معاشی غداری

تحریر عرفان چوہان

درآمد شدہ ایل این جی کیلئیے سمندر میں پانی پر فلوٹنگ ٹرمینل کی ضرورت تھی جسکا تخمینہ لگ بھگ 3 ارب روپے تھا۔ خطیر منافعے کو دیکھتے ہوئے حکومت کیلئیے یہ 3 ارب لگانا ذرا بھی مشکل نا تھا لیکن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے نام پر حالت نزاع میں موجود قوم کی بوٹیاں نوچنے کا پروگرام ترتیب دے دیا گیا۔ سب سے پہلے 3 ارب میں مکمل ہونے والے پراجیکٹ کی قیمت کو 15 ارب ظاہر کیا گیا۔ جب منافع دینے کا معاملہ طے کرنا تھا تو اگلے بیس سال تک کیلئیے 2 لاکھ 72 ہزار ڈالر روز کا کرایہ طے کروا دیا گیا۔ معاہدے کو مزید فائدہ مند بناتے ہوئے یہ شق بھی شامل کر دی گئ کہ مالکان جب چاہیں یہ ٹرمینل پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی کرائے پر دے سکتے ہیں جس میں حکومت روز کروڑوں روپیہ ادا کرنے کے باوجود کچھ نا کر سکے گی

یہ معاملہ “شریف النفس” انسان جناب شاہد خاقان عباسی نے اینگرو گروپ کے ساتھ طے کیا۔ محض 3 ارب لگا کر اربوں ڈالر کا منافع بھوکی عوام سے اینٹھا جائے گا۔ اگر اتنا ہی منافع بخش کاروبار تھا تو کیا حکومت کے پاس 3 ارب بھی نہیں تھے لگانے کیلئیے۔ سارے حکومتی ادارے گھاٹے میں اور جس کام میں منافع ہو وہ انکا اور انکے دوستوں کے نام ہوتا ہے۔ پھر جان بوجھ کر معاہدوں میں ایسی شقیں شامل کی جاتی ہیں کہ کوئ ان سے انحراف نہیں کر سکتا، ورنہ بین الاقوامی عدالتوں میں اربوں ڈالر کے جرمانے کھانے پڑ جاتے ہیں

 لیگ نے قطر کے ساتھ 8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو LNG کا معاہدہ فکس کیا تھا۔ ریلائنس انڈیا نے وہی یونٹ لگ بھگ 5 ڈالر میں خریدا ہے اور آج قیمت 1.85 ڈالر ہو چکی ہے لیکن قیمت جتنی بھی گر جائے ہمیں معاہدے کے تحت 8 ڈالر ہی ادا کرنے پڑیں گے۔ کارکے، ریکوڈیک میں بھی ایسا ہی تھا اور حب کو میں بھی یہی ہوا تھا۔ ملکی معیشت اور قوم بغیر وجہ کے بربادی کے گڑھے میں نہیں گری۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ ہو یا نشاط چونیاں پاور کا، وہی معاہدے ہیں، وہی شقیں اور وہی طریقہ کار ہے۔ پیچھے ہٹو تو اربوں ڈالر کے جرمانے اور اگر جاری رکھو تو قطرہ قطرہ خون نچڑتا رہے

یہ معاشی غدار ہیں جو چند سو کروڑ کیلیئے ریاست اور قوم کو ہی فروخت کر دیتے ہیں اور پھر ٹی وی پر بیٹھ کر مہنگائ اور غربت پر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔ بخدا یہ بدتر ہیں ان دلالوں سے بھی جو بوڑھی ہوتی ہوئ ماں کو کوٹھے پر بٹھا کر اپنی عیاشی کا سامان پیدا کرتے ہیں !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *