بائيو ميٹرک کيا ہے اور کيا نہيں ہے

تحریر: سعد اللہ جان برق

کسي کا قول ہے اور جب ’’قول‘‘ ہے تو کسي بزرگ کا ہي ہو گا اور جب کسي بزرگ کا ہے تو پھر ’’زرين‘‘ بھي ہو گا کيونکہ پرانے زمانوں ميں ’’زر‘‘ نہايت ہي سستا تھا۔

کسي بزرگ کا قول زرين يہ ہے کہ علم سمندر ہے، اس ميں کہيں بھي کچھ بھي ممکن ہو سکتا ہے جو چاہو اس ميں مل سکتا ہے، اس ليے اتنا عرصہ اس ناہنجار نابکار سرابرہ مکار دنيا ميں بغير کسي جرم کے قيد بامشقت گزارنے کے باوجود اب بھي ايسي بہت ساري چيزيں ہيں جو ہمارے سر کے اوپر سے گزر جاتي ہيں مثلاً ہم نے ميٹرک سنا تھا، انڈر ميٹرک سنا تھا، بابو ميٹرک سنا تھا، ناپ تول کا ميٹرک يعني اعشاري نظام سنا تھا ليکن يہ ’’بائيو ميٹرک‘‘ نہيں سنا تھا يا يوں کہيے کہ ان دونوں يعني ’’بائيو‘‘ اور ’’ميٹرک‘‘ کو يوں ايک ساتھ نہيں سنا تھا ۔

دونوں کو الگ الگ ديکھتے اور سنتے آئے تھے مثلاً بائيو کيمک سنا تھا، بائيو گيس سنا تھا، بائيوٹک سنا تھا، بائيو گرافي سے بھي واقف تھے حتيٰ کہ بائيو کھاد اور بائيو آب کے بارے ميں بھي سنا تھا بلکہ ان سب کي ’’مادر محترمہ‘‘ بائيولوجي سے بھي کسي حد تک شناسائي تھي ليکن يہ ’’بائيو ميٹرک‘‘ بہت سارے لوگوں سے پوچھا بھي کہ کہاں سے آئي يہ جليبي بائي ليکن کسي نے بتا کر نہ ديا ، اصل ميں سارا مسئلہ يہ ہے کہ ہم کچھ زيادہ پڑھے لکھے نہيں‘ لکھے تو بہت ہيں ليکن کچھ زيادہ پڑھے نہيں ہيں، اس کي وجہ يہ ہے کہ ايسے تمام مقامات جن پر درس گاہ کي تہمت لگائي جا سکتي ہے۔ہم کبھي نہيں گئے ۔ جانے کي حد تک گئے ضرور ہيں ليکن ہماري قسمت ہمارے ساتھ ہوتي تھي اس ليے کوئي نہ کوئي حادثہ‘ وقوعہ يا لفڑا ايسا ہو جاتا تھا جس کے نتيجے ميں ہمارے ساتھ وہي کچھ پيش آتا جو ہمارے جد امجد حضرت آدم اور اس کے بعد ہمارے پيرو مرشيد حضرت غالب کے ساتھ پيش آيا تھا يعني

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے ليکن

بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

ويسے اس بات پر ہميں تھوڑا سا فخر بھي ہے کہ کسي اور بات ميں نہ سہي کم از کم ’’بے آبروئي‘‘ ميں تو ہم اپنے جد امجد اور پير و مرشيد پر گئے ہيں‘ وہ مقامات جن پر درس گاہ ہونے کي تہمتيں لگي ہوئي تھيں يا لگائي جا سکتي ہيں، وہاں ہماري بے آبروئي کا تعلق اصل ميں ستاروں سے ہے کيوں کہ ايسے مقامات پر جب بھي ہم جاتے کوئي نہ کوئي ايسي انہوني ہو جاتي جس کے نتيجے ميں ہماري ان سے نہ نبھ پاتي اور ہم گھر لوٹ آتے تھے، زيادہ تر اور شديد اختلافات درسي کتب لکھنے والوں سے ہوتے تھے کيوں کہ وہ اکثر ’’ترکي زبان‘‘ ميں لکھے ہوتے اور ہم

زبان يار من ترکي و من ترکي نہ مي دانم

کہتے ہوئے نہايت ہي ’’آبرو‘‘ کے ساتھ وہاں سے نکل آتے ’’آب رو‘‘ يعني چہرے پر پاني تو جانتے ہي ہوں گے چنانچہ ہمارا سارا تعليمي عرصہ لگ بھگ انيس گھنٹے بنتا ہے جو کل ملا کر نو درس گاہوں پر تقسيم کيا جائے سوائے ايک کے جہاں ہم نے پورے نو گھنٹے گزارے تھے کيوں کہ استاد چھٹي پر تھا ، ظاہر ہے کہ اندريں حالات ہمارا پڑھنے کا ريکارڈ تو ناگفتہ بہ حد تک کم زور بلکہ ہر چند کہيں کہ ہے نہيں ہے البتہ لکھنے ميں ہم ہميشہ ٹاپ کرتے تھے۔

کيوں کہ اتنے تعليمي عرصے ميں ہم نے ديواروں پر اپنے دوستوں اور دشمنوں کے بارے ميں اچھے خاصے تحريري کارنامے کيے اور مسلسل پريکٹس سے اتني قابليت بہم پہنچائي کہ اب وہي کام کاغذ پر بھي کر سکتے ہيں ، ايسے ميں جب ’’بائيو ميٹرک‘‘ جيسے مشکل الفاظ سے واسطہ پڑتا ہے تو پريشاني تو ہوتي ہي ہے ليکن خدا ہمارے پڑھنے والوں کو سلامت رکھے کہ ہم اپني پريشاني کو شيئر کر ليتے ہيں۔

ہماري تو جہاں تک اس ناقابل بھروسہ سمجھ ميں آيا ہے کہ بائيو اور ميٹرک کو الگ الگ کر ديا جائے تو بائيو کا مطلب ہوا اور ميٹرک کا مطلب تو سوائے ’’ميٹرک‘‘ کے اور کچھ ہو ہي نہيں سکتا، آپ کا کيا خيال ہے، ہم آپ کو بالکل بھي تکليف نہ ديتے اگر ہميں لغات اور ڈکشنريوں سے سخت پرخاش نہ ہوتي کيوں کہ يہ دنيا کي وہ واحد قسم کي کتابيں ہوتي ہيں جن ميں گالياں بھي لکھي ہوئي ہوتي ہيں، آپ ہي بتائيں ايسي کتابوں کو بھلا کوئي پسند کر سکتا ۔

يہ تو سراسر غير شريفانہ بات ہے کہ ان گاليوں کي باقاعدہ تشريح بھي کي جاتي ہے اور يہ لوگ اپنے آپ کو عالم و فاضل کہہ کر اتنا بھي نہيں جانتے کہ گالياں تحريري شکل ميں بالکل بھي بے معني ہو جاتي ہيں ’’گالي‘‘ صرف زباني کلامي ہي زيادہ موثر ہوتي ہے چنانچہ ہم لغت اور ڈکشنري کو گھر ميں رکھنا تو کيا دس فٹ بانس سے چھونا بھي پسند نہيں کرتے ورنہ ’’بائيو ميٹرک‘‘ کو سمجھنے کے ليے اپنے پڑھنے والوں کو کيوں تکليف ديتے ليکن يہ بھي مت سمجھيے گا کہ ہم نے آپ کو تکليف دينے سے پہلے کسي اور سے رجوع نہيں کيا، علامہ برياني عرف برڈ فلو نے تو صاف انکار کرتے ہوئے ہميں الٹا مطعون کيا کہ اس قسم کي خرافات پر دھيان دينے کے بجائے اپنا وقت دو رکعت نفلوں اور ذکر اذکار ميں صرف کرتے، البتہ چشم گل چشم عرف قہر خداوندي سابق ڈينگي مچھر نے اچھي خاصي کوشش کي ليکن ناکام رہا اور ايک بڑا ہي قيمتي مشورہ بھي ديا جو زرين تو نہيں ليکن خاکين کا مستحق ضرور ہے۔

بولا ، يہ جو اخباروں ميں روزانہ ’’معلومات تک رسائي‘‘ کے ڈنکے بج رہے ہيں، تم ان معلومات والوں سے کيوں نہيں معلوم کرتے ليکن بے چارے کو يہ معلوم ہي نہيں تھا کہ وہاں تک پہنچنے کے ليے کسي ’’رستم‘‘ سے رجوع کرنا ہو گا جو ان ہفت خوانوں کو سر کر سکے جو ’’سرکاري‘‘ اور ’’معلومات‘‘ دونوں کے گرد بنے ہوئے ہيں، اس ليے قارئين اب آپ ہي کا آسرا ہے کہ يہ ’’بائيو ميٹرک‘‘ کيا ہے، ٹپ ہم ضرور دے سکتے ہيں، اس کا جائز يا ناجائز تعلق بلدياتي انتخابات سے ہے بلکہ ايک اور ٹپ يہ لے ليجيے کہ اب بلدياتي انتخابات بائيو ميٹرک سے نہيں ہوں گے ليکن پھر بھي اگر بائيو ميٹرک سے نہيں ہو رہے ہيں تو ’’کيا ‘‘ نہيں ہو گا کيوں کہ يہ بھي آج تک پردہ راز ميں ہے کہ انتخابات چاہے کسي قسم کے بھي ہوں اس سے کيا ہوتا ہے اور کيا نہيں ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *