جنسی تعلیم: قصور جیسے واقعات روکنے کے لیے ارم فاطمہ نے بچوں کی آگاہی کا بیڑا خود اٹھا لیا

تحریر: عفیفہ چوہان

لاہور کے گنجان آباد علاقوں اور ديہات کو جانے والے کچے راستوں اور پکي سڑکوں پر اکثر آپ کو ايک سفيد رنگ کي پرنٹڈ گاڑي دوڑتي نظر آئے گي۔

اس گاڑي ميں سب سے زيادہ متاثر کرنے والي چيز اس پر بنائے گئے مختلف اقسام کے کارٹونز ہيں۔ ان کارٹونز کو ديکھ کر آپ شايد سوچيں کہ يہ گاڑي کسي سکول کے بچوں کو پک اينڈ ڈراپ کرنے کے ليے استعمال ہوتي ہو گي۔

مگر ايسا نہيں ہے۔

لاہور کي رہائشي ارم فاطمہ نے قصور جيسے واقعات کي روک تھام کے ليے بچوں کو شعور فراہم کرنے کا بيڑا خود اٹھا ليا ہے ليکن ان کا بچوں کو جنسي تعليم دينے کا انداز روايت سے ذرا ہٹ کر ہے۔

ارم فاطمہ کا چلتا پھرتا آگاہي مرکز

يہ گاڑي ايک موبائل اويئرنيس سينٹر يا چلتا پھرتا آگاہي مرکز ہے جسے لاہور کي رہائشي ارم فاطمہ نے خاص طور پر ديہات ميں رہنے اور وہيں پلنے والے بچوں کے ليے ہي بنوايا ہے۔

ارم ايک سماجي کارکن ہيں اور ايک مقامي سماجي تنظيم ’بيداري‘ سے منسلک ہيں۔ وہ گذشتہ 10 سال سے اسي ادارے ميں بچوں اور خواتين کے ساتھ کام کر رہي ہيں۔

ايک سماجي تنظيم ميں کام کرنے کے باعث ارم کو معاشرے ميں ہونے والي برائيوں بالخصوص بچوں سے منسلک مسائل کے بارے ميں کافي معلومات ہيں اور وہ اکثر اپني تنظيم کے ذريعے دوسرے لوگوں کي تربيت بھي کرتي رہي ہيں۔

گاڑي پر بنے کارٹونز بھي منفرد اور بامعني ہيں۔ کہيں بچے ہاتھ سے ہاتھ جوڑے قطار بنائے کھڑے ہيں اور کہيں ايک چھوٹي سي بچي ہاتھ ميں گڑيا ليے اپني ہي عمر کے بچے کے ساتھ عروسي جوڑے ميں ملبوس ہيں جو کہ نو عمري ميں شادي جيسے اہم مسئلے پر روشني ڈالتا ہے۔

اسي کے ساتھ گاڑي کي بيروني جانب بہت سے سماجي پيغامات کے ساتھ ساتھ ايمرجنسي نمبرز بھي درج ہيں جن ميں بچوں کے تحفظ کے ليے کام کرنے والے چائلڈ پروٹيکشن بيورو کا نمبر واضح ہے۔

گاڑي ميں بچوں کي آگاہي کے ليے مختلف آگاہي پلے کارڈز رکھے گئے ہيں اور بہت سے کھلونے ہيں۔ اس کے علاوہ تعليم اور سکول کي اہميت، مساوات اور سب سے بڑھ کر جنسي اعضا کي آگاہي اور ان کي حفاظت کے متعلق تصاوير کے ذريعے بتايا گيا۔

ان ہي تصاوير ميں چائلڈ پروٹيکشن ہيلپ لائن کا نمبر بھي درج کيا گيا ہے تاکہ بچے اسے باآساني ياد رکھ سکيں اور پھر کسي بھي ہنگامي صورت حال ميں اس نمبر سے مدد لے سکيں۔

موبائل اويئرنس سينٹر کي ضرورت کيوں؟

ارم بتاتي ہيں جب وہ لاہور شفٹ ہوئيں تو قصور اور چونياں جيسے بہت سے واقعات ان کے آس پاس گھومنا شروع ہوئے جن ميں بچوں کو اغوا کرنے کے بعد زيادتي يا بدفعلي کا نشانہ بنايا گيا اور ان ميں سے اکثر کو مار ديا گيا۔ بہت سے واقعات ميں قاتل بچوں کا رشتہ دار يا جاننے والا نکلا۔

ايسے واقعات ديکھنے کے بعد ارم نے سوچا کہ انھيں بچوں کو بچانے کے ليے خود سے کچھ کرنا چاہيے۔

انھوں نے محسوس کيا کہ ايسے واقعات زيادہ تر ديہات ميں ہو رہے ہيں جہاں لوگوں ميں شرح خواندگي بھي کم ہے اور کم عمري کے باعث والدين اپنے بچوں کو مکمل تربيت نہيں دے پاتے۔

اس کے علاوہ پاکستاني معاشرے ميں والدين اپنے بچوں کو جنسي آگاہي دينے سے کتراتے اور شرم محسوس کرتے ہيں۔ ماں باپ سمجھتے ہيں کہ وقت کے ساتھ بچے خود ہي جنسيت کو سمجھ ليں گے۔ ان کے نزديک يہ تعليم اہم نہيں۔

اسي وجہ سے وہ بچوں کو سمجھا نہيں پاتے کہ بچوں نے خطرے ميں يا ہراساني کے دوران اپنا دفاع کيسے کرنا ہے اور کيسے خود کو محفوظ رکھنا ہے۔

بچوں کے حقوق کے ليے کام کرنے والي ايک غير سرکاري تنظيم ساحل کے مطابق جنوري تا جون سنہ 2019 کے دوران 729 بچياں جبکہ 575 بچے جنسي تشدد کا شکار ہوئے۔ يعني روزانہ اوسطاً سات بچے زيادتي کا شکار ہوئے۔

جغرافيائي اعتبار سے صوبہ پنجاب ميں سب سے زيادہ زيادتي کے واقعات رپورٹ کيے گئے ہيں۔

وہ بتاتي ہيں کہ يہ سب ديکھ کر انھوں نے بچوں کو خود سے شعور دينے کا فيصلہ کيا اور اپنے چھٹي کے روز کو بچوں کي آگاہي مہم کے ليے وقف کر ديا۔ اس رضا کارانہ کام ميں ان کے دونوں بھائيوں وقاص اور اسرار نے ان کي مدد کي۔

ارم جنسي تشدد کي آگاہي دينے کے ليے کيا کرتي ہيں؟

ارم بتاتي ہيں کہ انھوں نے اپنے بھائي کے زير استعمال گاڑي کو بچوں کي دلچسپي کے مطابق باہر سے روغن کروايا اور ايسي تصاوير بنوائيں جن ميں معلومات کے ساتھ خاموش پيغام بھي ہوں۔

ارم گاڑي لے کر لاہور کے دور دراز علاقوں خصوصاً ديہات ميں جاتي ہيں جہاں وہ بچوں کو اپنے بچاؤ کي تربيت ديتي ہيں۔ بچوں کو سمجھانے کے ليے وہ مختلف نفسياتي سيشنز تيار کرتي ہيں۔

اس کے ساتھ وہ والدين کو اپنے بچوں کي حفاظت کے حوالے سے شعور بھي ديتي ہيں۔ وہ سمجھتي ہيں کہ کسي بھي خطرے سے نمٹنے کے ليے ضروري ہے کہ بچوں کو اس خطرے سے لڑنے کے قابل بنايا جائے۔

آگاہي سيشن ميں بچوں کو کيا سکھايا جاتا ہے؟

ارم بتاتي ہيں کہ انھوں نے اپني مدد آپ کے تحت بچوں کے ليے آگاہي سيشن ترتيب ديا اور سيشن کے دوران استعمال ہونے والي اشيا کا انتظام انھوں نے گھر سے کيا تھا۔

ارم ہر ديہات کا پہلے سے دورہ کرتي ہيں، وہاں کے علاقہ مکينوں سے بات کرتي ہيں، وہاں کے لوگوں کو گاؤں ميں اپنے آنے کے مقصد سے آگاہ کرتي ہيں اور ہفتے کے کچھ دن مخصوص کر کے انھيں آگاہي سيشن دينے پہنچتي ہيں۔

مقررہ دن وہ وہاں پہنچ کر اپنا سامان سيٹ کرتي ہيں اور لاؤڈ سپيکر سے بچوں کو پکارتي ہيں۔ بچے ان کي آواز سن کر فوراً جمع ہو جاتے ہيں اور پھر ارم اپنا سيشن شروع کر ديتي ہيں۔

وہ بچوں کو مختلف تصاوير اور خطرناک جانوروں کے کھلونے دکھا کر ان ميں پہلے خطرے کا شعور پيدا کرتي ہيں، پھر اسي شعور کو وہ انسانوں سے جوڑ ديتي ہيں کہ بچوں کو خطرہ کن اور کس طرح کے لوگوں سے ہو سکتا ہے۔

’موبائل اويئرنيس سينٹر ميں ہم نے کھلونے اور پلے کارڈز رکھے ہيں جن کے ذريعے بچوں کے اندر تحفظ اور خطرے کا شعور پيدا کيا جاتا ہے جبکہ مائيک اور لاؤڈ سپيکرز بھي موجود ہيں تاکہ آس پاس کے گھروں اور دکانوں پر موجود والدين بھي جان سکيں کہ ان کے بچوں کو کيا سکھايا، سمجھايا اور بتايا جا رہا ہے۔‘

اپنا دفاع کيسے کرنا چاہيے؟

سيشن کے دوران ارم بچوں کو اپنے دفاع کے گر بتاتي ہيں۔

وہ انھيں بتاتي ہيں کہ اگر کوئي شخص ان کے مخصوص اعضا کو چھونے کي کوشش کرے تو انھيں کيسے چيخنا چاہيے اور اگر کوئي ان کو پکڑنا چاہے تو اپنا دفاع کرتے ہوئے مد مقابل کو کيسے ٹانگ مار کر بھاگنا چاہيے۔

وہ بچوں کو عملي طور پر بھاگ کر بھي دکھاتي ہيں اور بچے بھي ان کي طرح ہي بھاگتے ہيں۔

يہي نہيں، سيشن ميں انھيں يہ بھي بتايا جاتا ہے کہ ’خطرہ‘ ان کو ان کي پسنديدہ چيز کا لالچ بھي ديتا ہے۔ وہ انھيں بتاتي ہيں کہ انھوں نے لالچ ميں نہيں آنا۔ وہ انھيں بتاتي ہيں کہ ان کے والدين ہي ان کا تحفظ ہيں چنانچہ والدين کو فوري اور ضروري بتانا ہے۔

ارم کے مطابق بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسي تشدد کے ايسے واقعات ميں ايک وجہ والدين اور بچوں کے درميان دوستي نہ ہونا بھي ہے۔ وہ والدين کو بھي سيشن ديتي ہيں اور انھيں آگاہ کرتي ہيں کہ کيسے انھوں نے اپنے بچوں کے ساتھ دوستي پيدا کرني ہے تاکہ وہ بلا جھجھک اپنے والدين کو اپنے مسائل بتا سکيں۔

’بچوں کے تحفظ کے ليے ضروري ہے کہ والدين اور بچوں کي دوستي ہو کيونکہ جب والدين اور بچوں ميں خلا ہو گا تو کوئي بھي اجنبي درميان ميں آ کر اس فاصلے کو پر کرنے کي کوشش کرے گا۔‘

اپني مدد آپ کے تصور کا فروغ

ارم کہتي ہيں کہ ايسے واقعات کي روک تھام کے ليے ہم کب تک اس انتظار ميں رہيں گے کہ کوئي باہر سے آئے گا اور ہمارے بچوں کو بتائے گا۔ ’ہميں اپنے بچوں کو خود بتانا ہے اور ہميں اپني مدد آپ کو فروغ دينا چاہيے۔‘

’اپني مدد آپ کے تحت اگر ہم چاہيں تو ہم يہ ذمہ داري بہتر نبھا سکتے ہيں ہم بچوں کو سمجھا سکتے ہيں اور ان کو تحفظ فراہم کر سکتے ہيں۔‘

تاہم ان کے مطابق حکومت کو بھي چاہيے کہ بچوں کے حوالے سے قوانين ميں ترميم کرے اور سکولوں ميں بھي جنسي آگاہي کو نصاب کا حصہ بنايا جائے۔

مرنے سے پہلے ايک خواہش

ارم کينسر کي مريضہ بھي ہيں۔ انھيں بيضہ داني کا سرطان ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق ان کي زندگي بچانے کے ليے ضروري ہے کہ ان کے جسم سے توليدي نظام نکال ديا جائے۔

اس سے پہلے بھي ارم کے متعدد بار آپريشنز ہو چکے ہيں مگر انھوں نے ہمت نہيں ہاري۔ ارم کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ گزارے گئے وقت سے انھيں طاقت ملتي ہے اور ان ميں جينے کي امنگ پيدا ہوتي ہے۔

’جب ڈاکٹرز نے مجھے بتايا کہ ميرے پاس کوئي اور حل نہيں ہے تو ايک عورت ہوتے ہوئے يہ ميرے ليے بے حد تکليف دہ تھا۔ تين چار دن ميں بہت روتي رہي مگر پھر ميں نے فيصلہ کيا کہ جتني بھي زندگي ميرے ہاتھ ميں باقي ہے اسے بچوں کے ليے مخصوص کر دوں۔‘

’موت ميرے ساتھ ساتھ ميرے پيچھے پيچھے چل رہي ہے مگر جب ميں ان بچوں کے ساتھ ہوتي ہوں مجھے اپني تکليف بھول جاتي ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *