تختِ لاہور کا لاہوري انصاف

تحرير: ابن قدسيؔ

پاني اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔اپنے دباؤکے تحت جس طرف اسے راستہ ملتا ہے وہ ادھر ہي چلا جاتا ہے ۔اگر اس کي مقدار کم ہوتوپھر بھي نقصان ديتا ہے ليکن اگر زيادہ ہوتو پھر وہ اپنا راستہ بناتے ہوئے تباہي مچا ديتا ہے ۔اس ليے اس کو قابو ميں رکھنے اور فائدہ اٹھانے کے ليے مخصوص راستہ دينا ضروري ہے ورنہ اس سے فائدے کي بجائے نقصان ہوتا ہے ۔ جب پاني کي مرضي چلتي ہے تو صرف اس کي چلتي ہے ۔باقي سب اس کے ساتھ چلتے ہيں ۔

قانون بھي اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔ پاکستان ميں رہتے ہوئے اس جملہ کو سمجھنا بہت آسان ہے کيونکہ يہاں بھي قانون ’’امير “کے ليے اپنا راستہ خود بناتا چلا جاتا ہے ۔اور يہ اپنا سفر اس وقت جاري رکھتا ہے جب تک ’’امير “ کو اس کي مرضي کا ’’انصاف “نہيں مل جاتا ہے ۔جس طرح پاني سے فائدہ اٹھانا کے ليے خرچ کرنا پڑتا ہے اور اپني مرضي کا راستہ بنا کر اس سے فائدہ اٹھايا جاتاہے۔ اسي طرح ’’قانون “کے ليے راستہ پيسے کے ذريعہ بن جاتا ہے ۔

پاکستان ميں اس وقت انصاف فراہم کرنے والي عدالتوں ميں بڑے ہائي پروفائل کيسز چل رہے ہيں ۔ليکن بس چل ہي رہے ہيں اور پوري قوم اس پتلي تماشے کو ديکھ رہي ہے ۔ پتلي تماشے ميں تو پھر بھي کوئي فائدہ ہوتا ہے تھوڑي دير کے ليےدل  بہل جاتي ہے ۔کچھ ذہيني آسودگي ميسر آجاتي ہے ۔ليکن اس عدالتي ’’پتلي تماشے‘‘سے توسوائے ذہني کوفت کے اور کچھ نہيں ہو رہا۔ عدالت اور اس کے بعد جيل تک ہمارا ہر سياسي ليڈر اس قدر بيمار ہوجاتا ہے کہ اسے فوراً انساني ہمدري کے تحت ہسپتال يا گھر منتقل کر ديا جاتا ہے ۔ويسے ان سياسي قائدين کو خراج عقيدت پيش کرنا چاہيے جو ہزارہا پيچيدہ بيماريوں کے باوجود قوم کي ’’خدمت “ ميں لگے رہتے ہيں ۔اگر يہ قانون ،عدالت يا جيل نہ ہوتي تو شايد يہ راز راز ہي رہتا ۔کہ کس ’’جانفشاني “کے ساتھ سياسي قائدين ’’ملکي سلامتي “کے ليے دن رات ايک کيے ہوئے تھے ۔وہ تو جب کوئي ريفرنس بنتا ہے ۔ريمانڈ ملتا ہے ،تفتيش شروع ہوتي ہے تو پتا چلتا ہے کہ موصوف کو تو کئي جان ليوا بيمارياں ہيں ۔آفرين ہے ہمارے  قومي ’’درد‘‘رکھنے والے عمائدين پر ۔اگر کہيں کوئي عدالت سزا دينے کي جرات کرلے تو پھر ايسي بيمارياں سر نکال ليتي ہيں جن کي تشخيص ہمارے ملک ميں ہو ہي نہيں سکتي ۔اس کے ليے صرف لندن ہے ۔

شريف خاندان گزشتہ تيس سال سے کسي نہ کسي رنگ ميں پاکستان پر حکمراني کر رہا ہے ۔پنجاب تو ويسے ہي ان کے زير نگيں رہا ۔تختِ لاہور ان کا گڑھ۔لاہور کے بارے ميں ہي ان کا دعويٰ ہے کہ يہ پيرس ہے ۔ايک پوري نسل ان کے  زير سايہ پروان چڑھي ہے ۔نہ شريف خاندان کا خيال تھا کوئي ان کي جگہ آسکتا ہے اور نہ کسي اور کا خيال تھا کہ ان پر زوال آئے گا ۔اس ليے ان تيس سالوں ميں آج تک کسي نے ان سے حساب نہيں مانگا ۔کيا عدالتيں کيا نيب۔کسي کي مجال نہيں تھي ۔اب ان پر مختلف کيسز بنے کئي ريفرنس دائر ہوئے۔شايد مزيد بھي ہوں ۔ حساب مانگا گيا تو کہا کہ سب کچھ ہے۔ سب”ذرائع‘‘ بتائے ليکن احتساب عدالت نے نواز شريف کو العزيزہ کيس ميں سزا سنائي ۔ دونوں بيٹے اشتہاري ہيں اگر وہ بھي پاکستان آجاتے اور عدالت کا سامنا کرتے تو شايد وہ بھي سزا يافتہ ہوتے ۔ وہ بيرون ملک ہيں اور ان کي واپسي في الحال نہيں ۔

اب نواز شريف ايک سزا يافتہ مجرم ہيں ۔جس کا انہوں نے ساري زندگي سوچا بھي نہيں ہوگا ۔کيونکہ عدالتوں سے انہيں ہميشہ فوري اور بروقت ’’انصاف“ مل جاتا ہے ۔چھٹي والا دن ہي کيوں نہ ہو۔عدالت لگتي ہے ۔بينچ بنتا ہے ۔جج بيٹھے ہيں ۔متلعقہ اداروں کي فوري طلبي ہوتي ہے ۔وکلاء کا کام بھي جج سنبھال ليتے ہيں ۔ڈرافٹ تک خود تيار کرتے ہيں ۔تمام قانوني تقاضے پورے کيے جاتے ہيں اور شريف خاندان کو فوري اور جلد تر’’انصاف‘‘مہيا کيا جاتا ہے۔خاص طور پر لاہور ہائي کورٹ نے تو تمام ترعدالتي  تيزيوں کے ريکارڈ توڑ ديئے ہيں ۔ايک دن ميں کئي کئي سماعتيں کرکے آدھے آدھے گھنٹے کا وقفہ دے کر جس تيزي سے فيصلہ صادر کرتے ہيں ۔اس سے عدالتوں پر عوام کا ’’اعتماد “بہت بڑھ گيا ہے ۔ايسے ہي عدالتوں کا نام بدنام کيا ہوا ہے کہ عدالت ميں جو معاملہ جاتا ہے وہ کئي نسلوں تک چلتا ہے ۔دادا نے کيس دائر کيا ہے تو پوتا ہي فيصلہ سن سکتا ہے ۔يہ سب غلط ثابت ہوگيا ہے ۔کيونکہ اب شريف خاندان کے تيس سالہ دور حکومت کے بعد تختِ لاہور کي عدالتوں کي ’’رفتار “اس قدر تيز ہے کہ شايد پوري دنيا سے قانوني ماہرين لاہور ہائي کورٹ سے ٹريننگ کے ليے اپلائي کريں گے کہ ان کو بھي اس طرح ٹريننگ ديں تاکہ  وہ بھي اس رفتا ر سے کام کر سکيں ۔

ساري دنيا اگر يہ ٹريننگ حاصل کر لے تو پھر بھي ہائي کورٹ کا ’’اعزاز“ قائم رہے گا ۔ساري دنيا اس تيز رفتاري سے عدالتي کارووائي کر بھي لے ليکن ان کے پاس شريف خاندان نہيں ہوگا ۔وہ عدالتيں جلدي انصاف مہيا کريں گي تو وہ انصاف ہوگا ۔اور ہر ايک کے ليے ہوگا ۔اس طرح تو ہر انصاف پسند عدالت کر ليتي ہے ۔اس طرح کا کام تو سارے کر ليتے ہيں ۔ليکن ہائي کورٹ لاہور کا انصاف ہي ’’لاہوري انصاف “ہے جو دنيا ميں کوئي اور نہيں دے سکتا ہے ۔

نواز شريف کو سزا ہوئي تو ن ليگ کي طرف سے مسلسل ضمانت کي کوشش ہو رہي تھيں ۔سزا معطلي کي کوشش،ججوں کو خريدنے ،دباو ڈالنے سے لے کر ميڈيا وارکو عروج تک پہنچايا ۔حکومت کسي طور سے بھي ريليف دينے کو تيار نہيں ہوئي۔ پھر  وہي ہوا جس کي اميد تھي ۔ہماري ’’معصوم عوام‘‘کو معلوم ہوا کہ ان کا ’’محبوب ليڈر‘‘تو کئي جان ليوا بيماريوں ميں مبتلا ہے اور اگر ان کو لندن کي ہوا نہ لگي تو مر جائيں گے ۔بھر پور کوشش کے باوجود حکومت غير مشروط طور پر لندن بھجوانے پر تيار نہيں ہوئي ۔7ارب کے بانڈز جمع کروانے کے بعد انساني ہمدردي کے تحت جانے کي مشروط اجازت دي گئي ۔بات تين سو ارب سے شروع ہوئي اور سات ارب تک پہنچي ۔شريف خاندان يہ سات ارب بھي بطور ضمانت جمع کروانے کے ليے تيار نہيں ہوا بلکہ غير مشروط طور پر جانے کي ضد کي۔حکومت کے موقف ميں لچک نہ ديکھتے ہوئے شريف خاندان نے آخر کار لاہور ہائي کورٹ سے”لاہوري انصاف “کے ليے  رجوع کيا ۔

نواز شريف کو اسلام آباد ہائي کورٹ سے علاج کے ليے آٹھ ہفتوں کي ضمانت ملي ہوئي تھي اس ليے اب مزيد کوئي کارووائي لاہور ہائي کورٹ ميں نہيں ہوسکتي تھي ۔اس ليے حکومت کي طرف سے يہ اعتراض اٹھايا گيا کہ لاہور ہائي کورٹ ميں شريف خاندان کي درخواست قابل سماعت نہيں ۔ليکن وہ شريف خاندان تھا جس کو کم از کم ’’لاہور ي  انصاب “جلد اور لازمي ملتا ہے ۔اس ليے لاہور ہائي کورٹ نے نہ صرف يہ فيصلہ کيا کہ درخواست قابل سماعت ہے بلکہ سوموار کي بجائے ايک دن بعد يعني ہفتہ کے روز کو ہي سماعت کے ليے مقرر کر ليا۔ہفتہ کو عام طور پر کسي کيس کي سماعت نہيں ہوتي ليکن يہ شريف خاندان تھا جس کے ليے ’’لاہوري انصاف “ہر وقت حاضر باش ۔ ايک ہي دن ميں کل  سات گھنٹوں کے اندر چار سماعتوں ميں دو بيان حلفي لے کر نواز شريف کو لاہور ہائي کورٹ سے ’’لاہوري انصاف‘‘ مل ہي گيا ۔ سات ارب کے بانڈز بھي ختم۔ايک ملزم نے مجرم کے بارے ميں بيان حلفي جمع کروايا اور لندن جانے کي اجازت ۔اس ملزم نے مجرم کے ساتھ روانگي کے اعلان کے ساتھ مٹھائياں تقسيم کروائيں ۔مجرم تو سزا يافتہ اور عدالت کے مطابق کرپٹ تھا ہي اور اس کي ضمانت دينے والے ملزم بھي کرپشن کے الزمات کي زد ميں ہے ۔ پھر بھي دنوں ملزم اور مجرم اپنے اپنے بيان حلفي جمع کروا کر ’’لاہوري انصاف “لے کر روانہ۔

شايد کبھي عوام کے ليے کوئي عدالت اتني جلدي انصاف مہيا کر ے ۔شايد کبھي کوئي ان تيس سالہ دور اقتدار رکھنے والے خاندان سے پوچھ سکے کہ انہوں نے اس ملک ميں کوئي ايسا ہسپتال کوئي نہيں بنايا جہاں کم ازکم ان کا ہي علاج ہوسکے ۔شايد کوئي ان مجرموں کے بارے ميں بھي سوچے جو اس وقت بھي جيلوں ميں بند پڑے ہيں اور وہ شديد بيمار ہيں ۔شايد کوئي  ان حکمرانوں کي گردن پکڑے جنہوں نے ہسپتال نہيں بنائے اور کتنے ہي بيمار بيماريوں کي وجہ سے بيمار مر گئے ۔شايد کوئي عام عوام کو لندن کے ويزے جاري کروائے تاکہ وہ بھي ان ہسپتالوں ميں علاج کروا سکيں جہاں صرف حکمرانوں کا علاج ہوتا ہے۔

شايد کبھي کوئي عوام کے بارے ميں سوچنے والا بھي آئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *