ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے حسن سلوک

لاہور انٹرنيشنل نيوز ڈيسک
دنيا ميں اکثر لوگ جب بالغ ہو جاتے ہيں اور بيوي بچوں کے فکر اُنہيں لگ جاتے ہيں تو ماں باپ سے حسن سلوک ميں کمزوري دکھانے لگ جاتے ہيں۔ رسول کريمﷺاِس نقص کو دور کرنے کيلئے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کي اہميت کو بار بار واضح فرماتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوہريرہؓ فرماتے ہيں کہ ايک شخص رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے پاس آيا اور اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللہ! ميرے حسن سلوک کا کون زيادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمايا۔ تيري ماں۔ اس نے کہا پھر؟ آپ نے فرمايا۔ پھر بھي تيري ماں۔ اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللہ! اِس کے بعد؟ آپ نے فرمايا۔ اس کے بعد بھي تيري ماں۔ اُس نے چوتھي دفعہ کہا يَا رَسُوْلَ اللہ! اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمايا۔ پھر تيرا باپ ۔پھر جو اس کے بعد رشتہ دار ہوں پھر جو ان کے بعد رشتہ دار ہوں؟
(بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبۃ)
رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے بزرگ تو آپ کے بچپن ميں ہي فوت ہو گئے تھے، بيويوں کے بزرگ موجود تھے اور آپ ہميشہ اُن کا ادب کرتے تھے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر آپ ايک فاتح جرنيل کے طور پر مکہ ميں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ اپنے باپ کو آپ کي ملاقات کے لئے لائے۔ اُس وقت رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا۔ آپ نے ان کو کيوں تکليف دي ميں خود اِن کے پاس حاضر ہوتا۔
(سیرت ابن ہشام جلد۴ صفحہ۴۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء)
آپ ہميشہ اپنے صحابہؓ سے فرمايا کرتے تھے کہ جو شخص اپنے بوڑھے ماں باپ کا زمانہ پائے اور پھر بھي جنت کا مستحق نہ ہو سکے، تو وہ بڑا ہي بدبخت ہے۔
(مسلم کتاب البروالصلۃ باب رغم من ادرک ابویہ الخ)
مطلب يہ کہ بوڑھے ماں باپ کي خدمت انسان کو اللہ تعاليٰ کے فضلوں کا اتنا وارث بنا ديتي ہے کہ جس کو اپنے بوڑھے ماں باپ کي خدمت کا موقع مل جائے وہ ضرور نيکي ميں مستحکم اور اللہ تعاليٰ کے فضلوں کا مستحق ہو جاتا ہے۔
ايک شخص نے ايک دفعہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم سے شکايت کي کہ يَا رَسُوْلَ اللہ! ميرے رشتہ دار ايسے ہيںکہ ميں اُن سے نيک سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بد سلوکي کرتے ہيں۔ ميں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ مجھ پر ظلم کرتے ہيں۔ ميں اُن کے ساتھ محبت سے پيش آتا ہوں اور وہ مجھ سے ترش روئي سے پيش آتے ہيں۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا اگر يہ بات ہے تو پھر تو تمہاري خوش قسمتي ہے کيونکہ خدا کي مدد تمہيں ہميشہ حاصل رہے گي۔
(مسلم کتاب البروالصلۃ باب صلۃ الرحم و تحریم قطیعتھا)
ايک دفعہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم صدقہ و خيرات کي نصيحت فرما رہے تھے تو آپ کے ايک صحابي ابو طلحہؓ انصاري آئے اور اُنہوں نے اپنا ايک باغ صدقہ کے طور پر وقف کر ديا۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم اِس پر بہت خوش ہوئے اور فرمايا بہت عمدہ صدقہ ہے بہت اچھا صدقہ ہے۔ بہت اچھا صدقہ ہے۔ پھر فرمايا۔ لو اب تو تم اسے وقف کر چکے۔ اب ميرا دل چاہتا ہے کہ تم اس کواپنے رشتہ داروں ميں بانٹ دو۔ (بخاری کتاب التفسیر باب لن تنالوا البر الخ)
ايک دفعہ ايک شخص آپ کے پاس آيا اور اُس نے کہا۔ يَا رَسُوْلَ اللہ! ميں آپ سے ہجرت کي بيعت کرتا ہوں اور آپ سے خد اکے رستہ ميں جہاد کرنے کي بيعت کرتا ہوں۔ کيونکہ ميں چاہتا ہوںميرا خدا مجھ سے خوش ہو جائے۔ آپ نے فرمايا کيا تمہارے والدين ميں سے کوئي زندہ ہے؟ اُس نے کہا دونوں زندہ ہيں۔ آپ نے فرمايا کيا تم چاہتے ہو کہ خد اتم سے راضي ہوجائے۔ اس نے کہا ہاں يَا رَسُوْلَ اللہ! آپ نے فرمايا پھر بہتر يہ ہے کہ واپس جائو اور اپنے والدين کي خدمت کرو اور خوب خدمت کرو۔
(بخاری کتاب الادب باب لایجاھد الا باذن الابوین)
آپ ہميشہ اس بات کي نصيحت کيا کرتے تھے کہ حسن سلوک ميں مذہب کي کوئي شرط نہيں۔ غريب رشتہ دار خواہ کسي مذہب کے ہوں اُن سے حسن سلوک کرنا نيکي ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کي ايک بيوي مشرکہ تھيں۔ حضرت ابوبکرؓ کي بيٹي اسماءؓ نے رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم سے پوچھا کہ يَا رَسُوْلَ اللہ! کيا ميں اُس سے حسن سلوک کر سکتي ہوں؟ آپ نے فرمايا ضرور وہ تيري ماں ہے تو اُس سے حسن سلوک کر۔ (بخاری کتاب الادب باب صلۃ الوالد المشرک)
رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھي بہت خيال رکھتے تھے۔ جب کبھي آپ قرباني کرتے تو آپ حضرت خديجہؓ کي سہيليوں کي طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہميشہ کہا کرتے تھے کہ خديجہؓ کي سہيليوں کو نہ بھولنا اُن کي طرف گوشت ضرور بھجوانا۔
(مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل خدیجہ)
ايک دفعہ حضرت خديجہ کي وفات کے کئي سال بعد آپ مجلس ميں بيٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خديجہؓ کي بہن ہالہؓ آپ سے ملنے آئيں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا’’ کيا ميں اندر آ سکتي ہوں‘‘؟ ہالہؓ کي آوازميں اُس وقت اپني مرحومہ بہن حضرت خديجہؓ سے بے انتہاء مشابہت پيدا ہو گئي۔ اس آواز کے کان ميں پڑتے ہي رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے جسم پر کپکپي آگئي پھر آپ سنبھل گئے اور فرمايا آہ ميرے خدا! يہ تو خديجہ کي بہن ہالہؓ ہيں۔ (بخاري کتاب المناقب الانصار باب تزويج النبي ﷺ خديجة الخ) درحقيقت سچي محبت کا اصول ہي يہي ہے کہ جس سے پيار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قريبيوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھي محبت اور پيار پيدا ہو جاتا ہے۔
انس بن مالکؓ کہتے ہيں کہ ميں ايک دفعہ سفر پر تھا جريرؓ بن عبداللہؓ ايک دوسرے صحابي بھي اس سفر ميں ساتھ تھے وہ سفر ميں نوکروں کي طرح ميرے کام کيا کرتے تھے۔ جريرؓ بڑے تھے اور اُن کا ادب حضرت انسؓ اپنے لئے ضروري سمجھتے تھے اس لئے وہ کہتے ہيں کہ ميں اُنہيں منع کرتا تھا کہ ايسا نہ کريں۔ ميرے ايسا کہنے پر جريرؓ جواب ميں کہتے تھے ميں نے انصار کو رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي بے انتہاء خدمت کرتے ہوئے ديکھا ہے۔ ميں نے اُن کي رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے ساتھ يہ محبت ديکھ کر اپنے دل سے عہد کيا تھا کہ جب کبھي مجھے کسي انصاري کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملے گايا اس کے ساتھ رہنے کا موقع ملے گا تو ميں اُس کي خدمت کروں گا اس لئے آپ مجھے نہ روکيں ميں اپني قسم پوري کر رہا ہوں۔ (مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب فی حُسن صحبۃ الانصار الخ)
اس واقعہ سے بِالوضاحت يہ بات ثابت ہوتي ہے کہ اپنے محبوب کي خدمت کرنے والا بھي انسان کا محبوب ہو جاتا ہے پس جن لوگوں کے دلوں ميں اپنے ماں باپ کا سچا ادب اور احترام ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کے علاوہ اُن کے رشتہ داروں اور دوستوں کا بھي ادب کرتے ہيں۔
ايک دفعہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي مجلس ميں اقارب کي خدمت کا ذکر تھا تو آپ نے فرمايا بہترين نيکي يہ ہے کہ انسان اپنے باپ کي دوستيوں کا بھي خيال رکھے۔ يہ بات آپ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہي تھي اور اس پر اُنہوں نے ايسا عمل کيا کہ ايک دفعہ وہ حج کے لئے جار ہے تھے کہ رستہ ميں ايک شخص اُن کو نظر آيا۔ آپ نے اپني سواري کا گدھا اُس کو دے ديا اور اپنے سر کا خوبصورت عمامہ بھي اُس کوعطا کر ديا۔ اُن کے ساتھيوں نے اُنہيں کہا کہ آپ نے يہ کيا کام کيا ہے؟ يہ تو اعرابي لوگ ہيں بہت تھوڑي سي چيز اِن کو دے دي جائے تو خوش ہوجاتے ہيں۔ عبداللہ بن عمرؓ نے کہا۔ اِس شخص کا باپ حضرت عمرؓ کا دوست تھا اور ميں نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے نيکي کا اعليٰ درجے کا مظاہرہ يہ ہے کہ انسان اپنے باپ کے دوستوں کا بھي خيال رکھے۔
(مسلم کتاب البروالصلۃ والادب باب فضل صلۃ اصدقاء الاب الخ)

نيک صحبت

آپ ہميشہ اپنے اِردگرد نيک لوگوں کے رہنے کو پسند کرتے تھے اور اگر کسي ميں کمزوري ہوتي تھي تو اُسے عمدگي کے ساتھ اور پردہ پوشي کے ساتھ نصيحت فرماتے تھے۔ حضرت ابو موسيٰ اشعريؓ کہتے ہيں کہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم فرمايا کرتے تھے، نيک دوست اور نيک مجلسي اور بد دوست اور بد مجلسي کي مثال ايسي ہي ہے جيسے ايک شخص مشک لئے پھر رہا ہو، مشک اُٹھانے والا اُس کو کھائے گا تب بھي فائدہ اُٹھائے گا اور رکھ چھوڑے گا تب بھي خوشبو حاصل کرے گا۔ اور جس کے ہم مجلس بد ہوں اُن کي مثال ايسي ہے جيسے کوئي بھٹي کي آگ ميں پھونکيں مارتا ہے۔ وہ اتني ہي اُميد رکھ سکتا ہے کہ کوئي چنگاري اُڑ کر اُس کے کپڑوں کو جلا دے يا کوئلوں کي بدبو سے اُس کا دماغ خراب ہوجائے۔
(مسلم کتاب البروالصلۃ باب استحباب مجالسۃ الصالحین الخ)
آپ اپنے صحابہؓ کو بار بار فرمايا کرتے تھے کہ انسان کے اخلاق ويسے ہي ہو جاتے ہيں جيسي مجلس ميں وہ بيٹھتا ہے اس لئے نيک صحبت اختيار کيا کرو۔

لوگوں کے ايمان کي حفاظت کا خيال

رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم اس بات کا بہت خيال رکھتے تھے کہ کسي شخص کو ٹھوکر نہ لگے۔ ايک دفعہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم مسجد ميں تھے کہ آپ کي ايک بيوي صفيہؓ بنت حيي آپ سے ملنے آئيں۔ باتيں کرتے کرتے دير ہو گئي تو آپ نے مناسب سمجھا کہ اُن کو گھر تک پہنچا آئيں۔ جب آپ اُن کو گھر چھوڑنے کے لئے جار ہے تھے تو راستہ ميں دو شخص ملے، جن کے متعلق آپ کو شبہ تھا کہ شايد اُن کے دل ميں کوئي وسوسہ پيدا نہ ہو کہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کسي عورت کے ساتھ رات کے وقت کہاں جا رہے ہيں۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے ان دونوں کو ٹھہرا ليا اور فرمايا۔ ديکھو! يہ ميري بيوي صفيہؓ ہيں۔ اُنہوں نے کہا يَارَسُوْلَ اللّٰہ! ہميں آپ پر بدظني کا خيال پيدا ہي کس طرح ہو سکتا ہے۔ آپ نے فرمايا۔ شيطان انسان کے خون ميں پھرتا ہے ميں ڈرا کہ تمہارے ايمان کو ضعف نہ پہنچ جائے۔ (بخاري کتاب الاعتکاف باب ھل يخرج المعتکف لحوائجہٖ الخ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *