یروشلم کی سیر

شعبہ انٹرنیشنل لاہور انٹرنیشنل نیوز ڈیسک

بچو ! يوں تو يروشلم ميں بہت سے ايسے مقامات ہيں جو کسي نہ کسي حوالے سے يہوديوں ، عيسائيوں اور مسلمانوں کے نزديک مقدس ہيں ليکن چند ايک بہت زيادہ مشہور ہيں۔ ان مشہور مقامات ميں ’’ حرم شريف ‘‘ کا احاطہ جس ميں مسجد اقصيٰ اور قبة الصخرة (چٹان پر بنايا گيا گنبد) يہوديوں کي ديوار گريہ اور عيسائيوں کا مقدس ترين مقام قبر مسيح (وہ کمرہ نما قبر جس ميں صليب سے اتارنے کے بعد حضرت عيسيٰ عليہ السلام کو رکھا گيا تھا۔ عيسائيوں کے نزديک آپ نے صليب پر وفات پائي ليکن جماعت احمديہ يقين رکھتي ہے کہ اللہ تعاليٰ نے آپ کو ايسي بري موت سے بچايا) شامل ہيں۔ يہ سب مقامات يروشلم کے قديم شہر ميں واقع ہيں۔ دراصل آج کل کا يروشلم دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ايک جديد شہر اور ايک قديم۔ قديم شہر ہزاروں برس پرانے کھنڈرات کے اوپر متواتر تعمير ہونے والي آبادي ہے اور يہ تين حصوں ميں تقسيم ہے۔ يہودي محلہ، مسلمان محلہ اور عيسائي محلہ۔ آرمينيا کے عيسائيوں کا اپنا الگ ايک محلہ ہے۔ حرم شريف اس قديم شہر کا پانچواں حصہ ہے۔ قديم شہر کے گرد 40فٹ اونچي ديوار ہے جو کہ کم از کم 400 برس پراني ہے البتہ اس کے بعض حصے اس سے زيادہ قديم زمانے کے بھي ہيں۔ اس ديوار کے آٹھ دروازے ہيں۔ ان دروازوں ميں يافا (Jafa) گيٹ، باب الدمشق اور سنہري دروازہ وغيرہ اہم ہيں۔ 

1۔  مسجد اقصيٰ اور قبة الصخرة

حضرت عمرؓ نے يروشلم کا سفر فرمايا تو معادہ کے فوراً بعد ايک مقام کو پسند فرما کر جو اس وقت کوڑے کرکٹ سے بھرا ہوا تھا صاف کروايا اور وہاں مسجد بنانے کا حکم ديا۔ مورخين کے بقول حضرت عمرؓ نے مسجد دائود کي تلاش کروائي اور اس جگہ کي نشاندہي ہونے پر يہاں مسجد تعمير فرمانے کا ارشاد فرمايا۔ 

اس کے بعد ايک صاف مقام پر آپ نے نماز باجماعت کروائي ۔ اس موقع پر حضرت بلالؓ نے اذان دي۔ اگرچہ آپ نے حضور اکرمؐ کي وفات کے بعد اذان دينا ترک فرماديا تھا۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ صحابي رسول کو يروشلم کا قاضي مقرر فرمايا ۔ اس زمانے ميں يروشلم کو ايليا کہتے تھے۔

670عيسوي تک اس مقام پر جسے حضرت عمرؓ نے تعمير کروايا تھا ايک سادہ سي مسجد تھي جسے بعض پراني بنيادوں پر بڑے بڑے لکڑي کي شہتير رکھ کر بنايا گيا تھا جس ميں بيک وقت 3000 (تين ہزار) نمازي نماز ادا کرسکتے تھے۔ اسلامي دور ميں يروشلم کا روم نام ايليا ختم کرديا گيا اور يہ ’’ البيت المقدس ‘‘ کہلايا جو بعد ميں بيت المقدس اور قدس بھي کہلايا۔ 

بنو اميہ کے دور حکومت ميں سادہ سي مسجد کي جگہ ايک عاليشان سي مسجد تعمير کي گئي جسے مسجد اقصيٰ کا نام ديا گيا۔ دراصل مسجد اقصيٰ اور اس کے ساتھ ساتھ ايک قديم چٹان پر قبة الصخرة (چٹان پر بنايا گيا گنبد) کي بنياد اموي حکمران عبدالمالک بن مروان نے 72ھ (690ء) ميں رکھي۔ يہ دونوں عمارتيں جس احاطہ ميں واقع ہيں اس کو ’’ حرم شريف ‘‘کہتے ہيں۔ 

عبدالمالک بن مروان کے شروع کردہ اس تعميراتي سلسلے کو اس کے بيٹے وليد نے پايہ تکميل تک پہنچايا۔ کہتے ہيں يہ مسجد چھ برس ميں مکمل ہوئي اور اس پر وليد کي وسيع و عريض سلطنت کي سات برس کي آمدني خرچ ہوئي۔ مسجد کے دروازوں پر سونے اور چاندي کي تختياں لگوئي گئيں اور تين سو خادم مقرر کئے گئے۔ 

اموي اور عباسي حکمران بار بار يروشلم ميں حاضر ہوتے اور مسجد اقصيٰ کے حسن ميں اضافہ کرواتے رہے۔ يہ عمارت بار بار زلزلوں سے تباہ ہوتي رہي اور بار بار اسے تعمير کيا جاتا رہا اور اس کے حسن ميں اضافہ کيا جاتا رہا۔ يوں يہ عالم اسلام کي وسيع ترين مساجد ميں سے ايک بن گئي۔ 

عرب جغرافيہ نويس اور مورخ مسجد اقصيٰ سے حرم شريف کا پورا علاقہ مراد ليتے ہيں۔ تاہم آج کل مسجد اقصيٰ سے مراد مسجد کي عمارت لي جاتي ہے اور حرم شريف سے پورا احاطہ مراد ليا جاتا ہے۔ 

مقدس چٹان کے اوپر امويوں نے جو بڑا سنہري گنبد بنوايا تھا اور اسے قبة الصخرة کا نام ديا تھا۔ يورپين لوگوں نے غلطي سے اسے مسجد عمر کا نام دے ديا حالانکہ يہ محض ايک گنبد ہے جو اس مقدس چٹان کے لئے تعمير کرايا گيا تاہم 90 برس تک يہ عمارتيں يروشلم کے ساتھ ساتھ عيسائي قبضہ ميں رہيں اور وہ مسجد اقصيٰ کو رہائش کے لئے استعمال کرتے رہے يہاں تک کہ صلاح الدين ايوبي نے يروشلم کو دوبارہ فتح کيا۔ 

ديوار گريہ

يروشلم ميں وہ مشہور ديوار واقع ہے جسے ديوار گريہ (رونے کي ديوار) کہا جاتا ہے۔ پرانے زمانے سے يہودي اس ديوار کے پاس آکر روتے گڑگڑاتے ہيں اور اپنے پرانے دنوں اور عظمت کے لوٹنے کي دعائيں کرتے ہيں۔ يہ دراصل اس ہيکل کي باقي ماندہ ديوار ہے جسے ہيروديس اعظم نے تعمير کرايا تھا جو روميوں کي حکومت کے زمانے ميں فلسطين کاحکم تھا۔ حضرت سليمانؑ کے تعمير کردہ ہيکل کے کوئي آثار آج باقي نہيں ہيں۔

قبر مسيح 

عيسائيوں کا يہ غلط عقيدہ ہے کہ حضرت عيسيٰ عليہ السلام صليب پر وفات پاگئے۔ ان کے نزديک آپ کے جسم کو جس کمرہ نما قبر ميں صليب سے اتارنے کے بعد رکھا گيا وہ نہايت متبرک مقام ہے۔ وہ يہ خيال کرتے ہيں کہ اس کمرہ نما قبر سے آپ دوبارہ زندہ ہوکر جي اٹھے حالانکہ يہ بات غلط ہے۔ جب کوئي انسان ايک مرتبہ وفات پاجائے تو وہ دوبارہ کبھي زندہ نہيں ہوسکتا۔ بات دراصل يہ ہے کہ زخموں اور اذيت کي وجہ سے حضرت عيسيٰ عليہ السلام بے ہوش ہوگئے تھے ۔ آپ کو ايک کمرہ نما چٹان ميں کھدي ہوئي قبر ميں رکھا گيا اور ہوش ميں آنے کے بعد آپ اس ميں سے نکل کر گليل نامي ايک مقام پر چلے گئے اور پھر فلسطين سے ہجرت فرما گئے۔ 

يوں بچو ! يروشلم شہر کے بارے ميں ہماري مختصر سي کہاني ختم ہوئي۔ جب آپ بڑے ہوں گے تو کتابو ں ميں تفصيل سے اس کے بارے ميں پڑھنا ليکن اتنا ياد رکھنا کہ اصل عظمت خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ کي ہے۔ يروشلم بھي مقدس ہے ليکن ان کے بعد اور ايک بات اور ياد رکھنا کہ اللہ تعاليٰ کا وعدہ ہے کہ ارض مقدس کے مالک بالآخر اس کے نيک بندے ہي ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *