شعر و شاعری ماہ دسمبر ۲۰۱۹

غزل

سيد سميع الحسن شاہ حجازي

چلو ہم پيار بانٹيں

گل و گلزار بانٹيں

حوالے چاہتوں کے

سر بازار بانٹيں

جو محور امن کا ہو

وہ اک کردار بانٹيں

بسا ليں ايسي دنيا

در و ديوار بانٹيں

زمانہ غم بھي دے تو

خوشي ہر بار بانٹيں

بنے دھرتي يہ جنت

ہم اتنا پيار بانٹيں

سفر خوشبو ہو اپنا

تو لالہ زار بانٹيں

کسي سے نہ ڈريں ہم

لب اظہار بانٹيں

حجازي گل وفا کے
ہزاروں بار بانٹيں

غزل

سيد طاہر احمد زاہد

انہي وحشتوں ميں رہا کيا کريں

سلگتي ہوں انکھيں دعا کيا کريں

وہ تھا ايک پتھر کہ پوجا جسے

اسے پھر بنا کر خدا کيا کريں

بھلانے کا کوئي ہو ساماں مگر

خود سے ہي خود کو جدا کيا کريں

ملي جب ہو تنہائيوں کي سزا

زمانے کي کوئي سزا کيا کريں

مقدر ميں لکھا تھا وہ ہي ملا

زاہد خدا سے گلہ کيا کريں

غزل

فقير بشارت خا ن

يہ دل کے موسم بھي کتنے عجيب ہوتے ہيں

کچھ لوگ دور رہ کر بھي کتنے قريب ہوتے ہيں

مقدر ميں تھا جو ملا ہے ، پھرکس بات کا گلہ ہے ؟

محبتوں کے بھي اپنے اپنے نصيب ہوتے ہيں

ہر دم بکھيرتے ہيں خوشياں جو چار سو

کاندھوں پہ ليکن اپنے ا ٹھائے صليب ہوتے ہيں

ان آنسوؤں کي اپني کوئي زبان تو نہيں ہے ليکن

لگ جائيں اگر يہ بہنے تو بلا کے خطيب ہوتے ہيں

جنھيں خلوت جاناں ميں اک شام ہو ميسر

بشارت وہ لوگ کتنے خوش نصيب ہوتے ہيں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *