کشمیر کمیٹی

تحریر :عبد الباسط شاہد

کم و بيش ايک سو سال گزرے غير منقسم ہندوستان کے بعض درد مند مسلمان معززين شملہ (جو موسم گرما کا دارالحکومت تھا ) ميں جمع ہوئے۔ اس اجتماع کا مقصد يہ تھا کہ کشمير ميں ہمارے مسلمان بھائي بہت ذلت اور غربت کي زندگي گزار رہے ہيں انہيں کسي قسم کے کوئي حقوق حاصل نہيں ہيں۔ ہندوستان کے مسلمان ان کي کيا مدد کر سکتے ہيں۔

 غوروفکر کے بعد يہ فيصلہ ہوا کہ ايک آل انڈيا کشمير کميٹي قائم کي جائے جو مظلوم کشميري مسلمانوں کو ان کے حقوق دلانے کيلئے ہر ممکن امداد مہيا کرے۔ آل انڈيا کشمير کميٹي کي صدارت يا سربراہي کيلئے تمام حاضر ممبران نے جن ميں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نماياں تھےباصرار حضرت مرزا بشير الدين محمود احمد صاحب امام جماعت احمديہ کو ان کے تدبر، فراست، معاملہ فہمي اور ان کے ساتھ کام کرنے والے فدائي کارکنوں کو خراج تحسين پيش کرتے ہوئے اس کميٹي کي صدارت کے فرائض سر انجام دينے کي درخواست کي۔  حضور نے اپني مذہبي اور جماعتي ذمہ داريوں کي وجہ سے معذرت کي تا ہم ان احباب کے اصرار پر آپ نے مظلوم مسلمانوں کي امداد کي اہميت کے پيشِ نظر اس ذمہ داري کي ادائيگي پر آمادگي ظاہر فرمائي ۔

حضرت امام جماعت احمديہ اپني اولوالعزمي اور تدبر کي وجہ سے ہر کام پوري مستعدي اور تيزي سے انجام ديا کرتے تھے۔ آپ نے فوري طور پر اس کميٹي کا کام اس طرح شروع کيا کہ دنيا حيران رہ گئي۔ آپ نے سب سے پہلے تمام مسلمانوں کو اس قومي مفاد کے کام کيلئے اتحاد و اتفاق کي دعوت دي۔

 کشمير کاز کيلئے مالي قرباني کي ضرورت تھي ۔ جماعت نے اپني روايات کے مطابق کھلے دل سے قرباني کي اور اگر يہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ افراد جماعت شہد کي مکھيوں کي طرح اپني اپني جگہ اپنے فرائض پوري مستعدي سے ادا کرنے لگے ۔

ہندوستان پر اس زمانے ميں انگريز حکومت تھي اور ضروري تھا کہ کشميريوں کي مظلوميت کے متعلق ارکان حکومت کو آگاہ کيا جائے ۔ اس وقت کسي جماعت يا کميٹي کو يہ سہولت ميسر نہ تھي تا ہم خداتعاليٰ کے فضل سے جماعت کو يہ سہولت ميسر تھي ۔لندن اور يورپ کے دوسرے ممالک ميں احمدي مبلغين موجود تھے۔ جوحضور کي تحريکات اور بيانوں کو انگريزي ميں ترجمہ کر کے بلاتاخير ارکانِ حکومت تک پہنچاتے رہے۔ اس طرح خداتعاليٰ کے فضل سے ديکھتے ہي ديکھتے کشميريوں کو بنيادي انساني حقوق ملنے لگے۔ اور ہندوستان کي حکومت ہي نہيں انگريز حکومت لندن ميں بھي پوري طرح يہ سمجھنے لگي کہ اب کشميري مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ روکنا پڑے گا کيونکہ اب ان کو زبان مل گئي ہے اور ان کي امداد پر مؤثر آواز اٹھنے لگي ہے۔

 کشمير کے ڈوگرہ راج اور ہندو کانگريس کو مسلمانوں کي يہ مؤثر اور مفيد تحريک ناپسند تھي اور انہوں نے مسلمانوں ميں سے بعض لوگوں کو اس بات پر آمادہ کيا کہ وہ آل انڈيا کشمير کميٹي کي مقبوليت کوکم کرنے کيلئے آگے آئيں۔ يہ ايک تاريخي اور مسلمہ حققيت ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ايک کانگريسي ليڈر کي سرپرستي ميں مجلس احرارقائم ہوئي جو جماعت احمديہ کي مخالفت کا نعرہ بلند کرکے ہندو مفاد کيلئے سر گرم ہوگئي۔ ان کا پہلا نعرہ يہ تھا کہ وادئ کشمير ميں آل انڈيا کشمير کميٹي کے اثر و رسوخ کي وجہ سے احمديت پھيل رہي ہے۔ اس امر کو تقويت دينے کيلئے انہوں نے ڈاکٹر محمد اقبال کو جن کے اصرار پر آل انڈيا کشمير کميٹي کي صدارت حضرت امام جماعت احمديہ نے قبول کي تھي انہيں جماعت کي مخالفت پر آمادہ کيا۔

 حضور کو تو اس سياسي کام سے کسي قسم کے فائدہ اٹھانے کا کوئي لالچ نہيں تھا اور آپ نے سراسر اسلامي خدمت اور مسلمانوں کے مفاد کيلئے اس کام کو اپنے ہاتھ ميں ليا تھا چنانچہ آپ اس کام سے ايک طرف ہو گئے۔ علامہ اقبال کي شہرت و مقبوليت کي وجہ سے انہيں صدارت کا کام تفويض کيا گيا تاہم انکي فلاسفي اور شاعري کسي کام نہ آئي اور آل انڈيا کشمير کميٹي اپني موت مر گئي۔ کشميري مسلمانوں کي داد رسي کا جو کام شروع ہوا تھا وہ ختم ہو گيا اور آج تک کشميري اسکي سزا بھگت رہے ہيں۔ کشمير سلگ رہا ہے۔ لاکھو ں مسلمان ہر طرح کے مظالم ميں پِس رہے ہيں۔ اگر ہندو تعصب کے زيرِ اثر نام نہاد احرار نے وسوسہ اندازي سے کام نہ ليا ہوتا تو بلا خوف ترديد کہا جا سکتا ہے کہ کشمير دنيا ميں ايک منفرد مقام پر ہوتااورداد رسي اور انصاف مانگنے کيلئے کسي اور طرف ديکھنے کي ضرورت نہ پڑتي۔ کشمير کے قدرتي نظارے ،کشميريوں کي ہنر مندي اور ذہانت اس پس ماندہ علاقے کو بہت بلنديوں پر لے جا چکے ہوتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *