کالی بلی نے میرا راستہ کیوں کاٹا؟

تحریر: حماد حیات خان

ہم اکثر بڑے بوڑھوں سے بہت سي ايسي باتيں سنتے ہيں۔ جو کہ ان کے تجربات و مشاہدات پر مبني ہوتي ہيں۔ جن ميں سے کچھ کا تعلق حقيقت سے ہوتا ہے اور کچھ سني سنائي ہوتي ہيں۔ جيسے کہ ہم اکثر يہ سنتے ہيں، کہ مچھلي کھانے کے بعد دودھ پينے سے اجتناب کريں، ورنہ جِلد کي بيماري لاحق ہو سکتي ہے۔ اکيسويں صدي کے اس دور ميں اگر ہم اس بات پر غور کريں، تو ہو سکتا ہے کہ مچھلي کے کچھ مخصوص اجزاء دودھ کے ساتھ مل کر کوئي جِلد کي بيماري پيدا کر ديں۔ اس کي کوئي کيميائي دليل ہو سکتي ہے۔ مگر کچھ سني سنائي باتيں ايسي ہوتي ہيں جن کا کوئي سر پير ہي نہيں ہوتا اور غور کرنے پر بھي ان کي وجہ سمجھ نہيں آتي۔

قصہ کچھ يوں ہے، کہ دو سال قبل ہمارے گھر والوں نے ہماري آزادي چھيننے کي ٹھان لي۔ چونکہ ان کو ہماري خوشي اور آزادي کھلنے لگي تھي۔ چونکہ فارغ اوقات ميں دوستوں ياروں کے ساتھ اٹھنا بيٹھنا، گھومنا پھرنا معمول اختيار کر چکا تھا۔ ايک خوبصورت لڑکي ڈھونڈ ڈھانڈ کر ہماري شادي کرا دي گئي۔ وہ يہ نہيں جانتے تھے کہ لڑکي خوبصورت ہو يا بدصورت ہوتي تو وہ لڑکي ہي ہے۔ شادي کے دو ماہ بعد ہي والدين نے دادا دادي بننے کي خواہش کا اِظہار کر ديا اور کچھ ماہ بعد ہم نے بالآخر ننھے مہمان کي آمد کي خوشخبري سنا دي۔

اور پھر کچھ ايسي باتيں سننے کا آغاز ہوا جو ميري سمجھ سے بالاتر تھيں اور ہيں، ۔ ايک دن سورج کو گرہن لگنا تھا اور زوجہ محترمہ معمول کے گھريلو کاموں ميں مشغول تھيںکہ ان سے يہ کہا گياکہ آج چھري، چاقو، قينچي يا کسي دھار والي چيز کا استعمال نہ کرنا اور کھلے آسمان تلے نہ جانا۔ ورنہ ہونے والے بچے ميں کوئي نقص واقع ہو جائے گا۔ يہ سن کر ميں حيرت ميں مبتلا ہوگيا کہ بھلا يہ کيسے ممکن ہے؟

اکيسويں صدي اور گوگل کے دور کا لڑکا ہونے کے ناتے ميں نے اس پر بہت تحقيق کي کہ يہ کيسے ممکن ہو سکتا ہے؟ مگر مجھے اس کي کوئي مناسب وجہ اور منطق سمجھ نہيں آئي۔ چند دن بعد گھر والوں کو يہ بھي کہتے سناکہ دلہن کے اگر بال گر رہے ہيں، تو لڑکے کي پيدائش يقيني ہے۔ ميں مزيد حيرت ميں مبتلا ہوگيا، کہ بھلا گرتے بالوں کا بچے کے جنس سے کيا لينا دينا ہوسکتا ہے؟ اسي طرح حاملہ خاتون کو يہ صلاح بھي دي جاتي ہے کہ کمرے ميں خوبصورت بچوں کي تصاوير آويزاں کرو اور ان تصاوير کو ديکھا کرو۔ تاکہ ہونے والا بچہ خوبصورت پيدا ہو۔

گھر والوں کے مطابق لڑکے کي پيدائش کي تمام نشانياں ميري زوجہ محترمہ ميں ہونے کے باوجود اللہ پاک نے ہميں بيٹي جيسي رحمت سے نوازا اور ہم دونوں مياں بيوي بہت خوش تھے۔ مگر پتا نہيں لڑکے کي پيش گوئياں کرنے والے کيوں نظريں چرا رہے تھے؟ ان سب باتوں کے باوجود بھي سني سنائي باتوں اور پيش گوئيوں کا خاتمہ نہ ہوا۔ اور ہمارے علمِ لاشعور ميں مزيد اضافہ ہوا۔ ہمارے گھر والوں نے يہ بھي بتايا کہ جو بچي اپنے پاؤں کا انگوٹھا منہ ميں ليتي ہے، وہ بہت خوش قسمت ہوتي ہے، بچي کو ٹيڑھا نہ سلاؤ، ورنہ اِس کے دانت ٹيڑھے نکليں گے، جن بچيوں کي رال زيادہ ٹپکتي ہے، اس کے ابا بہت مالدار ہوجاتے ہيں، بچوں کے اُوپر سے نہ پھلانگو، ورنہ اُن کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اب بھلا ان سب باتوں کا حقيقت سے کوئي تعلق بھي ہوسکتا ہے کيا؟ مجھے تو ان سب باتوں کي کوئي وجہ اور منطق سمجھ نہيں آتي اور معلوم نہيں بڑے بوڑھے يہ سب کيوں مانتے اور منواتے ہيں۔

اب کل ہي کي بات ليجيے، کہ ہم نے امي جان سے کہا کہ ”ہماري بچي سوتے ميں بہت چونکتي ہے“۔ تو ہميں ايک بہت ہي غير سائنسي و غير منطقي جواب سننے کو ملا، جو سن کر ميرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ وہ جواب اور طريقہ آپ سب کے گوش گزار کرتا ہوں۔ امي جان کا کہنا يہ تھا کہ بچي کے سرہانے کوئي لوہے کي چيز جيسا کہ چابي، نيل کٹر يا چاقو رکھ دو تو اِس سے بچے نيند ميں نہيں ڈرتے۔ ميں تو يہ منطق سُن کر بس سن سا ہو کر رہ گيا۔ دنيا چاند پر چلي گئي اور ہم چاقو، قينچي ميں ہي پھنسے ہوئے ہيں۔

مندرجہ بالا سني سنائي باتوں اور اِس جيسي کتني ہي سچي، جھوٹي موٹي روايات کو ہم رات دن سنتے ہيں اور کچھ پر عمل بھي کرتے ہيں اور کچھ کو ايک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا ديتے ہيں۔ ميرا ماننا تو يہ ہے کہ اس ترقي يافتہ دور ميں، ہم سب کو ايسي سني سنائي باتوں اور لغو روايات پر ہرگز بھي کان نہيں دھرنا چاہيے۔ جس کا کوئي سائنسي جواز اور حقيقت سے تعلق نہ ہو۔ مگر ايک بات آج تک مجھے شدت سے ستاتي ہے کہ جس دن ميري شادي تھي کالي بلي نے ميرا راستہ کيوں کاٹا تھا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *