ميں تو اچھا ہوں تم برے ہو

تحرير: وسعت اللہ خان

ايک لفظ ہے ’’ سيلف پريزرويشن ‘‘ يعني ’’خود حفاظتي‘‘ يعني ’’ يا شيخ اپني اپني ديکھ ‘‘ يعني ’’ پہلے ميں ، پھر اعزا و اقارب اور پھر ديگر ‘‘۔اگر ہم عمومي سياست بالخصوص پاکستاني سياست و سماج کو سيلف پريزرويشن کے عدسے سے ديکھيں توکچھ اور ٹپائي ہي نہيں دے پاتا۔اور يہ سب کاروبار عام آدمي کے نام پر ہوتا ہے، ہو رہا ہے اور شائد ہوتا رہے گا۔

رياست کي ليز عام آدمي کے نام پر ہے مگر اس ليز کي پاور آف اٹارني سوائے عام آدمي کے ہر کوئي استعمال کر رہا ہے۔ابراہام لنکن سے منسوب يہ قول تو ہر ذرا سے پڑھے لکھے نے سنا ہو گا کہ جمہوريت عوام کے منتخب نمايندوں پر مشتمل ايک ايسا طرزِ حکومت ہے جو برائے عوام ہے۔

ليکن اس قولِ لنکن کي عملي اطلاقي صورت کچھ يوں بنتي ہے کہ جمہوريت (يا جمہوريت کے نام پر کوئي بھي اصلي يا جعلي طرزِ حکومت ) ايک ايسا طرزِ حکومت ہے جو طاقتور لوگ عوام کے نام پر برائے خود تشکيل ديتے ہيں اور پھر عوام پر حکومت کر کے سيلف پريزرويشن يا ذاتي ، مفاداتي ، طبقاتي و ادارتي تحفظ کرتے ہيں۔بدلتا ہے تو صرف اسٹيکر۔

ہر سرکردہ فرد اور ادارہ عوامي فلاح و بہبود کے بارے ميں نہ صرف ہمہ وقت سوچنے کا دعويدار بلکہ کمربستہ ہے جب کہ عوام دست بستہ۔ہماراآئين برطانوي آئين کي طرح زباني نہيں تحريري ہے اور اس کے ابتدائيے ميں ہي لکھ ديا گيا ہے کہ رياست کي نگاہ ميں ہر شہري بلا امتياز ِ طبقہ ، علاقہ، نسل ، رنگ و جنس و عقيدہ مساوي حيثيت رکھتا ہے۔

پارليمنٹ ہر قانون عوام کي سہولت و ترقي و تحفظ کے ليے بناتي ہے۔حکومت بھلے خاکي ہو کہ نوري ، مساوات محمدي کي علمبردار ہو يا رياستِ مدينہ کے قيام کي وکيل۔ہر آرڈيننس جاري کرتے ہوئے يہي کہتي اور سوچتي ہے کہ اس سے عام آدمي کا مزيد بھلا کيسے ہو سکتا ہے ۔

کبھي آپ نے رياستي اداروں کے شاخ زيتون والے سرکاري نشانات کے اوپر نيچے يا درميان ميں درج نعروں يا ماٹوز پر دھيان ديا ہے۔حکومتِ پاکستان کا ماٹو ہے ’’ ايمان ، اتحاد ، نظم ‘‘۔قومي اسمبلي کا ماٹو ہے ’’ جمہوريت ، حاکميت ، مساوات ‘‘۔ پوليس کا ماٹو ہے ’’ خدمت اور حفاظت ‘‘۔ فوج کا ماٹو ہے ’’ ايمان ، تقوي ، جہاد ِ في سبيل اللہ ‘‘۔سپريم کورٹ کا ماٹو ہے ’’ فاحکم بين الناس بالحق ‘‘ يعني لوگوں کے فيصلے انصاف کي بنياد پر کرو۔اليکشن کميشن کا ماٹو ہے ’’ انتخابات ، آزادانہ ، منصفانہ ، غير جانبدارانہ‘‘۔پاکستان کسٹمز کا ماٹو ہے ’’ديانت ، صلاحيت ، اخلاق ‘‘۔

پنجاب پوليس کا ماٹو ہے ’’خدمت اور حفاظت ‘‘۔ پنجاب پوليس نے ہر ضلع ميں خدمت مرکز اور خدمت کاؤنٹر بھي کھول رکھے ہيں۔سندھ پوليس کا ماٹو ہے ’’خدمت کے ليے کوشاں‘‘ ۔بلوچستان پوليس کا ماٹو ہے ’’ امر بالمعروف نہي  عن المنکر‘‘ ۔خيبر پختون خوا پوليس کا ماٹو ہے ’’ خدمت ، عبادت، پاسبان‘‘۔پي آئي اے کا ماٹو ہے ’’باکمال لوگ لاجواب پرواز‘‘۔

يعني سب اچھا ہے۔نيت بہترين ہے ، مقاصد اعليٰ ہيں مگر ناشکرے عوام پھر بھي کوسناپے کي عادت ميں مستقل مبتلا ہيں۔ہر سياسي جماعت صرف اور صرف اس ليے بااختيار ہونا چاہتي ہے تاکہ عوام کي زندگيوں کو خوشحال و خوش باش بنا سکے۔

ہر تنظيم ذاتي و تنظيمي مفاد سے بالاتر اور اپنے محلے ، قصبے ، شہر ، صوبے ، علاقے، برادري ، طبقے اور فرقے کي خدمت کے ليے سرشار ہے اور اس کي زلفوں سے بے لوثيت کا شيرہ ٹپک رہا ہے۔مگر مسائل ہيں کہ بڑھتے ہي جا رہے ہيں ، احسان فراموش لوگ روزمرہ سے تنگ آتے ہي چلے جا رہے ہيں۔

البتہ کوئي پيچھے ہٹنے کو تيار نہيں۔وہ چاہتا ہے کہ سامنے والا پيچھے ہٹے۔کوئي خود کو بدلنے پر آمادہ نہيں جب تک مدِ مقابل خود کو نہ تبديل کرے۔کوئي غلطي ماننے کو تيار نہيں کيونکہ غلطي ميري ہے ہي نہيں۔گر ہے بھي تو تيري۔کوئي اعتراف کرنے پر راضي نہيں کيونکہ اعتراف ميں بے عزتي ہے۔کوئي دوسرے کو عزت دينے کے ليے پہل پر آمادہ نہيں کيونکہ سب کي ناک سب سے اونچي ہے۔کوئي سيکھنے کو تيار نہيں کيونکہ وہ تو پہلے ہي سے پرفيکٹ (مثالي ) ہے۔

اگر آپ کہيں کہ کرپشن بڑھ گئي ہے تو جواب ملتا ہے نائجيريا سے تو کم ہے۔کراچي ميں اسٹريٹ کرائم پھر بڑھ رہے ہيں تو کہا جاتا ہے پچھلے دور سے تو کم ہيں کيا تم نے نيويارک کا تازہ ترين کرائم ڈيٹا نہيں ديکھا۔

کراچي ميں گندگي کے ڈھير لگے ہيں کوئي ذمے داري لينے کو تيار نہيں تو کہا جاتا ہے کہ آپ پھر بھارت نہيں گئے وہ تو ہم سے بھي زيادہ گندے ہيں۔ميڈيا کا مسلسل بالواسطہ و بلاواسطہ گلا گھونٹا جا رہا ہے تو جھٹ مثال دي جاتي ہے کہ آپ مغرب کي طرف کيوں ديکھتے ہيں۔شکر کريں پاکستان ميں مصر ، وسطيٰ ايشيا اور خليجي ممالک سے زيادہ آزادي ہے۔

پاکستان کي معيشت جام کيوں ہے اور بنگلہ ديش ہم سے آگے کيوں ہے ؟ ارے صاحب بنگلہ ديش کي مثال مت ديں۔اگر مغربي ممالک سلے سلائے کپڑے خريدنا بند کر ديں تو بنگلہ ديشي معيشت ايک ہفتے ميں دھڑام سے گر جائے۔

مگر ويتنام ، ملائيشيا ، انڈونيشيا ، ترکي اور کوريا ہم سے آگے کيوں ہيں جب کہ ساٹھ برس پہلے ہم سے پيچھے تھے۔ارے مياں آپ بھي کمال کرتے ہيں، جتني دہشت گردي ، جتني بيروني سازشوں کا ہم سامنا کر رہے ہيں اگر ان ميں سے کسي ملک کو درپيش ہوتيں تو ناني ياد آجاتي۔

مغرب ، چين اور جاپان کي مثال اس ليے نہيں دے سکتے کہ پھر ترنت کہا جاتا ہے کہ بھائي آپ احمقوں کي جنت سے نکليے۔ہم تيسري دنيا کے ملک ہيں مغرب کي مثاليں ہم پر صادق نہيں آتيں۔

جتني توانائي مسئلہ حل کرنے سے زيادہ سامنے والے کو خاموش کرانے اور اور خود کو درست ثابت کرنے ميں صرف کر دي جاتي ہے۔اس سے نصف توانائي اگر سچائي کا سامنا کرنے اور پھر حکمتِ عملي بنانے اور اس پر عمل پيرا ہونے ميں کھپائي جاتي تو آج مجھے ايسي اول جلول گفتگو نہ کرنا پڑتي۔

دراصل ہمارا ماٹو يہ ہونا چاہيے کہ جب ہم ترقي نہيں کرنا چاہتے تو ہميں بار بار ترقي کرنے پر کيوں مجبور کيا جا رہا ہے۔اگر يہ موٹو پسند نہيں تو پھر يہ کيسا رہے گا ’’کام جوان کي موت ہے ‘‘۔  

(بشکريہ روزنامہ ايکسپريس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *