ایک گھر کی سبق آموز کہانی

شعبۂ خواتین

تحریر: مدثرہ عباسی

کافي عرصہ پہلے کي بات ہے ايک لڑکي جس کا نام تبسم تھا اس کي شادي ہوئي ۔ وہ سسرال ميں اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ رہتي تھي۔ بہت کم وقت ميں ہي تبسم کو يہ اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ اپني ساس کے ساتھ نہيں رہ سکتي۔ ان دونوں کي شخصيت بالکل مختلف تھي۔ اور تبسم اپني ساس کي بہت ساري عادتوں سے پريشان تھي۔ اس کي ساس ہر وقت تبسم پر طنز کرتي رہتي تھيں جو اسے بہت ناگوار گزرتاتھا۔ آہستہ آہستہ دن اور پھر ہفتے بيت گئے ليکن تبسم اور اس کي ساس کي تکرار ختم نہ ہوئي۔ ان تمام نااتفاقيوں نے گھر کا ماحول بہت خراب کرديا تھا جس کي وجہ سے تبسم کا شوہر بہت پريشان رہتا تھا۔ آخر کار تبسم نے يہ فيصلہ کيا کہ وہ اپني ساس کا برا رويہ اور برداشت نہيں کرے گي اور وہ اب ضرور کچھ نہ کچھ کرے گي۔ 

تبسم اپنے پاپا کے ايک بہت اچھے دوست احمد انکل کے پاس گئي جو جڑي بوٹياں بيچتے تھے۔ تبسم نے انہيں ساري کہاني بتائي اور ان سے کہا کہ وہ اس کو تھوڑا سا زہر دے ديں تا کہ ہميشہ کے لئے يہ مسئلہ ختم ہوجائے۔ احمد انکل نے تھوڑي دير کے لئے کچھ سوچا اور پھر کہا کہ تبسم ميں اس مسئلے کو حل کرنے ميں تمہاري مدد کروں گا ليکن تمہيں ويسا ہي کرنا ہوگا جيسا ميں تمہيں کہوں گا۔ تبسم راضي ہوگئي۔

 احمد انکل ايک کمرے ميں گئے اور تھوڑي دير بعد اپنے ہاتھ ميں کچھ جڑي بوٹياں لے کر لوٹے۔ انہوں نے تبسم کو کہا کہ تم اپني ساس کو مارنے کے لئے فوري زہر استعمال نہيں کر سکتيں کيونکہ اس طرح سب تم پر شک کريں گے۔ اس لئے ميں تمہيں يہ جڑي بوٹياں  دے رہا ہوں يہ آہستہ آہستہ ان کے جسم ميں زہر پھيلائيں گي۔ 

ہر روز تم کچھ اچھا پکانا اور پھر انہيں کھانا ديتے وقت اس ميں يہ جڑي بوٹياں ڈال دينا اور ہاں اگر تم چاہتي ہو کہ کوئي تم پر شک نہ کرے کہ تم نے انہيں مارا ہے تو تمہيں يہ خيال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رويہ ان کے ساتھ بہت دوستانہ ہو۔ ان سے لڑائي مت کرنا اور ہر بات ماننا اور ان کے ساتھ ايک ملکہ کي طرح برتائو کرنا ۔ تبسم يہ سب سن کر بہت خوش ہوئي ۔ اس نے احمد انکل کا شکريہ ادا کيا اور جلدي سے گھر چلي گئي کيونکہ اب اسے اپني ساس کو مارنے کا کام شروع کرنا تھا۔ 

ہفتے گزر گئے  اور پھر مہينے تبسم ہر روز کچھ اچھا پکا کر اپني ساس کو خاص طور پر پيش کرتي تھي۔ اسے ياد تھا کہ احمد انکل نے اس سے کيا کہا تھا کہ اسے اپنے غصے پر قابو رکھنا ہے۔ اپني ساس کي خدمت کرني ہے اور ان کے ساتھ اپني ماں جيسا برتائو کرنا ہے۔ چھ مہينے گزر گئے گھر کا نقشہ تقريباً بدل چکا تھا۔ 

تبسم نے کوشش کرکے اپنے غصے پر قابو کرنا سيکھ ليا تھا ۔ اب اکثر وہ اپني ساس کي باتوں پر ناراض اور غصہ نہ ہوتي۔ چھ ماہ ميں ايک بار بھي اس کا اپني ساس سے جھگڑا نہيں ہوا تھا اور اب اسے وہ بہت اچھي لگنے لگي تھيں اور ان کے ساتھ رہنا بھي آسان لگنے لگا تھا۔ اس کي ساس کا رويہ بھي اس کے ساتھ بہت بدل گيا تھا اور وہ بھي تبسم کو اپني بيٹيوں کي طرح پيار کرنے لگي تھيں۔ وہ اپني سب دوستوں کے درميان تبسم کي تعريفيں کرتي تھيں۔ تبسم اور اس کي ساس دونوں اب ايک دوسرے کو ماں بيٹي کي طرح سمجھنے لگي تھيں۔ تبسم کا شوہر بھي يہ سب ديکھ کر بہت خوش تھا۔ 

ايک دن تبسم پھر احمد انکل کے پاس آئي۔ تبسم نے کہا کہ اب مجھے طريقہ بتائيں کہ کيسے ميں اپني ساس کو اس زہر سے بچائوں  جو ميں نے انہيں ديا ہے۔ وہ بہت بدل گئي ہيں۔ ميں ان سے بہت پيار کرتي ہوں اور ميں نہيں چاہتي کہ وہ اس زہر کي وجہ سے مر جائيں جو ميں نے انہيں ديا ہے۔ 

احمد انکل مسکرائے اور کہنے لگے کہ تمہيں ڈرنے کي ضرورت نہيں ۔ ميں نے تمہيں زہر نہيں ديا تھا بلکہ جو جڑي بوٹياں ميں نے تمہيں دي تھيں وہ وٹامن کي تھيں تا کہ ان کي صحت بہتر ہوجائے۔ زہر صرف تمہارے دماغ ميں اور تمہارے رويے ميں تھا ليکن وہ سب تم نے اپنے پيار سے ختم کرديا ہے۔ 

ياد رکھيے ہمارا رويہ ، ہمارے الفاظ اور ہمارا لہجہ يہ فيصلہ کرتا ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کيا رويہ اپناتے ہيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *