شعر و شاعری ماہ مارچ 2020

نظم
(سيد عارفين تابش)

اپني صليب آپ اٹھاني پڑي مجھے
خون جگر سے آگ جلاني پڑي مجھے
اس شہر ميں کوئي نہ بچا صاحب دستار
پگڑي کي آن بان بتاني پڑي مجھے
پيسوں ميں تولنے لگے کردار کا وزن
سوداگروں کو آنکھ دکھاني پڑي مجھے
روٹي کے بھاؤبکنے لگے ہيں شکم پرست
ايسے ميں اپني بھوک چھپاني پڑي مجھے
ميں نے ہوا کے ساتھ چراغوں کي بات کي
پھر آندھيوں سے زک بھي اٹھاني پڑي مجھے
اس شہرِ بے مراد ميں وہ تھي ميري مراد
يعني کہ اپني ذات مٹاني پڑي مجھے
احباب ميں بہت سے ہيں کچھ مصلحت پسند
کيا ہے جنون شوق سناني پڑي مجھے

ابن آدم بھي ابن آدم ہي ہے
(حضرت ڈاکٹر مير محمد اسماعيل )

پاک ہم پيدا ہوئے تھے پر تھا شيطاں تاک ميں
کب وہ دن ہو نکلے اس جنت سےيہ آدم کہيں

آخر اِک دن مجھ کو دھوکا دے ديا معلون نے
اپني عصمت کا رہا باقي نہ وہ عالم کہيں

ہم بھي جب جنت سے نکلے ہو گئے تُم سے جُدا
خاک ايسي زندگي پر تُم کہيں اور ہم کہيں

کس قدر خوشياں ہوں اے پيارے کہ پھر ہجراں کے بعد
طالِب و مطلوب مل جائيں گلے باہم کہيں


غزل
(مُصور نذير چُونياں)

کيوں شَبِ ہِجر سَرِ شام سو گيا ہوں ميں
ايسا نڈھال بھلا کب سے ہو گيا ہوں ميں

مُعتبَر ہونے کا آخر جواز مِل ہي گيا
تيرے نام سے منسُوب ہو گيا ہوں ميں

اُگّے گي بعد ميرے فصلِ درد صديوں تک
تُخمِ رنج سَرِ دست بو گيا ہوں ميں

بہانہ کر کے کسي غير کي تعزيت کا
غموں پہ اپنے بہت آج رو گيا ہوں ميں

تيري حقيقتِ اِدراک کے سمندر ميں
کَشتيِ عقل کو آخر ڈبو گيا ہوں ميں

ہوا کا ساتھ کہاں تک نذيرؔ ممکن تھا
مِثالِ گَرد سَفر راہ ميں کھوگيا ہوں ميں
(انتخاب رانا اکرم شاد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *