاکستان کا قانون اس چیز کی سزا قتل مقرر نہیں کرتا ۔ یہ آیت کریمہ بھی علامہ صاحب کا مقصد حل کرتی نظر نہیں آتی ۔طعن فی الدین سے توہین رسالت ہی مراد ہے تو خدا تعالیٰ صاف الفاظ میں طعن علیٰ الرسول فرما دیتا تو یہ مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا ۔پھر اس آیت میں صاف درج ہے ائمة الکفر یعنی کفر کے سرداروں کو قتل کروجو اس کفر کے بانی مبانی ہیں نہ ہر ایک کافر کو ہلاک کرتے پھرو۔ائمة الکفر کو قتل کرنے کی وجہ بھی یہ ہے باقی عام کفار طعن فی الدین سے رک جائیں ۔توہین رسالت قانون میں کوئی وضاحت نہیں کہ توہین کرنے والے لیڈروں کو صرف سزا ہوگی اور باقی چھوڑ دیے جائیں گے بلکہ اس میں تو معافی کی بھی گنجائش نہیں رکھی گئی خواہ وہ لیڈر ہوں یا عام کافر اسے بہرحال سزا ملے گی ۔

گزشتہ تفاسیر تفسیر طبری ،تفسیر ابن کثیر،تفسیر البغوی ،تفسیر امام رازی ،الزمخشری ،الخازن ،تفسیر ابن عباس،تفسیر السعدی اور قطان میں لکھا ہے کہ یہاں عہد سے مراد اہل مکہ کا مسلمانان مدینہ کے درمیان حدیبیہ کے مقام پر ہونے والاعہد ہے ۔جو بنو بکر کے خزاعہ حلیف رسول کریم ﷺ پر حملہ کرنے سے ٹوٹ گیا ۔اور ائمة الکفر سے رؤوسائے مکہ میں ابوسفیان،امیہ بن خلف،عتبہ بن ربیعہ،ابو جھل سہیل بن عمر و شامل ہیں ۔دلچسپ بات یہ لکھی ہوئی ہے کہ اس آیت میںجن  ائمة الکفر کو مراد لیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی اس آیت کے نزول کے بعد قتل نہیں کیا گیا ۔کچھ اس آیت کے نزول سے قبل ہلاک ہوگئے تھے ۔جو باقی بچے تھے ان کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ مسلمان ہوگئے تھے ۔تفسیر الخازن نے ایک نئی بات لکھی ہے کہ یہاں ا ئمة الکفر سے مراد دجال کے ساتھ ظاہر ہونے والے یہود ہیں ۔

اس آیت کے حوالے سے مفسرین نے نہایت اہم بات یہ لکھی ہے کہ ائمة الکفر کو قتل کرنے کی غرض یہ ہے کہ دوسرے لوگ کفر سے لوٹ کو ایمان میں داخل ہوجائیں ۔لعلھم ینتھون آیت کے اس ٹکڑہ کی وضاحت میں یہ بات لکھی گئی ہے ۔

ای لکی ینتھوا عن الطعن فی دینکم ویرجعوا عن الکفر الی الایمان (تفسیر الخازن )

اگر طعن کی وجہ سے فوری طور پر قتل کیا جانا ہے تو پھر کفر سے لوٹنے اور باز آنے سے کیا معنی ہیں۔

(باقی انشاء اللہ آئندہ )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *