منشیات کی لت کا تدارک مستحکم

تحریر: عابدعمر

پاکستان ميں بچوں کي بہترين نشوونما، افزائش اور ان کے فروغ کے ليے وقت وقت پر مختلف نوعيت کي پاليسياں بنائي جاتي رہي ہيں۔ يہاں تک کہ اس کے ليے ايک وزارت بھي ہے، جو بچوں سے متعلق مسائل، ان کي ذہني نشوونما اور ان کے فروغ کے ليے پابند عہد ہے۔ ليکن اس کے باوجود معاشرہ اور حکومتي سطح پر بھي بچوں کي بدلتي عادتوں پر غوروفکر کرکے ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے والي کوششوں ميں کمي نظر آتي ہے۔ ان ميں تيزي سے پنپ رہي منشيات کي عادت ہے، جو ايک سنگين مسئلے کے روپ ميں اپنے پر پھيلا رہي ہے۔ ضابطے کے مطابق حکومت کو خود ہي پہل کرتے ہوئے اس کے تدارک کے ليے کوئي ٹھوس قدم اٹھانے کي ضرورت ہے ليکن افسوسناک امر يہ ہے کہ اس کے تدارک کے ليے جو کوششيں کي جارہي ہيں، ان کي راہ ميں کئي اڑچنيں حائل نظر آتي ہيں اور جو فريق اس سلسلے ميں کوششيں کررہے ہيں، انہيں عدالتوں کا سہارا لينا پڑرہا ہے۔ اس سلسلے ميں ايک غيرسرکاري تنظيم کي عرضداشت پر سماعت کے بعد اپنے تازہ حکم ميں سپريم کورٹ نے مرکزي حکومت سے سوال کيا ہے کہ بچوں ميں بڑھتي ہوئي منشيات کي لت کے تدارک کے ليے اس نے کيا اقدامات کيے ہيں۔

واضح رہے کہ دسمبر2016 ميں سپريم کورٹ نے اس سلسلے ميں ايک لائحہ عمل مرتب کيا تھا اور مرکزي حکومت سے کہا تھا کہ وہ اسکولي بچوں ميں بڑھتي ہوئي نشے کي لعنت کے خاتمے کے ليے 6مہينے کے اندر ايک قومي منصوبہ بنائے۔ مگرحالات يہ ہيں کہ اب ڈيڑھ برس سے زيادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھي عدالت کو اپنے اس فيصلے سے متعلق عمل کرنے کے ليے حکومت کو ياددہاني کراني پڑرہي ہے۔

سپريم کورٹ کا ايسا ہي حکم 2014 ميں ايک تنظيم ’جنرل نالج ‘بلوچستان کے ذريعے دائر کي گئي مفادعامہ کي ايک عرضداشت پر آيا تھا۔ اس عرضداشت ميں تعليم  يافتہ ’’عابد عمر ‘‘کي تنظيم کي جانب سے پيش ہوئے سينئر وکيل ايچ ايس اجمل نيازي نے ملک کے ہر ضلع ميں يہ خراب عادت چھڑانے کے ليے خاص طور پر ڈرگس لينے والے بچوں کے ليے الگ سے انتظام کرنے کا حکم جاري کرنے کي بھي درخواست کي تھي۔ اس سلسلے ميں دائر عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے اس وقت کے چيف جسٹس نے مرکزي حکومت کو اس کے ليے ايک قومي سطح کا سروے کرانے کے ليے بھي کہا تھا۔ اس سروے ميں پورے ملک ميں اسکولوں ميں پڑھنے والے بچوں ميں الکوحل، مختلف اقسام کے ڈرگس اور ديگر اشيا کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کرکے جمع کرنا تھا۔ ليکن ابھي تک اس کا کوئي مؤثر حل تلاش نہيں کيا جاسکا ہے، جس سے بچوں ميں پھيلتے ہوئے اس زہريلے مادّے سے نجات حاصل کي جاسکے۔

 بچوں ميں بڑھنے والي اس بري عادت سے پاکستان  کے دانشور ہي پريشان نہيں ہيں،بلکہ عالمي سطح پر جائزہ لينے پر پتا چلتا ہے کہ جرمني بھي اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے ليے بہت پريشان ہے۔ وہاں پر اسکولوں کے باتھ روم ميں نشيلي سگريٹ پينا اور ميدانوں ميں نشيلي دواؤں کا استعمال بڑي تيزي سے بڑھا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کي جانب سے جاري کيے گئے اعدادوشمار کے مطابق اسکولوں ميں نشيلي دواؤں سے جڑے جرائم کرنے والے بچوں کي تعداد جتني زيادہ اب ہے، اس سے پہلے کبھي نہيں تھي۔ مثال کے طور پر رياست باڈين وورٹيمبرگ ميں 2011سے 2015 کے درميان اس طرح کے جرائم ميں تين گنا اضافہ ہوا۔ کئي رياستوں کي وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نشيلي دواؤں کے استعمال کو معاشرہ زيادہ سنجيدگي سے نہيں لے رہا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق يہ دوائيں ايسے نوجوانوں کے درميان پھيلائي جارہي ہيں، جو انٹرنيٹ پر بہت زيادہ سرگرم رہتے ہيں۔ ان نشيلي دواؤں کو ايسي مزے دار چيز کے طور پر پيش کيا گيا ہے، جس کا کوئي خطرہ نہيں ہے۔ ساتھ ہي ان دواؤں کي خريد ميں بھي آسانياں ہيں، يہاں انٹرنيٹ کا رول بڑي خراب اور جان ليوا شکل ميں سامنے آتا ہے۔

depressed

 ريسرچ ميں يہ بات سامنے آئي ہے کہ بچوں ميں نشے کي يہ عادت ان کے غلط لوگوں ميں اٹھنے بيٹھنے کے سبب بڑھ رہي ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور ساتھيوں کو جب نشہ کرتے ہوئے ديکھتے ہيں تو شروع ميں يہ ہوتا ہے ’آؤ يار انجوائے کرو‘ پھر انجوائے کرتے کرتے يہ عادت لعنت کي شکل اختيار کرليتي ہے۔ کئي مرتبہ ايسا بھي ہوتا ہے کہ بچے اپنے گھر پر بڑوں يا سرپرستوں کو سگريٹ پيتے يا کوئي نشہ کرتے ہوئے ديکھتے ہيں تو وہ خود بھي ايسا ہي کرنے سے متعلق پہلے سوچتے ہيں اور پھر اس کا شکار ہوجاتے ہيں۔ يہ ٹسٹ کرنے اور ذائقہ لينے سے شروع ہونے والي شئے انہيں اپني گرفت ميں لے ليتي ہے۔ يہ بھي ديکھا گيا ہے کہ بچے فلم يا ٹيلي ويژن پر کسي پروگرام ميں اپنے پسنديدہ ہيرو يا ولن کو سگريٹ پيتے ہوئے يا ڈرگس ليتے ہوئے ديکھتے ہيں تو خود بھي ايسا ہي کرنے لگتے ہيں۔ محض ذائقے سے شروع ہوئي يہ عادت لعنت کب بن گئي، پتا ہي نہيں چلتا۔

 آج سنگل فيملي سسٹم ہے، جس نے بچوں کي زندگي تباہ کرنے ميں اہم کردار ادا کيا ہے۔ سنگل فيملي سسٹم کے فوائد اپني جگہ ليکن اس کے جو نقصانات سامنے آرہے ہيں، وہ حيران کردينے والے ہيں۔ والدين دونوں اپني اپني ملازمت کے ليے نکل جاتے ہيں اور اپني بھاگ دوڑ بھري مصروفيت کے سبب بچوں پر پوري توجہ نہيں دے پاتے۔ سرپرستوں کي غيرموجودگي ميں بچے کو غلط سنگت اختيار کرتے دير نہيں لگتي اوريہيں سے اس کے نشہ کرنے کا آغاز ہوتا ہے۔ نشہ کسي بھي قسم کا ہو، اس کو چھڑانا بڑا مشکل کام ہے۔ اس کے ليے خود پر قابو رکھنا پہلي شرط ہے۔ بچوں کو سکھائيں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھنا سيکھيں۔ انہيں بتائيں کہ جب بھي سگريٹ پينے يا نشہ کرنے کي خواہش ہو تو خود پر کنٹرول کريں اور اپنا دھيان کسي اور چيز کي جانب کرنے کي کوشش کريں۔

 اس کے نقصانات سے متعلق بچوں سے گفتگو کريں۔ ان کے ليے وقت نکاليں۔ اگر کوئي شخص خود اسي طرح کي کسي لعنت ميں گرفتار ہے تو وہ نہ تو بچوں سے ايسي چيزيں منگائے اور نہ ان کے سامنے ان کا استعمال کرے.بچوں کے ليے يہ بھي بہتر ہے کہ انہيں کسي تعميري مشن پر لگائيں۔ اس کام ميں انہيں بے حد مصروف کرديں۔ بچوں کو بھي سمجھنا چاہيے کہ ان کے حق ميں کيا بہتر ہے اور کيا نقصان دہ۔ ان کے اندر تعميري جذبہ پيدا ہونا ضروري ہے۔ اس ميں ہماري خطائيں بھي کم نہيں ہيں۔ ہميں اپني کوتاہيوں کو بھي دور کرنا چاہيے۔ کوئي بھي معاشرہ اسي وقت ترقي کرتا ہے اور پروان چڑھتا ہے جب اس کے افراد زندگي گزارنے کے طورطريقوں پر سنجيدگي سے غور کرتے ہيں۔ ليکن ہمارے يہاں عام طور پر بچوں کي صحت اور ان کے دن رات کيسے گزرتے ہيں، اس پر سنجيدگي سے غورنہيں کيا جاتا ہے، اس وجہ سے اس طرح کي عادتيں ان ميں پنپتي ہيں، جن کا درج بالا سطور ميں ذکر کيا گيا۔ ہميں يہ بھي سوچنا چاہيے کہ بچوں کا اس لعنت کے شکار ہونے کا مطلب ہے آنے والي پوري نسل اور معاشرے کي تباہي۔ اس سے نہ صرف ان کي زندگي متاثر ہوتي ہے، بلکہ ان کے بہتر اور شاندار مستقبل پر بھي سواليہ نشان لگ جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کي ہے کہ ايسے واقعات اگرچہ کم ہي کيوں نہ ہوں، ان پر سنجيدگي سے غوروفکر کيا جائے اور ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل تيار کيا جائے، تاکہ کوئي يہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے اپنے بچوں پر توجہ نہيں دي، جس کي وجہ سے وہ خراب سنگت اور نشہ کي لعنت کا شکار ہوگئے۔ وقت کي قدر کريں اور ذرا بھي وقت نہ گنوائيں، خواہ کتني بھي مصروفيت ہو، بچوں کے ليے وقت نکاليں۔ ان سے دوستانہ انداز ميں گفتگو کو اپنا وتيرہ بناليں اور ممکنہ حد تک بچوں کے تئيں نرم رويہ اختيار کريں۔ يقيناًآپ کا مستحکم لائحہ عمل نشے کے شکار بچوں کے ليے کسي نويدِ جاں فزا سے کم نہيں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *