ديکھا جو تير کھا کے کميں گاہ کي طرف

تحریر: خالد مسعود خان

برسوں پراني بات ہے، ميں اپنے ايک دوست کے پاس اس کے دفتر ميں بيٹھا تھا۔ ميرا يہ دوست تب لاہور کا ڈپٹي کمشنر تھا اور يہ دفتر لوئر مال پر واقع ہے۔ باتوں ہي باتوں ميں لاہور کے سنٹرل ماڈل سکول کا ذکر چل نکلا۔ کيا شاندار سکول تھا؟ کيسي درخشاں روايات تھيں اور کيسا سنہرا منظر نامہ، جب لوگ باگ اس سکول ميں اپنے بچے کے داخلے کو باقاعدہ ’’تحفہ‘‘ سمجھتے تھے۔ تب کوئي بچہ سنٹرل ماڈل سکول ميں داخل ہو جاتا تھا تو اس کے ماں باپ بالکل ويسي ہي خوشي محسوس کرتے تھے جيسي آج کل ماں باپ اپنے بچے کو کسي اعليٰ رينک کي امريکي، آسٹريلين يا برطانوي يونيورسٹي ميں داخلہ ملنے پر محسوس کرتے ہيں۔ سنٹرل ماڈل سکول ميں داخلے سے محروم رہ جانے والوں کي حسرت قابل ديد ہوتي تھي اور پھر داخلے کے ليے ’’براستہ بٹھنڈہ‘‘ والي کاوشيں قابل ديد ہوتي تھيں۔ ڈي پي آئي، ڈائريکٹر سکولز اور سيکرٹري تعليم وغيرہ کي سفارش ڈھونڈي جاتي تھي۔ حتيٰ کہ لوگ ڈپٹي کمشنر وغيرہ سے بھي کہلواتے تھے؛ تاہم اس قسم کے داخلوں کي تعداد آٹے ميں نمک سے بھي کم ہوتي تھي۔ تبھي اس سکول کا نام بھي روشن تھا اور کام بھي اونچا تھا۔ پھر اس سکول کے ساتھ بھي وہي ہوا جو ہماري سوسائٹي ميں سب اداروں کے ساتھ ہوا۔ سفارش، آرام طلبي، سرکاري سکولوں کي سرپرستي سے محرومي، چيک اينڈ بيلنس کے نظام کي بربادي اور سرکار سے کام نہ کرنے کے عوض تنخواہ لينے کے کلچر نے سارے سرکاري سکولوں کا بيڑہ غرق کر ديا۔ سنٹرل ماڈل سکول کون سا مريخ پر واقع تھا۔ اس کے ساتھ بھي وہي ہوا جو سب کے ساتھ ہوا؛ تاہم ايک روشن ستارے کا ماند پڑ جانا زيادہ دکھ کا باعث بنتا ہے، سو يہ روشن ستارہ بھي بجھ گيا۔

ڈپٹي کمشنر صاحب نے اپنے دفتر کي پچھلي جانب والي کھڑکي کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس کھڑکي کے پيچھے عدالتيں ہيں اور ان کے پيچھے سنٹرل ماڈل سکول ہے‘ لاہور کا سب سے روشن روايات کا حامل سکول۔ اس سکول کے طلبہ ميں کيا کيا نام تھے‘ ملک معراج خالد، جسٹس (ر) خليل الرحمان رمدے، جسٹس (ر) جاويد اقبال، جسٹس (ر) نسيم حسن شاہ، ايئر چيف مارشل (ر) سہيل امان، چوہدري شجاعت حسين، چوہدري پرويز الٰہي، مولانا طارق جميل، رميز حسن راجہ، خالد عباس ڈار اور بہت سے اور لوگ جن کے بارے ميں مجھے معلوم نہيں‘ ليکن ايسے لوگوں کي تعداد درجنوں يا سينکڑوں ميں نہيں، ہزاروں ميں ہے۔ 1883ء ميں مڈل سکول کے طور پر قائم ہونے والا يہ سکول 1888ء ميں ہائي سکول کے درجے تک اپ گريڈکر ديا گيا۔ بچوں کي تعداد زيادہ ہونے پر 1891ء ميں اسے پراني بلڈنگ سے، جو سنٹرل ٹريننگ کالج ميں تھي، نئي عمارت ميں شفٹ کر ديا گيا۔ تب سے يہ سکول اسي عمارت ميں ہے۔ اسے قائم ہوئے قريب 136 سال ہو گئے ہيں۔ ملتان کا پائيلٹ سيکنڈري سکول اس سے تقريباً تين سال بعد قائم ہوا۔ آج پائيلٹ سيکنڈري سکول ملتان کو قائم ہوئے 133 سال ہو چکے ہيں۔ ابا جي مرحوم نے ميٹرک پائيلٹ سيکنڈري سکول ملتان سے کيا تھا۔

ڈپٹي کمشنر صاحب نے اس سکول کا الميہ بيان کرنا شروع کر ديا اور سارا ملبہ سکول انتظاميہ پر، اساتذہ پر، سفارش کے کلچر پر اور حادثاتي طور پر استاد بننے والي ٹيچرز کميونٹي پر ڈال ديا۔ ميں سنتا رہا۔ پھر ميں نے اس سے پوچھا: برادر عزيز! يہ بتائو تمہارے بچے کس سکول ميں پڑھتے ہيں؟ اس نے ايک مشہور انگلش ميڈيم سکولوں کي چين کا نام ليا۔ ميں زور سے ہنس پڑا۔ اس نے حيران ہو کر ميري طرف ديکھا اور کہنے لگا: بھلا اس ميں ہنسنے کي کيا بات ہے؟ ميں نے کہا: ہنسنے کي واقعي کوئي بات نہيں، دراصل يہ رونے کي بات ہے جس پر ميں غلطي سے ہنس پڑا ہوں۔ وہ پھر پوچھنے لگا: چلو ہنسنے کي بات چھوڑو، يہ بتائو يہ رونے والي بات کہاں سے آ گئي؟ ميں نے کہا: دراصل اس سکول کے تعليمي انحطاط، اس سکول کي بربادي اور اس نامور سکول کے تحت الثريٰ ميں گرنے کي وجہ آپ لوگ ہو اور اس کا سارا ملبہ حسب معمول دوسروں پر ڈال رہے ہو۔ پاکستان ميں يہ رواج عام ہے کہ اپني خرابيوں،کوتاہيوں اور نالائقيوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال دو۔ کيا سياستدان، کيا بيوروکريسي اور کيا دوسرے ادارے۔ سب کا يہي کام ہے کہ اپني غلطي کي ذمہ داري دوسروں پر ڈالو اور اپني جان چھڑوا لو۔ اگر آپ کا بچہ آج اس سکول ميں پڑھ رہا ہوتا تو اس کا معيار بھي وہي ہوتا جو اس سکول کا ہے، جہاں آج آپ کا بچہ زير تعليم ہے۔ جب تک آپ لوگوں کے بچے ان سرکاري سکولوں ميں پڑھتے رہے‘ آپ لوگ ان سکولوں کي سرپرستي کرتے رہے۔ ان سکولوں کو مانيٹر کرتے رہے۔

ان سکولوں کے تعليمي معيار کے بارے ميں فکر مند بھي رہے اور ان کي بہتري کے ليے کوشاں بھي رہے۔ آخر آپ کے بچوں کے طفيل آپ کي اگلي نسل کا مستقبل ان سکولوں سے وابستہ تھا۔ جيسے ہي آپ لوگوں نے اپنے بچوں کو ان سکولوں سے نکالا اور ’’لش پش‘‘ والے انگريزي ميڈيم سکولوں ميں داخل کروانا شروع کيا، سرکاري سکولوں کے بارے ميں آپ کا سارا کنسرن ہي ختم ہو گيا۔ ملنا جلنا ختم ہو تو رشتہ دارياں ختم ہو جاتي ہيں۔ يہ ادارے کيا چيز ہيں؟ آپ کي سرپرستي ختم ہوئي، آپ کي فکر مندي رخصت ہوئي، آپ کي ان سکولوں سے اپنائيت اختتام کو پہنچي، آپ کا ان سکولوں سے رشتہ منقطع ہوا‘ يہ سکول لاوارث اور يتيم ہو گئے۔ حال خراب ہو گيا‘ تعليمي معيار برباد ہو گيا، عمارتيں تباہ ہو گئيں، ميرٹ ختم ہو گيا، اچھے طالبعلم آنا بند ہو گئے۔ آج آپ اپنے دفتر کے عقب ميں واقع اس تاريخي اور نابغہ سکول سے مکمل لاتعلق ہيں۔ آپ کا اس سکول سے کوئي رشتہ نہيں، کوئي واسطہ نہيں، کوئي قلبي تعلق نہيں۔ آپ صرف مگر مچھ والے آنسو بہا رہے ہو۔ اس دکھ سے آپ کا کوئي ذاتي واسطہ يا لينا دينا نہيں ہے۔ محض قوم کا درد محسوس کرنے کا ڈرامہ کر رہے ہو۔ اگر درد ہوتا، ہمدردي ہوتي، کوئي تعلق ہوتا تو يہ سکول اس طرح تباہ نہ ہو گئے ہوتے۔ آج سرکار يہ حکم جاري کر دے کہ کسي سرکاري افسر‘ خواہ وہ کمشنر ہو يا ڈپٹي کمشنر، چيف سيکرٹري ہو يا ڈائريکٹر سکولز‘ کے بچے سرکاري سکول کے علاوہ کہيں اور داخلہ نہيں لے سکتے تو تم ديکھو گے کہ انہي سکولوں کا معيار پھر سے کس طرح بلند ہوتا ہے۔ ان ميں داخلے کے ليے دوبارہ سے کيسي دوڑ لگتي ہے اور يہ سکول کس طرح سے اپني ماضي کي روايات کو زندہ کرتے ہيں۔ ميرا دوست ادھر اُدھر کي مارنے لگ گيا۔ اس کے پاس ميرے سوال کا کوئي منطقي جواب نہيں تھا۔

گزشتہ دنوں مجھے ايک ميل آئي۔ يہ کسي پروفيسر کي تھي۔ ملتان کے گورنمنٹ کالج آف سائنس کے کسي استاد نے درد دل کا حال بيان کيا تھا۔ ملتان کا يہ تعليمي ادارہ بڑے شاندار ماضي کا حامل ہے۔ جب ميں گورنمنٹ ايمرسن کالج ميں پڑھتا تھا تب يہ کالج صرف اور صرف سائنس کي تعليم کے ليے مختص تھا۔ ايف ايس سي اور بي ايس سي کي کلاسز اس کالج ميں لگتي تھيں۔ آرٹس کے طلبہ کي تعليم کا کم از کم اس وقت اس کالج ميں کوئي بندوبست نہيں تھا۔ تب خواجہ اظہر صاحب جو نہايت ہي شاندار استاد، منتظم اور ماہر تعليم تھے اس ادارے کے پرنسپل تھے۔ ايسے پروفيسر بھي اب عنقا ہو گئے ہيں۔ کالج ميں جائيں تو ايسي خاموشي اور ويراني سي کہ لگتا تھا کہ کالج ميں چھٹي ہے۔ صرف پيريڈ کے تبديل ہونے پر چہل پہل مچتي تھي وگرنہ سو فيصد لڑکے کلاسوں ميں ہوتے تھے۔ ميڈيکل کالجز اور انجينئرنگ يونيورسٹي ميں اس کالج کے بہت سے لڑکے داخلہ حاصل کرتے تھے۔ آج يہ عالم ہے کہ کوئي اچھے نمبروں والا طالب علم اس ادارے ميں داخلہ لينے نہيں آتا۔ اس کالج کے ايک پروفيسر نے اس الميے پر ميل بھيجي ہے کہ آج وہ بطور پروفيسر شرمندہ ہے۔ 

پروفيسر صاحب لکھتے ہيں: آج ميں بطور پروفيسر شرمندہ ہوں۔ گورنمنٹ کالج آف سائنس ملتان، ملتان شہر کا تدريس، روايات، تقريبات اور نظم و ضبط کے اعتبار سے اعليٰ معيار کا حامل سرکاري ادارہ ہے۔ ملتان شہر ميں بوائز اور گرلز کالج کي تعداد پندرہ سے زائد ہے۔ کالج پروفيسرز کي تعداد پندرہ سو سے زائد ہے۔ بہت سے پروفيسرز کے بيٹوں نے اس سال ميٹرک کا امتحان پاس کيا ہے۔ ليکن ايک پروفيسر کے بيٹے نے ميرے کالج ميں داخلہ فارم جمع نہيں کروايا۔ ميں نے خود تمام داخلہ فارمز کو چيک کيا۔ عجيب منافقت ہے نوکري سرکاري کالج کي سب سے اچھي ليکن اپنے بچوں کے ليے سرکاري کالج ناپسند۔ ہم سب پروفيسرز نے انہي کالجز ميں تعليم حاصل کي۔ چار ہزار روپے سالانہ فيس کي جگہ ايک لاکھ سالانہ فيس بھرنے کو ترجيح ديتے ہيں۔ اگر پرائيويٹ کالجز ميں تدريس بہتر ہے تو کيا ہم بد ديانت ہيں؟ اگر وہاں ٹيسٹ سسٹم اور نظم و ضبط بہتر ہے تو کيا ہم مجرمانہ غفلت اور خيانت کر رہے ہيں؟ پرائيويٹ کالجز ميں داخلہ سٹيٹس سمبل بنتا جا رہا ہے۔ سرکاري کالجز کے پروفيسرز کا اپنے ادارے پر عدم اعتماد اپنے کوليگز کي قابليت اور ديانت پر زناٹے کا طمانچہ ہے۔ مجھے دکھ ہے ميں معاشرے کا اعتماد پہلے ہي کھو چکا ہوں، اب ميں اپنے ساتھي پروفيسرز کا اعتماد بھي کھو چکا ہوں۔ ديکھا جو تير کھا کے کميں گاہ کي طرف…

ميرا خيال ہے اس مختصر سي ميل نے ہمارے سارے سرکاري تعليمي نظام کا پوسٹ مارٹم کر کے رکھ ديا ہے اور ظاہر ہے پوسٹ مارٹم مردے کا کيا جاتا ہے زندہ کا نہيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *