ایک انجانا خوف

الطاف حسن قریشی

ایک انجانا  اور ہولناک خوف ہماری قومی زندگی میں بھی نظر آتا ہے اور علاقائی اور عالمی سطح پر بھی۔ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ ایک طرف آنے والے صدارتی انتخابات میں اپنی کامیابی کے حوالے سے بڑے فکرمند ہیں اور دُوسری طرف چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ اِسی طرح چین جو حیرت انگیز رفتار سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا، اُسے اچانک کرونا وائرس نے آن لیا ہے جس کے باعث پوری دنیا میں بہت کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ چینی صدر اِس وَبا پر قابو پانے کیلئے سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ راتوں رات ہسپتال تعمیر کر رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ جو ہزاروں کی تعداد میں چین کے اندر موجود ہیں، کی بہت دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی سینیٹ نے اِس مصیبت میں چینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور پاکستان کی قدیم ترین درس گاہ پنجاب یونیورسٹی میں بہت بڑی ریلی نکالی گئی جس میں چین کیساتھ کامل یکجہتی اور شکرگزاری کا اظہار کیا گیا۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں مسٹر مودی دہلی ریاست کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست ِ فاش سے حددرجہ خوفزدہ ہیں۔ اُنہیں احساس ہوتا جا رہا ہے کہ ہندوؤں کی نچلی ذاتیں، دلت اور تمام تر اقلیتیں اُنکے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ اِسکے علاوہ مقبوضہ کشمیر پر ایک قیامت ٹوٹی ہوئی ہے جس نے عالمی برادری میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دِی ہے، چنانچہ جنابِ مودی اپنی تیار کردہ چتا میں جل رہے ہیں۔

اِس وقت پوری بنی نوع انسانی اور خاص طور پر عالمِ اسلام جس کرب سے گزر رہا ہے، اِس کی تصویر ہمارے عہد کے بیدار مغز صوفی، مفکر اور شاعر جناب واصف علی واصفؔ نے اپنی زندہ جاوید تصنیف ’دل دریا سمندر‘ میں کھینچی ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں کمال مہارت سے بڑی بڑی حقیقتیں سمیٹ لیتے اور گمبھیر مسائل کا قابلِ عمل حل بھی تجویز کر دیتے تھے۔ جناب اشفاق احمد اور جناب حنیف رامے جیسے نابغہ روزگار اُن کے قدموں میں بیٹھ کر گھنٹوں اکتسابِ فیض کرتے تھے۔ اُن کی کتاب مجھے چند روز پہلے پڑھنے کا موقع ملا جس کی بدولت گنجینہ ہائے معانی برآمد ہوتے گئے۔ وہ ’خوف‘ کے زیرِعنوان رقم طراز ہیں ’’خود کو محفوظ بنانے کی خواہش غیرمحفوظ ہونے کا اعلان بھی تو ہے۔ شاید زندگی اپنے اندر گرتی رہتی ہے ریت کی دیوار کی طرح، اسے کسی آندھی اور طوفان کے تکلف کی ضرورت نہیں۔ خوف انسان کو خوفزدہ کرتا ہے۔ امیر آدمی جب غریبوں کو ناراض دیکھتا ہے، تو اُسے اُن سے خوف محسوس ہوتا ہے کہ گونگا خطرہ زبان کھول دے، تو جانے کیا ہو جائے۔‘‘

جناب واصف علی واصفؔ نے سیاست دانوں کے وعدوں کے بارے میں نہایت پتے کی بات لکھی ہے’’ایک سیاست دان سے کسی نے پوچھا آپ نے اِتنے وعدے کیے، پورا کوئی نہیں کیا۔ اُس نے کہا وعدے پورا کرنے کا وعدہ تو ابھی کیا ہی نہیں۔‘‘ وہ اِس باب میں آگے چل کر لکھتے ہیں ’’تخلیقِ پاکستان ایک وعدہ تھا، خدا کے ساتھ، مسلمانانِ پاکستان کیساتھ، مسلمانانِ ہند کے ساتھ بلکہ مسلمانانِ عالم کیساتھ۔ یہی وعدہ ہمارا آئین ہے بلکہ ہمارا دِین ہے۔ غریب کو مایوس نہ ہونے دیا جائے اور امیر کو مغرور نہ ہونے دیا جائے۔ یہ وعدہ اُس وقت پورا ہو گا جب نہ کوئی مظلوم ہو گا نہ کوئی محروم۔‘‘ جناب واصف نے معاشرے میں ہمہ وقت اضطراب کا سراغ لگاتے ہوئے لکھا’’آج کی زندگی میں ایک گھٹن ہے، ایک حبس ہے۔ آج کی زندگی خودغرضی کی زندگی ہے، کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں۔ ہر طرف انسانوں کی بھیڑ ہے اور اِس بےپناہ ہجوم میں کوئی انسان نظر نہیں آتا۔ بداعتمادی کے اِس عہد میں ہر شخص مضطرب ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف وبا پھیلی ہوئی ہے بےچینی کی وبا، بےحسی کی وبا، بےکسی کی وبا، بےنصیبی کی وبا، بےمروتی کی وبا، بےحیائی اور بےوفائی کی وبا۔ ہر حساس آدمی کو معاشرتی انحطاط مضطرب کر رہا ہے۔‘‘

مذہبی عقائد کے جاہلانہ اختلافات نے سوسائٹی میں جو افتراق اور اِنتشار پیدا کیا ہے، اسے اتحاد میں تبدیل کرنے کے لئے جناب واصف نے ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے ’’سورج کا مذہب نہیں پوچھا جاتا، اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ ہر انسان دوسرے انسان کی ضرورت کا خیال رکھے، تو عقائد کا تضاد ختم ہو جاتا ہے۔‘‘ ہمارے دانشور صوفی نے ایک اور بڑی حقیقت کی نشان دہی اِن الفاظ میں کی ہے ’’زندگی کے اکثر مسافر صرف آدھا راستہ ہی طے کرتے ہیں۔ وہ ایک فیصلہ کرتے ہیں، پھر اس کے بعد اس فیصلے کی غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور پھر اُن کی سوچ اُن کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ پھر یہی لوگ سوچتے ہیں کہ یہ سفر غلط سمت میں جا رہا ہے۔ صحیح وقت پر مناسب فیصلہ ہی کامیاب زندگی کی علامت ہے۔ ہم لوگ بڑی دیر سے فیصلوں کا کھیل کھیلتے آ رہے ہیں۔ ہم شاید جانتے نہیں کہ ہمارے فیصلوں کے اوپر ایک اور فیصلہ نافذ ہو جایا کرتا ہے اور یہ وقت کا فیصلہ ہوتا ہے۔‘‘ وہ ’کامیابی‘ کی روح کے اندر جھانکتے ہوئے رقم طراز ہیں’’اگر سماج کا اپنا کوئی اخلاقی معیار نہ ہو، تو کامیابی ایک خطرہ ہے۔ جھوٹوں میں شہرت حاصل کرنا بدنام ہونے کے مترادف ہے۔‘‘ جناب واصف نے ’طاقت‘ کی حقیقت کھول کر بیان کر دی ہے کہ ’’طاقت کا ہونا ضروری ہے، اس کا استعمال اور اظہار ضروری نہیں۔ طاقت جب خوف پیدا کرتی ہے، تو آزاد اِنسان غلام بن کے رہ جاتا ہے۔ طاقت کی زبان بولنے والے دنیا کو تباہی کے دہانے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔‘‘ واصف صاحب نے بڑے ہی فلسفیانہ انداز میں عصرِ حاضر کی متضاد خواہشات کی تصویر کشی ایک جملے میں کر دی ہے کہ ’’آج کا انسان یا مسلمان زندگی فرعون کی پسند کرتا ہے اور عاقبت موسیٰؑ کی۔‘‘ اِس حقیقت کے پیشِ نظر حضرت موسیٰ  کی عاقبت چاہنے کے لئے ہمیں خدائی لہجے کے بجائے انسانی لہجہ اختیار کرنا اور خیر کی طاقت کو منظم کر کے فرعون صفت لوگوں کو شکست سے دوچار کرنا ہو گا۔                                                                                                       (بشکریہ روزنامہ جنگ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *