کراچی: بوہڑ کا دودھ موجود مگر برگد کے درخت لاپتہ

اگر آپ کراچي ميں رہتے ہيں تو ساحلِ سمندر کلفٹن پر ضرور گئے ہوں گے۔ براستہ دو تلوار آپ شاہراہ ايران سے جائيں يا پھر حاتم علوي روڈ سے سڑک کے دونوں اطراف موجود برگد کے درخت بازو پھيلائے آپ کا استقبال کرتے ہيں۔ ليکن کبھي آپ نے سوچا کہ ان برگد کے درختوں کي تعداد کتني تھي اور اب کتني رہے گئي ہے؟

نيچرل ہيريٹيج ايسوسي ايشن آف کراچي کي تحقيق کے مطابق اب اس علاقے ميں برگد کے درختوں کي تعداد صرف 68 رہے گئي ہے۔ تاہم اس تحقيق کے بعد بالاآخر برگد کو شہر کا ورثہ قرار ديا گيا ہے۔

کمشنر کراچي نے ايک نوٹيفيکيشن کے ذريعے کلفٹن اور کراچي کے ديگر علاقوں ميں برگد کے درخت کو شہر کا ورثہ قرار دينے کے ساتھ متنبہ کيا ہے کہ کوئي شخص يا ادارہ ان درختوں کو نقصان پہنچانے کا مرتکب ہوا تو اس کے خلاف سندھ قومي ورثہ ايکٹ کے تحت کارروائي کي جائے گي۔

کمشنر نے حکم نامے ميں واضح کيا ہے کہ يہ درخت شہر ميں کٹائي کے خطرے سے دوچار ہيں۔ لاپرواہي، دانستہ کٹائي اور ناعاقبت انديش لوگوں کي وجہ سے يہ ناپيد ہو رہے ہيں۔ کمشنر کراچي نے تمام ڈپٹي کمشنرز کو ہدايت کي ہے کہ وہ برگد کے درختوں کا سروے کريں ان پر نمبر اور علامات لگائي جائيں۔

ہوا بندر سے کلفٹن

موجودہ کلفٹن کے علاقے کو پہلے ہوا بندر کہا جاتا تھا، جہاں ايک طرف بزرگ عبداللہ شاہ غازي کا مزار ہے تو ساتھ ميں ہي قديم مہا ديو مندر ہے۔

نيچرل ہيريٹيج ايسوسي ايشن آف کراچي کي سرکردہ رکن ماروي مظہر کے مطابق ’کلفٹن پہلے ايک جزيرہ تھا جہاں پر بڑے پيمانے پر بديسي پرندے بھي آ کر رکتے تھے۔ بعد ميں اس جزيرے کو زميني علاقے سے منسلک کر ديا گيا، اس وقت کي منصوبہ بندي کے تحت يہاں سڑکوں کے کنارے برگد کے درخت لگائے گئے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ کراچي پر انگريزوں کے قابض ہونے کے بعد انھوں نے پہلے يہ عمارتيں تعمير کيں جس کے بعد پارسي کميونٹي کے لوگ يہاں منتقل ہو گئے اور يہ شہر کا پوش ترين علاقہ تصور کيے جانے لگا۔

برگد کے درختوں کا نوحہ

کراچي کي تاريخ پر کتاب کراچي سندھ کي مارئي کے مصنف گل حسن کلمتي بتاتے ہيں کہ ايم اے جناح روڈ پر بلوچ پارک، گرو مندر، دھوبي گھاٹ، لياري کي موسيٰ لائن، ريکسر لائن، کلفٹن برج اور اولڈ کلفٹن کے علاقے ميں برگد کي درختوں کي بہتات تھي۔

اس کے علاوہ منگھو پير ميں جزام ہسپتال اور ڈملوٹي ويلز، جہاں سے ملير اور کراچي کے ديگر علاقوں کو پاني کي فراہمي ہوتي تھي، پر برگد کے درخت موجود تھے ليکن آہستہ آہستہ يہ لاپتا ہو گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ گھروں سے کٹائي ميں تو شہري ملوث ہو سکتے ہيں ليکن سڑک کے کنارے اور پارکوں سے جو درخت کاٹے گئے ان ميں اداروں کي مرضي و منشا شامل تھي۔

کراچي ميں اس وقت ديہي علاقوں اور اولڈ کلفٹن ميں برگد کے درخت ديکھے جا سکتے ہيں۔ ماروي مظہر کا کہنا ہے کہ کلفٹن ميں انڈر پاس کي تعمير سے يہ درخت متاثر ہوئے، جس کے بعد پکي سڑکوں، مون سون کي بارشوں اور ديمک نے انھيں کمزور کيا۔

’درختوں پر فٹ پاتھ بنائے گئے جس کي وجہ سے ان کي جڑيں کمزور ہوئيں اور انھيں بڑھنے اور سانس لينے ميں مشکلات ہو رہي ہے، اس کے علاوہ وزن بڑھنے کي وجہ سے بھي کئي شاخيں گر جاتي ہيں۔‘

اس تحقيق کي دوران کلفٹن کے بعض رہائشيوں کے انٹرويو بھي ليے گئے جس ميں يہ بات سامنے آئي کہ غير قانوني ٹمبر مافيا اکثر ان علاقوں کے رہائشيوں کو غلط معلومات ديتي اور انھيں درختوں کي زيادہ سے زيادہ کٹائي ميں مشغول ہونے پر راضي کر ليتي ہے۔

ماروي مظہر کے مطابق برگد کي لکڑي اتني مضبوط نہيں ہوتي۔

مقدس درخت

bargad

اردو ميں برگد، پنجابي ميں بوہڑ جبکہ سندھي، ہندي اور مراہٹي ميں اسے بڑ کہتے ہيں۔ ابتدا ميں اس کے پتے نرم ہوتے ہيں جن کي رنگت سرخي مائل ہوتي ہے اور بعد ميں يہ سبز ہو جاتے ہيں ۔اس ميں پھل بھي لگتا ہے جو سرخ اور بير کي طرح ہوتا ہے جو پک کر سياہي مائل سرخ ہو جاتا ہے۔

برگد کا درخت ادب ميں ايک ديو مالائي کردار رہا جبکہ ہندو اور بدھ مذہب کے پيروکار برگد کو مقدس سمجھتے ہيں، ہندو دھرم ميں اس کو ديويوں اور ديوتاؤں سے بھي منسوب کيا جاتا ہے۔ پھلوں کے ساتھ برگد کے پتے بھي چڑھاوے کے ليے استعمال کيے جاتے ہيں جبکہ ان پر کھانا بھي کھايا جاتا ہے۔

گوتم بدھ نے چھ سال برگد کے درخت کے نيچے ہي بيٹھ کر تپسيا کي تھي جب انھيں نروان ملا۔ بعض درگاہوں اور مزارات پر بھي يہ درخت نظر آتے ہيں۔

پرندوں کا آشيانہ

نيچرل ہيريٹيج ايسوسي ايشن آف کراچي کي تحقيق کے مطابق اولڈ کلفٹن کے اس علاقے کے آس پاس تعليمي ادارے اور غير ملکي سفارتخانے واقع ہيں، برگد کے ان درختوں پر چڑيوں، چيلوں، کوئل اور مينا سميت 12 اقسام کے پرندوں کے آشيانے ہيں۔

کراچي يونيورسٹي کے شعبہ نباتات کے سربراہ ڈاکٹر سيد احتشام الحق کا کہنا ہے کہ برگد مقامي درخت ہے جو شہري جنگلي حيات کے ليے موزوں ہے کيونکہ اس کا سايہ بھي گھنا ہوتا ہے اس ميں پرندوں کے ليے پھل بھي دستياب ہے۔

موسمي تبديليوں سے بھي برگد متاثر

کراچي ميں چند برسوں سے درجہ حرارت ميں اضافے کے بعد صوبائي حکومت اور شہري اداروں کي جانب سے شجرکاري کي مہم چلائي جا رہي ہے۔ ڈاکٹر سيد احتشام الحق کا کہنا ہے کہ مقامي درختوں کو اس مہم ميں نظر انداز کيا گيا۔

’برگد کي افزائش تيزي کے ساتھ نہيں ہوتي کيونکہ پرندوں کے ذريعے اس کي فطري افزائش کا سلسلہ رک گيا ہے کيونکہ ہمارے يہاں پر پرندے محدود ہو گئے ہيں اس ليے قدرتي طور پر ان درختوں کي افزائش کم ہو گئي ہے۔ اس درخت کي عمر ہزاروں سال تک ہوتي ہے اور پھيلاؤ بھي زيادہ ہوتا ہے ليکن بارشوں ميں کمي اور ہيٹ ويو کي وجہ سے بھي ديگر درختوں کي طرح برگد کي افزائش متاثر ہوئي ہے۔

بوہڑ کا دودھ

کراچي کي ديواروں، پنساريوں اور ايمپريس مارکيٹ کي چند ايک دکانوں پر ايک اشتہار واضح طور پر نظر آتا ہے ’مردانہ کمزوري کا خاتمہ۔ بوہڑ کا دودھ يہاں دستياب ہے۔‘ ليکن حکمت يا آيورويدک ميں جس درخت سے يہ دودھ حاصل کرنے کا دعويٰ کيا جاتا ہے وہ ’برگد‘ اب کراچي سے آہستہ آہستہ لاپتا ہو رہا ہے۔

کراچي سندھ کي مارئي کے مصنف گل حسن کلمتي کا کہنا ہے کہ کچھ مقامي لوگ برگد کو کٹ مار کر اس کا رس جمع کرتے تھے جو حکيموں کو فروخت کيا جاتا تھا، ان مزدوروں کو دھکي يا چوٹ لگانے والے کے نام سے پہچانا جاتا تھا ليکن ديہي کراچي ميں اب يہ سلسلہ ختم ہو گيا ہے۔

برگد کا تحفظ کيسے ممکن ہے؟

نيچرل ہيريٹيج ايسوسي ايشن آف کراچي کي جانب سے پيش کي گئي تجاويز ميں پہلي تجويز حکومت نے تسليم کر لي اور برگد کو ورثہ قرار دے ديا تاہم ماروي مظہر کا کہنا ہے کہ درختوں کي ديکھ بال کے بغير يہ اقدامات غير موثر رہيں گے۔

’ان درختوں کي چھٹائي اور ديکھ بھال سے درختوں کو گرنے سے بچايا جا سکتا ہے، ان پر ديمک سے بچاؤ کي ادويات استعمال کي جائيں تاکہ سڑن سے محفوظ رہيں۔ درختوں کے گرد باڑ لگانے اور نشستيں لگانے سے عوام کو بيٹھنے کي جگہ ميسر ہو گي اور اس کے ساتھ يہ درخت کسي نقصان سے بھي محفوظ رہيں گے۔ ان پر لائٹس اور خوبصورتي سے علاقے کے جمالياتي حسن ميں بھي اضافہ ہو گا۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *