دھرنا ۔ دھرنا ۔ دھرنا تو مرغی کا ہوتا ہے

مدیر اعلیٰ محی الدین عباسی

مشہور کہاوت ہے مرغي حراماً نہ ہو تو دوسرے گھر انڈا کيوں دے۔ ’’ دھرنا ‘‘ ہميشہ مرغي کے دھرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اس کا مطلب يہ سمجھا جاتا authorتھا کہ مرغي اب اور انڈے نہيں دے گي بلکہ انڈوں کو سينے کے لئے قدرتي نظام کے مطابق انڈوں پر بيٹھ کر ان ميں سے بچوں کے نکلنے کا فريضہ انجام دے گي۔

ہمارے مذہبي اور غير مذہبي سياستدانوں نے جس طرح ’’ لوٹے ‘‘ لفظ پر قبضہ کيا تھا اور اس لفظ کو معروف برتن کے ساتھ ساتھ ہر شخص پر بولنے لگے جو اپني سياسي جماعت يا نظرئيے کو چھوڑ کر دوسري جماعت يا نظرئيے کو اپنائے اور اس کا اپنا کوئي مستقل موقف يعني پيندا نہ ہو۔ اب جس لفظ پر قبضہ جمايا جا رہا ہے وہ ہے ’’ دھرنا ‘‘ ۔ معلوم يہ ہوتا ہے کہ اس لفظ ميں جو يہ مفہوم تھا کہ مرغي انڈے دينے کے کام سے يا اپنے مفيد کام سے دستبردار ہوچکي ہے۔ اسے نظر انداز کرديا گيا ہے ورنہ کون سا ايسا سياستدان ہے جو يہ تسليم کرنے کو تيار ہوگا کہ اس کي افاديت ختم ہوچکي ہے اور اس کا کام کرنے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے۔ 

’’ دھرنا ‘‘ اب ان معنوں ميں استعمال ہو رہا ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ايک جگہ بيٹے يا ليٹے رہيں گے جب تک مذکورہ مقاصد حاصل نہيں ہوجاتے۔ يہ لفظ اور يہ طريق بہت مقبول اور عام ہورہا ہے۔ کھلاڑي لڑکے اور بچے ، معمر و معزز بزرگ ، فيشن ايبل خواتين اور کالجوں سکولوں کي لڑکياں لڑکے سب ہي اس ميں شامل ہونے لگے البتہ يہ امر غور طلب ہے کہ ايسے دھرنوں سے کتنے چوزے نکلے يا کتنے بچے حاصل ہوئے۔ پاکستان ميں دو دھرنے مشہور ہوئے ۔ ايک مشہور عالم مذہبي رہنما عوامي ليگ کے طاہر القادري دوسرا کرکٹ کے کھلاڑي غير مذہبي ليڈر عمران خان ۔ طاہر القادري نے بڑي بڑي تقارير کيں ۔ آج يہ نظام ختم ۔ يہ حکومت ختم۔ اب نيا نظام آيا ہي چاہتا ہے۔ ہم يہ کرديں گے وہ کر ديں گے۔ ہر چينل پر لمبے لمبے پروگرام چلے۔ لوگ خوشي کے مارے اچھے نتائج کا انتظار کرنے لگے خاص طور پر اس لئے بھي کہ اس دھرنے ميں قبريں کھودے اور کفن وغيرہ بھي دکھائے گئے اور مرنے مارنے کي حد تک جا کر اپنے مقاصد حاصل کيا جائے گا مگر ہوا کيا پتہ چلا موصوف کينيڈا واپس چلے گئے اور پاکستان ميں ويسا ہي رہا جيسا کہ پہلے۔ 

يہاں سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ دھرنا ناقص تھا يا انڈے ناقص تھے۔ مولانا موصوف اب تو سياست ہي چھوڑ چکے ہيں۔ دوسرا دھرنا مشہور کھلاڑي آج کے وزير اعظم عمران خان صاحب کا تھا جو عالمي سطح کا طويل ترين دھرنا 126 دن کا ۔ ان کي سياست کا 24 سال کا يہ سفر آخر وزير اعظم بنا گيا ليکن يہ بھي دھرنے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکے ان کے دھرنے ميں يہ نعرہ بھي تھا کہ وزير اعظم نواز شريف کے استعفيٰ کے بغير واپس نہيں جائيں گے ليکن نتيجہ حاصل کئے بغير ہي گھر واپس چلے گئے اور دھرنا ختم کرديا۔ دھرنے کے بعد اگر چوزے اور بچے نہيں نکلے تو يہي سمجھا جا سکتا ہے کہ مرغي دھرنے کے دوران راتوں کو دھرنا چھوڑ کر کہيں اور نکل جاتي تھي اور اس طرح دھرنے کا قدرتي طريق درہم برہم ہوجاتا تھا اور ايسي صورت ميں تو انڈے گندے اور خراب ہي ہوسکتے تھے۔ اچھے نتائج کي توقع عبث اور فضول تھي۔ اب حاليہ دنوں کا تيسرا دھرنا بھي انہي دھرنوں سے مماثلت رکھتا ہے ليکن ايک بات ان دونوں مذہبي دھرنوں مولانا طاہر القادري اور مولانا فضل الرحمن کا ۔ يہ خالصتاً مذہبي رہا اور کھول کر مذہبي کارڈ کا استعمال ہوا۔ ختم نبوت اور توہين رسالت کے نام کو استعمال کيا گيا جو خدا تعاليٰ کو پسند نہيں آيا اسي لئے يہ ناکام رہے دوسرا غير مذہبي تھا جو کچھ پروان چڑھا۔ 

مولانا کے دھرنے نے کئي سوالات کو جنم ديا۔ ايک تو ان کا دعويٰ کہ دس پندرہ لاکھ کا جلسہ ہوگا، وزير اعظم کا استعفيٰ ، اسلام آباد کو بند کرديں گے، اس کے بعد پورے پاکستان کو بند کرديں گے۔ ان ميں سے کچھ بھي ايسا نہيں ہوا خالي ہاتھ مولانا کو گھر واپس جانا پڑا۔ پچھلے ماہ کے آرٹيکل ميں راقم الحروف نے ايسا ہي تجزيہ کيا تھا ۔ مولانا کے دھرنے کو ختم کرتے وقت سياسي کھلاڑي  ’’ ق ليگ ‘‘ کے چوہدري پرويز الٰہي کے درميان کيا معاہدہ ہوا وہ بھي کھل کر سامنے آجائے گا وقت کا انتظار کريں۔ ہونا کچھ نہيں ملنا کسي کو کچھ نہيں البتہ جو کوشش اور خواب چوہدري پرويز الٰہي ديکھ رہے ہيں يعني وزير اعليٰ پنجاب کي کرسي کے وہ انہوني نہيں چونکہ سياست ميں ايسے بے رحم فيصلے ہوتے رہے ہيں ۔ اب ديکھنا يہ ہے کہ جو لولي پاپ مولانا فضل الرحمن کو چوہدري صاحب نے دي اس کا آپريشن کب ہوتا ہے؟  ياد رہے جب چوہدري صاحب وزير اعليٰ پنجاب تھے اس وقت مولانا فضل الرحمن کے دل کا آپريشن کراچکے ہيں اور وہ بھي امريکہ کے مشہور احمدي ڈاکٹر مبشر صاحب سے جو اب تک مولانا کا دل ٹھيک کام کررہا ہے ۔ کيا اب دوبارہ ايسا ہونے والا ہے؟ يہ بھي حقيقت ہے کہ موصوف بڑے بے آبرو ہو کر تيرے کوچہ سے ہم نکلے۔ مولانا نے اس دھرنے ميں مالي فوائد ضرور حاصل کئے اس ميں کوئي دو رائے نہيں ايجنسيوں کو اس کي رپورٹ ہے۔ بقول مشہور صحافي اينکر پرسن سميع ابراہيم کے کہ مولانا کے دھرنے ميں غير رجسٹرڈ شدہ، اسمگل شدہ افغانستان کے ذريعہ 400 اعليٰ قسم کي گاڑياں ان کے قافلے ميں شريک ہوکر اسلام آباد کے شو رومز ميں پہنچ گئي ۔ في کار سات آٹھ لاکھ روپے مولانا کو ملے ۔ اس کے علاوہ دو بڑي سياسي پارٹيوں نے بھي کروڑوں روپے دئيے۔ مولانا کرپشن کے کھلاڑي ضرور ہيں مالي فائدہ لئے بغير گھر نہيں گئے۔ مذکورہ بالا دونوں دھرنوں کا زمانہ چند سالوں کے لئے مؤخر ہوگيا۔ ايک بات جو ديکھي گئي ان دھرنوں ميں کہ اخلاق و قانون کا جنازہ نکال ديا گيا۔ لا قانونيت کي ترغيب دي گئي، بد اخلاقي کے عملي مظاہرے ديکھے گئے ۔ اے کاش ہمارے نام نہاد ليڈر اور رہنما دہشت گردي، اتنہا پسندي ، عدم برداشت ، غربت ، جہالت اور مہنگائي کو ختم کرنے ميں اپني توانائياں صرف کرتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *