نفرت و انتقام کی سیاست جذبۂ انسانیت پر غالب آ چکی

تحریر : احسان ابڑو

عفو و درگزر اللہ ربّ العزّت اور اس کے حبيب صلي اللہ عليہ وسلم کو بےحد پسند ہيں. اللہ پاک فرماتا ہے کہ ميرے بندوں کي خطائيں اسي طرح معاف کيا کرو جيسے ميں تمہاري خطائيں معاف کرتا ہوں۔ نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي پوري حياتِ طيبہ عفو و درگذر،انسانيت کي بھلائي، پورے عالم انسانيت کي رحمت کا انتہائي اعليٰ و ارفع نمونہ ہے، آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے انسانيت کو اپني زندگي کا سب سے اہم شعار بنانے کے واضح احکامات اور تعليمات دي ہيں، آپ صلي اللہ عليہ وسلم فرماتے تھے کہ جو اچھا انسان بننے کي خصلت سے محروم ہے وہ کبھي اچھا مسلمان نہيں بن سکتا۔ آج ارض پاک سياسي عدم استحکام، عدم برداشت کي وجہ سے جن معاشرتي برائيوں کے بدترين دور سے گذر رہي ہے ان کي سب سے بڑي وجہ انسانيت اور انساني جذبوں اور انساني حقوق سے انحراف ہے۔

اللہ ربّ العزّت جب پيڑ ميں پھل لگاتا ہے تو پيڑ جھک جاتا ہے اسي طرح کسي انسان کو اگر کوئي ايسا منصب مل جائے جو خلقِ خدا کي خدمت سے تعلق رکھتا ہو تو اسے انسانيت کي تعظيم ميں جھک جانا چاہيے۔ اسے خلق خدا کي خدمت ميں جھک جانا چاہيے۔ آج دنيا ميں انسانوں کے درميان جو طبقاتي تقسيم اور ان کے درميان جو حقوق کي ناہمواري پائي جاتي ہے اس کي بدترين مثال بااثر طاقتور طبقات يا حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والوں کي جانب سے کمزور اور اپنے مخالفين کو مغلوب کرنے کي مادي خواہشات ہيں۔ جبکہ اسلام کے عادلانہ نظام ميں تمام انساني طبقات کے ليے مثالي توازن و ہم آہنگي اور ان کے حقوق و جذبات کي ہر ممکن آساني پائي جاتي ہے۔

اسلام نے اپني تمام تعليمات ميں قيديوں کے ساتھ حسن سلوک انہيں عام آزاد انسانوں کو حاصل سہوليات، ان کے کھانے پينے ان کے علاج معالجے،ان کے آرام ان کي عزت و احترام غرض ہر پہلو ميں اعليٰ انساني قدروں کو عادلانہ نظام ميں بہت زيادہ اہميت دي گئي ہے۔ اس سلسلے ميں نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے ہدايت فرمائي کہ ’’قيديوں کے ساتھ حسن سلوک کي وصيت قبول کرو‘‘ مگر يہاں ہمارے وزيراعظم صاحب کے معاملات ہي دوسرے ہيں تکبر، رعونت ان کے انگ انگ سے جھلکتي ہے، ’’ميں‘‘ ان کے کردار کا خاصہ ہے، ذاتي و سياسي مخالفين کي تکليف سے دلي روحاني تسکين کا حصول ان کي طبيعت، عادت اور فطرت کا حصہ نظر آتا ہے۔ ان کےسارے بيانئے ميں سوائے سياسي مخالفين کے خلاف احتساب کي آڑ ميں انتقام کے، مفت و بہترين تعليم و صحت کي فراہمي، اداروں کي مضبوطي اور ان ميں تعيناتي ميں شفافيت اور ميرٹ لانے، پوليس و عدليہ ميں اصلاحات، بيروزگاري ختم کرنے، بےگھروں کو چھت فراہم کرنے، سميت ديگر ان گنت وعدے اور دعوے کہيں نظر نہيں آتے۔

خان صاحب مخالفين سے انتقام ميں اتنے آگے نکل گئے کہ تمام اگلے پچھلے ريکارڈ ہي توڑ ڈالے، ان کے غصے نفرت کا شکار پاکستان کے دو ايسے سياسي رہنما ہيں جو ان کے انتقام کي آگ ميں جھلس کر خدانخواستہ موت کي جانب بڑھ رہے ہيں۔ يہ دونوں قيدي جن ميں ايک ملک کے سابق منتخب صدر آصف علي زرداري ہيں اور ايک ملک کےتين بار منتخب وزيراعظم مياں نواز شريف ہيں۔ مياں صاحب اور زرداري صاحب اس وقت خان صاحب کي بدترين نفرت و انتقام کا نشانہ بنے ہوئے ہيں، ايک ايسے انتقام کا شکار جس نے انسانيت کو ہي شرمسار کيا ہوا ہے۔

مياں صاحب ايک کيس ميں اقامہ کي بنياد پہ سزا کاٹ رہے ہيں تو ايک بار پھر انہيں ايک اور مقدمے ميں نامزد کر کے انہيں جيل سے نيب کي تحويل ميں دے ديا گيا ہے، جبکہ آصف علي زرداري جعلي اکاؤنٹس کے ذريعے مني لانڈرنگ کے ايسےالزام ميں پابند سلاسل ہيں جس ميں نہ تو مقدمہ بنا ہے نہ ہي کوئي ثبوت يا شھادت ملي ہے۔ ان کے خلاف، مگر محض ايک شخص کي ذاتي انا اور سياسي بيانيے کو تقويت پہنچانےکے ليئے ملک کے سابق صدر و سابق وزيراعظم کو نشانِ عبرت بنانے کي پوري کوششيں جا رہي ہيں۔ ان کے اسي جارحانہ و انتقامي رويوں کے باعث نيب اب ان سے بھي دو ہاتھ آگے ہے۔

نيب نے ملکي تاريخ ميں بدترين يک طرفہ احتساب کي وہ مثاليں قائم کي ہيں جس کي نظير اس سے پہلے ملکي تاريخ ميں نہيں ملتي۔ نيب کي انہيں کارروائيوں کے خلاف وفاقي سيکريٹريز کي تنظيم نے بھي نيب کے خلاف اپنے شديد تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نيب کو ملکي ترقي کي راہ ميں سب سے بڑي رکاوٹ قرار ديتے ہوئے نيب قانون ميں فوري تبديلي اور نيب کو اپنے دائرہ اختيار ميں رکھنے کا مطالبہ کيا ہے۔ اسي انتقام و احتساب کے کھيل ميں ملک کي دو بڑي سياسي جماعتوں کے قائدين کي زندگيوں کو خطرات لاحق ہوچکے ہيں، ايک موت کے دروازے پہ دستک ديتا نيب کي تحويل سے ہسپتال ميں موت سے لڑ رہا ہے تو دوسرا ہسپتال ميں اپني مضبوط قوتِ ارادي کے بل پر زندگي کے ليے پر اميد، مگر خان صاحب جيسے سياسي مخالف سے کسي بھي قسم کي رعايت يا رحم کي درخواست کرنے سے انکاري ہے۔

وزيراعظم صاحب کو ان کے اپنے پرائے بارہا يہ مشورے ديتے نظر آتے ہيں کہ خان صاحب اب ڈھونگ رچانا چھوڑيں اور ملک کي تباہ حال معيشت، اخلاقي پستيوں کي کھائي ميں گِرتي معاشرتي سماجي اور سياسي صورتحال کي جانب توجہ مرکوز کريں، مگر خان صاحب کسي آواز کسي مشورے کو اہميت دينے کے ليئے تيار نہيں ہيں۔ ان کا صرف اور صرف ايک ہي مقصد نظر آتا ہے اور وہ ہے ہر حالت ميں اپنے مخالفين اپنے سياسي حريفوں کو کرپشن احتساب کے نام پہ سياسي منظرنامے سے ہميشہ کے ليئے دور کر دينا اور انہيں اتنا کمزور کر دينا کہ کوئي ان کے سامنے سر اٹھا کے چل ہي نہ سکے۔

دوسري طرف خان صاحب کي لفظي گولا باري بريگيڈ کي سرخيل فردوس عاشق اعوان سميت کچھ ديگر وزراء اور اراکين مسلسل مياں صاحب اور زرداري صاحب سميت ديگر مخالف سياسي قيديوں کي صحت کو طنز و تنقيد کي زد پہ ليے ہوئے ہيں جو کہ انتہائي قابلِ مذمت گھٹيا حرکت کے زمرے ميں آتي ہے۔ خان صاحب نے شايد اپنے گولا باري جتھوں کو دونوں قائدين کي صحت پہ تنقيد سے منع بھي کيا ہے، مگر اگر يہي اقدامات معاملات کے اس نہج پہ پہنچنے سے پہلے ہي اٹھائے جاتے تو شايد آج جس شديد ترين تنقيد کا سامنا خان صاحب اور ان کي حکومت کو درپيش ہے وہ نہ ہوتا۔

خان صاحب کو انسانيت اور اسلامي قدروں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مياں نواز شريف اور آصف علي زرداري صاحب کي زندگيوں کو لاحق خطرات، ان کي صحت کو درپيش مسائل اور ان کے علاج معالجے کي بہترين سہوليات کي فراہمي کو يقيني بنانے کے اقدامات کو يقيني بنانا چاہيئے۔ اگر خدانخواستہ دونوں قائدين کي زندگيوں کے ساتھ کوئي سانحہ رونما ہوگيا تونہ صرف ملک کي يکجہتي، سالميت اور استحکام کو ناقابلِ تلافي نقصان پہنچنے کا احتمال ہے بلکہ اس کا خميازہ بھي پھر بحيثيت وزيراعظم خان صاحب کو ہي ادا کرنا پڑے گا جو يقيناً ان کےسياسي کيريئر کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *