اداریہ : شرم تم کومگر نہیں آتی

محی الدین عباسی

کیا نامو س ِ رسالت اور ختم نبوت پر دھرنا اور سیاست کرنا جائز ہے؟ اس مقدس لفظ کی توہین اور اس پر سیاست ہر اُس وقت کی جاتی رہی ہے جب کسی حکومت کو گرانا مقصود ہواور اسلام دشمن قو توں کے کہنے پر ملک میں انار کی ، انتشار برپا کرنا ہو۔ اس سلسلہ میں بچاری اقلیتوں کو بھی بے وجہ گھسیٹا جاتا ہے ۔ آنحضرت ﷺ جو تمام جہانوں کےلئے رحمۃ للعالمین ہیں ۔ انہوں نے تو اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی معاف کر دیا تھا۔حشر کے دن یہ کیا جواب دیں گے مگر شرم تم کونہیں آ تی ۔ بہر حال یہ قصہ نیا نہیں پرانا ہے بس بھیس بدل بدل کر عوام کے سامنے لایا جاتا رہا ہے ۔ اس ضمن میں کچھ تاریخی حقائق سے قبل مولانا فضل الرحمان جو جمیعت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ ہیں ،کے ناموس رسالت پر سیاسی دھرنا سےمتعلق اور ان کے بانی جماعت/تنظیم سےمتعلق مختصراً عرض کر دیتا ہوں ۔جمیعت علمائے اسلام ہند کا قیام 19نومبر9 191ءکو عمل میں آیا ۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن عثمانی دیوبندی شاگردوں اور معاونین کے ذریعہ فکر ِامدادی ، فکرِ عثمانی اور فکرِ رشیدی کی بنیادوں پر عمل میں آیا۔

اس مذہبی تنظیم کا مقصد ابتداءً غیر تشدد جہادی اور موجود بھارتی مسلم سماج میں ساتھ دینا تھا۔ ابتدا میں ان کی جماعت نے پاکستان بننے اور قائد اعظم کے مشن آزادی کی کھل کر مخالفت کی تھی ۔ پاکستان بننے کے بعد ان کی جماعت کےلوگ پاکستان چلے آئے یہاں آکر انہوں نے جمیعت علمائے اسلام پاکستان کے نام سے دوسری شاخ بنائی۔ اس جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود نے کہا تھا کہ ’’شکر ہے میں پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھا۔ ‘‘ خود مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں کہ ’’میں یوم آزادی نہیں مناؤں گا‘‘، ان دونوں فقروں سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ اور یہ کہ دونوں باپ بیٹا ناموس رسالت اور ختم نبوت پر سیاست اور ملک سے بے وفائی ، غداری کرتے چلے آئے ہیں تاریخ کے مطالعہ اور اہم معلومات سےیہ بات ثابت ہے ۔آج مولانا فضل الرحمان کس دشمن ملک کے اشاروں پر ملک میں افراتفری خاص کر کشمیر کاز کو ثبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ۔ اور وہ بھی 27اکتوبر کےدن کشمیری یو م احتیاج مناتے ہیں ۔ انڈین فورس RSS کی طرز پر ان کی جماعت کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام تشکیل دی گئی ہے ۔

یہ انڈیا میں بھی قائم ہے ۔ اس تنظیم کوحکومت نے کالعدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 256 کی خلاف ورزی ہے ۔ وزارت ِ قانون اور وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں چند ویڈیوز سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس فورس کے کارکنان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہیں جن پر لوہے کی خارد دار تاریں لپٹی ہوئی ہیں۔ اس فورس کا مطلب حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا ہے ۔
گزشتہ جمعہ معروف صحافی امتیاز عالم نے مولانا موصوف سے سوال پوچھا آپ کا ایجنڈا کیا ہے۔ انہوں نے جواباً کہا کہ ملک سے دہشت گردی ،سیکیورٹی اداروں نے نہیں بلکہ ہم نے ختم کی ہے ۔ حالانکہ ایسا نہیں بلکہ انہوں نے اس کو مزید ہوا دی ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور ججز پر بھی تنقید کی۔
یہ ایک صوبائی جماعت ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ قومی سطح کی جماعت ہے ۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتےہیں کہ پوری قومی اسمبلی میں JUI کی محض 5/6نشستیں ہیں اور موصوف ملک بھر کی محض 2سے 3 فیصد ووٹ رکھنے والی جماعت ہے ۔ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کےمطابق 1998ءکے الیکشن میں ان کو 2.3 فیصد ووٹ ملے ۔ 1993ء میں بے نظیر بھٹو کے دور میں انہیں 2.2فیصد ، 2008ء میں 2.3 اور 2013ء میں بھی اتنے ہی فیصد ووٹ ملے تھے ۔ اس قدر کم ووٹوں کےساتھ مولانا موصوف ہمیشہ اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں ۔
یاد رہے 2018ء اور 1997ء کے الیکشن میں مولانا موصوف ہار گئے تھے 1997ء میں اداکارہ مسرت شاہین نے بُری طرح ان کو شکست دی تھی اور 2018ء میں PTI کے نوجوان علی امین گنڈا پور نے ۔
مولانا موصوف بغیر کسی واضح ایجنڈے کے’’ آزادی مارچ‘‘ کےلئے نکلے ہیں جو کہ واضح ہے ۔ ان کا ایجنڈا بیرونی سازش معلوم دیتا ہے ۔ آج انڈیا کےلوگ اور سوشل میڈیا والے بھرپور انداز میں ان کے دھرنےکےلئے خوشیاں منارہےہیں۔ اس لئے کہ ان کا مقصد عمران خان کی حکومت او رکشمیر کاز کو کمزور اورختم کرنا ہے۔ اس ضمن میں انڈیا کی جمیعت علمائے اسلام ہند کے سربراہ حسین مدنی نےکشمیر اور پاکستان دشمنی میں ایک پریس کانفرنس کی ، جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ مودی سرکار کے ایجنڈا پر کام کر رہے ہیں اس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کا آزادی مارچ کا اعلان کیا ۔ پاکستان کی اہم سیکیورٹی ادارے اس سے باخبر ہیں اور یہ کہ مولانا موصوف کو کروڑوں اربوں روپے کہاں سے مل رہے ہیں اس دھرنے کےلئے اور ا سکے اصل مقاصد کیا ہیں ۔ ’’ن‘‘ لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا کو کھڑا کیا کیونکہ یہ دونوں جماعتیں خود اس قابل نہیں کہ میدان میں آسکیں اور عوام کو سڑکوں پر لا سکیں ۔ آگے چل کر پتہ چلے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اس موقع پر جبیب جالب کا شعر یاد آیا ہے؛

سر ِمنبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاجِ غم نہیں کرتے فقط تقریر کرتے ہیں
ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا
کہ ہر قاتل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں

پاکستان میں دو بڑے فرقے ہیں ۔ ایک دیوبندی اور دوسرا بریلوی ۔ ان ہر دو فرقوں نے مذہب کا کارڈ خواب استعمال کیا یعنی ناموس رسالت اور ختم نبوت کا ۔ 2017ء میں فیض آباد کا دھرنا آپ کو یاد ہوگا۔ ممتاز قادری نے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کر دیا تھا جس پر اس کو پھانسی کی سزا ہوئی ۔ اس واقعہ کو انگیز دینے میں بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا خادم حسین رضوی (گالیوں والی سرکار) پیش پیش تھے۔ ان کی جماعت لبیک یا رسول اللہ نے سارے ملک میں تحریک چلائی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاممتاز قادری کا نامو س رسالت محمد ﷺکی حفاظت کےلئے تشدد اور قتل کرنا جائز تھا؟ اگر یہ ضروری تھا تو یہ کام مذہب و ملت اور مذہب کےنام پر سیاست کرنے والے عظیم مذہبی رہنماؤں یا ان کے بچوں نے کیوں نہ کیا۔ ( شہادت ) کا رتبہ۔ بعدازاں دھرنے کی سیاست پر یہ اپنے اپنے حصے کے کروڑوں روپے لے کر گھر کو چلے گئے اور دھرنا ختم کر دیا لیکن دہشت گردی کی عدالت میں ان کےمقدمات چل رہے ہیں ۔ لیکن ان سے ایک تحریر نامہ سائن کروایا گیا ۔ اس کے بعد وہ خاموش ہیں اور ٹھنڈے پڑچکے ہیں ۔ پاکستان بننے سے پہلے اور بعد ایسی کئی تحریکیں دم توڑ چکی ہیں ۔ 1951ء میں پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ’’یوم مارچ‘‘ منایا گیا تھا ۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں۔ ان فسادات میں درجنوں احمدیوں کوشہید کیا گیا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا اس کے بعد 1953ء میں پنجاب بھر میں فسادات پھوٹ پڑے۔ فسادات نے ایسا ہولناک رنگ اختیار کیا جس کی وجہ سے پنجاب کے مختلف مقامات پر ملٹری طلب کرنا پڑی اور لاہور میں حالات نا گفتہ بہ ہونے کے باعث مارشل لاء لگانا پڑا۔
مارشل لا ء کی فوجی عدالتوں نے کئی اہم مذہبی رہنماؤں کو عمر قید کی سزائیں دیں۔ ان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی امیر جماعت اسلامی اور مولانا عبدالستاری نیازی جماعت اہل سنت اور دیگر جماعتوں کے درجنوں مذہبی لیڈرز۔ اس تحریک کے نتیجہ میں ایک عدالتی کمیشن جسٹس منیر احمد کی سربراہی میں قائم ہو ۔ عدالتی کمیشن نے ان تمام سے مسلمان کی تعریف پوچھی تو کوئی بھی اس کی صحیح تعریف بیان نہ کر سکا ۔ دیکھیں تحقیقاتی عدالت رپورٹ 1954ء
اس ضمن میں مولانا فضل الرحمان کے بچپن کا ایک واقعہ جو ان کے والد مفتی محمود کا بیان کردہ ہے ملاحظہ فرمائیں۔ مشہور صحافی ڈاکٹر اجمل نیازی ( روزنامہ نوائے وقت 2012ء)میں لکھتے ہیں کہ مجھے سینئر صحافی اور یا مقبول جان نے یہ واقعہ سنایا جو خود انہوں نے مولانا عبدالستا ر خان نیازی سے سنا تھا ۔ مولانا عبدالستار نیازی مفتی محمود سے ملنے ان کے گھر گئے تو ایک نوجوان لڑکا بار بار کمرے میں داخل ہوتا اور مفتی محمود اسے بھگا دیتے ۔ مولانا نیازی نے پوچھا مفتی صاحب یہ لڑکا کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ میرا بیٹا فضل الرحمان ہے اور یہ پیسے لے کر میرے خلاف مخبری کرتا ہے۔ کل کا یہ نوجوان بچہ آج جوڑ توڑ کا بے تاج بادشاہ بن گیا اور آج یہ صدر پاکستان بننےکے خواب دیکھ رہا ہے۔ جہاں تک مولانا کے دھرنے کا تعلق ہے ، یہ ممکن نہیں کہ کامیاب ہوں انہیں خود گھر جانا ہوگا۔
ہم مسلمان بالخصوص مذہبی رہنما ہمہ وقت نبی کریم ﷺ کی دل آزاری میں مصروف ہیں وہ سب کا م کر رہے ہیں آج جن سے بنی کریم ﷺ نے منع کیا ہے اور وہ سب کام چھوڑ دیئے ہیں جن کا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور اسے فتنہ پردازوں سےپاک کر دے ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *