شری کرشن جی کے سوانح پر تقریر

تحریر: حضرت مولانا غلام رسول راجیکی ؓ منقول ملک محمد صفی اللہ خان

1941ء ميں خاکسار مع عزيز مکرم مولوي محمد الدين صاحب مبلّغ البانيہ سرينگر گيا۔اُن دنوں کشميري پنڈتوں نے سرينگر ميں سري کرشن جي کے متعلق ايک جلسہ کا انعقاد کيا۔ جس ميں علاوہ ہندوؤں کے دوسرے مذاہب کے علماء کو بھي تقرير کرنے کي دعوت دي۔ احمديہ جماعت کي طرف سے خاکسار تقرير کيلئے مقرر ہوا ۔ ليکن غير احمدي علماء کي طرف سے کوئي تقرير نہ ہوئي۔

جلسہ منتظمين نے پروگرام اس طرح وضع کيا کہ غير مذاہب کے مقررين کي تقارير پہلے رکھي گئيں تاکہ ان تقارير ميں اگر کوئي حصّہ قابل اعتراض يا لائق ِجواب ہو تو بعد ميں سناتني ہندوئوں کي طرف سے اس کا جواب ديا جا سکے۔

ميري تقرير سب سے پہلے رکھي گئي ۔جب مَيں اپني نشست گاہ سے اُٹھ کر سٹيج کي طرف گيا تو ميري سادگئي ِ لباس کو ديکھ کر منتظمين جلسہ نے بہت فکر محسوس کيا کيونکہ مسلمانوں ميں سے صرف ميري ہي تقرير تھي اور ميري وضع قطع سے بظاہر جلسہ کي کاميابي نظر نہ آتي تھي۔

مَيں نے سٹيج پر پہنچ کر کلمۂِ شہادت اور سورہ فاتحہ پڑھ کر اپني تقرير شروع کي۔شروع ميں بعض تمہيدي باتيں بيان کيںاور پھر کرشن جي مہاراج کے سوانح حيات کے ظاہري واقعات کے متعلق جو اعتراض کي صورت پيدا ہوتي ہے ، اس کے جواب ديئے۔

مثلاً يہ بتايا کہ کرشن جي ايشور کے مقدس اَوتار اور مقدس ہستي تھے۔ اُن کي طرف بعض باتيں منسوب کر کے جو اعتراض اُن کي ذات اور اخلاق پر کئے جاتے ہيں ۔ وہ حقيقتاً قابلِ اعتراض نہيں ۔ محجوب نگاہيں اُن کو قابلِ اعتراض سمجھتي ہيں۔در اصل ايسے واقعات اپنے اندر معرفت اور حکمت رکھتے ہيں۔کرشن جي مہاراج کا گائيوں کو چرانا اور بنسري بجانے کا يہ مطلب ہے کہ گائيوں سے مراد مفيد ، کار آمد اور غريب طبع لوگ ہيں۔اور کرشن جي ايسے لوگوں کي رکھشا کيا کرتے تھے ۔ اور ان کي پرورش کي وجہ سے گئوپال کہلاتے ہيں۔

کرشن جي بنسري سے مراد اُن کي الہامي کتاب گيتا ہے۔ اور بنسري بجانے سے مراد اللہ تعاليٰ کا کلام ِمعرفت لوگوں کو سنا نا ہے ۔ گيتا کا لفظ گيت سے ہي ہے ۔ يعني ايسا کلام جو سريلي آواز سے گايا جاتا ہے ۔ جيسے حضرت دائود عليہ السلام کي الہامي کتاب کا نام زبور رکھا گيا ہے اور زبور اور گيتا کا ايک ہي مفہوم ہے اور قرآن کريم ميں وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (النجم)ميں اسي طرح اشارہ پايا جاتا ہے ۔ کہ جس طرح بنسري ميں سے وہي سُر نکلتي ہے جو بنسري بجانے والا نکالتا ہے ۔ اسي طرح خدا کے نبي وہي کلام کرتے ہيں جو خدا تعاليٰ اُن کي زبان پر جاري کرتا ہے اور اپني وحي سے ان کو تعليم کرتا ہے ۔

اسي مضمون کو حضرت مولٰنا روم رحمة اللہ عليہ نے اپني مثنوي ميں اس طرح ادا کيا ہے کہ ؎

بشنو از نے چوں حکايت مي کند

از جدائي ها شکايت مي کند

يعني خد ا کے اَوتار اس کي بنسري ہوتے ہيں ۔ جن ميں خدا تعاليٰ اپني آواز پھونکتا ہے تو جو لوگ خدا کے وصال کے طالب ہيں اس کي آواز کو سن کر اس کي طرف چلے آئيں اور ہجر اور جدائي کي تکليف سے بچ جائيں۔

کرشن جي مہاراج کي گوپيوں کے متعلق مَيں نے بيان کيا کہ يہ اعتراض بھي سطحي خيال کے لوگ کرتے ہيں کہ کرشن جي مہاراج نے بڑي تعداد ميں گوپياں رکھي ہوئي تھيں۔حالانکہ يہ استعارہ کي زبان ہے ۔ہر نبي اور پيشوا اپنے ماننے والوں پر اثر ڈالتا ہے ۔ اور اس کي جماعت کے افراد اس کا اثر قبول کرتے ہيں۔اور اس افاضہ اور استفاضہ کو استعارہ کي زبان ميں مختلف الفاظ ميں بيان کيا جاتا ہے ۔ چنانچہ قرآن کريم ميں حضرت دائود عليہ السلام کي جماعت کو دُنبياں قرار ديا گيا ہے۔اور حضرت مسيح  ؑکو انجيل ميں خدا کا بَرَّہ اور قومِ اسرائيل کو اس کي بھيڑيں کہا گيا ہے۔ اسي طرح قرآن کريم ميں حضرت نبي کريم ﷺ کو سورہ تحريم ميں استعارةً شوہر کي مثال سے اور تمام مومنوں کو عورتوں کي مثال سے ذکر کيا گياہے۔ پس گوپياں آپ کے مخلص مومنين ہي تھے ۔ جو ہر دم آپ کے نورو برکت سے استفادہ کر رہے تھے۔

اور يہ واقعہ جو سري کرشن جي کے سوانح ميں مذکور ہے کہ آپ گوپيوں کے نہاتے وقت ان کے کپڑے اُٹھا کر درخت پر چڑھ گئے اس ميں ايک عارفانہ حقيقت بيان کي گئي ہے ۔ کرشن جي نے اپنے مريدوں کو يہ سمجھايا کہ تمہارا اصل لباس جس سے گنا ہوں کو ڈھانپا جا سکتا ہے ۔ وہ تقويٰ اور نيکي کا لباس ہے جو آسمان سے خدا تعاليٰ کے اَوتار کے ذريعہ سے نازل ہوتا ہے خودبخود تمہارے لئے ممکن نہيں کہ تم اس کو حاصل اور اختيار کر سکو۔

قرآن کريم ميں بھي ’’لباس التقويٰ ‘‘ کا محاورہ استعمال کيا گيا ہے۔ اور ذَالِکَ خَيْرٌ کے الفاظ ميں اس کي خوبي کا اظہار کيا گيا۔اور اس واقعہ ميں پاني ميں نہانے کا جو ذکر ہے اس ميں يہ حقيقت ہے کہ جس طرح پاني بدن کي ظاہري ميل کچيل کو صاف کرتا ہے ۔ اس طرح روحاني پاني يعني کلامِ الٰہي اور وحي آسماني قلوب اور باطني کدورت کو پاک و صاف کرتي ہے ۔ اور يہ پاني خدا کے اَوتار يعني نبي کے ذريعہ سے ہي حاصل ہوتا ہے ۔ گويا اس واقعہ کے ذريعہ سے يہ بتانا مقصوو ہے کہ گناہوں کو ڈھانکنے والا لباس تقويٰ اور گناہوں سے پاک کرنے والا آبِ حيات دونوں خدا تعاليٰ کے اَوتاروں کے ذريعہ ملتے ہيں۔

يہ الزام جو سري کرشن جي پر لگايا جاتا ہے کہ گويا آپ نے مکھن چرايا ۔ يہ آپ کے مخالفين کي طرف سے جو ويدوں کے ماننے والے تھے ، لگايا گيا ہے۔يہ بھي ايک ايک مذہبي استعارہ ہے۔ جس کي رُو سے اس علم کو جو خدا تعاليٰ کي کتاب شريعت سے ملتا ہے ۔دودھ سے تشبيہ ديتے ہيں۔ اور ’’طريقت ‘‘ کي مثال دہي سے ديتے ہيں ۔ اسي طرح ’’حقيقت ‘‘ ’’مکھن ‘‘ اور ’’معرفت‘‘ خالص گھي  ’’طريقت ‘‘ کہلاتي ہے ۔ اور يہ سب دودھ سے حاصل ہوتے ہيں ۔ جس طرح طريقت ، حقيقت اور معرفت سب شريعت سے ہي ملتي ہيں۔

جب کرشن جي مہاراج نے ويدوں کي تعليم کا خلاصہ گيتا کي شکل ميں پيش کيا۔ تو ويد کے پنڈتوں نے کہا گيتا کا اعليٰ عرفاني کلام جو لوگوں کو دِل پسند اور دلکش معلوم ہوتا ہے۔ اور لوگ ويدوں کو چھوڑ کر گيتا کي طرف متوجہ ہو رہے ہيں ۔ يہ دراصل ويدوں کا مکھن ہي ہے جو ويدوں سے چُرا کر لوگوں کے سامنے پيش کيا گيا ہے۔ اس طرح کرشن جي پر مکھن چُرانے کا الزام عايد کيا گيا ليکن اس سے مراد ظاہري مکھن کي چوري نہ تھي۔ بلکہ ويدوں کي تعليم کو اخذ کر کے گيتا شامل کرنا تھا۔

کرشن جي کو رُدّر گئوپال کے صفاتي نام بھي ديئے گئے ہيں۔ رُدّر کے معنے سؤروں کو قتل کرنے والا اور گوپال کے معنے گئو وں کي پالنا اوررَکھشا کرنے والا ہيں ۔ان الفاظ سے بدوں اور بُرے لوگوں کا نشٹ کرنے والا ۔اور نيک اور فائدہ مند وجودوں کي حفاظت اور پرورش کرنے والا مراد ہے۔ اور گيتا ميں کرشن جي نے ايک پيشگوئي بھي فرمائي ہے ۔ کہ جب دھرم کي نيستي اور ادھرم کا دَور دَورہ ہوتا ہے ۔تو مَيں اَوتار ليتا ہوں ۔ اصل اشلوک کا ترجمہ علّامہ فيضي ( جو بادشاہ اکبر کے درباري تھے) نے فارسي کے اس شعر ميں کيا ہے 

چو بنيادِ ديں سست گردد بسے

نمائيم خود را بشکلِ کسے

جس طرح کرشن جي مہاراج نے پہلي دفعہ اصالتاً اس دُنيا ميں آکر نيکوں کي رَکھشا اور بدوں کا ناش کيا ہے۔ اور صحيح دھرم کو قائم کيا ہے ۔ اسي طرح اس زمانہ ميں جب ادھرم اور پاپ کي گھٹائيں دُنيا پر چھائي ہوئي ہيں۔ کرشن جي صفاتي طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادياني  کے رُوپ ميں قاديان ميں تشريف لائے۔ اور گيتا ميں مذکورہ وعدہ پورا ہوا ۔

کرشن جي مہاراج کے بروز اور مثيل بھي وہي کام کر رہے ہيں۔جو کرشن جي خود کيا کرتے تھے۔ اور ان کے ذريعہ سے پر ماتما کا سچا دھرم دُنيا ميں قائم ہو رہا ہے۔اور پاپ اور ادھرم مٹ رہے ہيں۔ 

يہ تقرير خدا تعاليٰ کي خاص تائيد و نصرت سے بہت مقبول ہوئي اور حاضرين نے دورانِ تقرير ميں بار بار چئيرز ديئے اور مسرت کا اظہار کيا ۔ اور وہ لوگ جو ميري سادہ وضع اور لباس کو ديکھ کر مايوسي کا اظہار کر رہے تھے۔ احمديہ جماعت کے ايک حقير خادم کي کامياب تقرير سے حيرت ميں آ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *