قادیانیت ایک پر اسرار بیماری، ایک ہتھیار

تحریر ابن قدسی ؔ

دنیا بھر میں احمدی احباب اپنے آپ کوحقیقی مسلمان کے طور پر متعارف کرواتے ہیں ۔لیکن ان کو ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے قادیانی اور بانی کے نام مرزا غلام احمد صاحب کی وجہ سے مرزائی کہا جاتا ہے ۔قادیانی اپنے آپ کو ایک مذہبی گروہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔بالکل الگ تھلگ ۔پاکستان میں ان کی کتابوں پر پابندی ۔ بات کرنے پر پابندی ۔کوئی ان کا موقف جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا ۔تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کے مخالف ایک طرف تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قادیانیت پاکستان کی جڑوں کو کاٹ رہی ہے گویا ان کی اتنی زیادہ تعداد ہے جو ملک کی جڑوں کو کاٹ سکتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے قادیانیوں کو 1974 ء میں کافر قرار دے کر ان کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ایک عجیب مخمصہ میں ڈال دیتا ہے ان کا یہ بیان ۔

پاکستان میں قادیانیت مخالف سرگرمیوں کا آغاز پاکستان بننے کے ساتھ ہوگیا تھا۔1949 میں احراریوں نے قادیانیوں کے خلاف محاذ شروع کیا جو 1953 میں پرتشدد شکل اختیار کر گیا ۔لاہور میں پہلا مارشل لاء لگا ۔بعد میں عدالتی کمیشن نے تحقیقات کیں اور اس ساری کارووائی کو اقتدارکے حصول کی کوشش قرار دیا۔صوبائی حکومت نے مرکزی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔کمیشن کی کاروائی شائع بھی ہوگئی ۔لیکن کسی نے ذمہ داران کا گریبان نہیں پکڑا کہ سراسر سیاسی مسئلہ کو مذہبی رنگ دیا گیا ۔1949سے 1953 کے جلسوں کی تقاریر کو دیکھا جاتا تو ان کا خلاصہ یہی تھا کہ قادیانی اسلام کے دشمن ہیں ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ان کو کلیدوں عہدوں سے ہٹایا جائے ۔ان کو کافر قرار دیا جائے ۔اسلام کو بچانا ہے تو قادیانیوں کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لو۔بعد کا عدالتی فیصلہ کہ یہ سب کچھ اقتدار کے حصول کے لیے کیا گیا ۔پھر بھی کہا جاتا ہے کہ قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں ۔

پھر 1974 ء کا قومی اسمبلی کا فیصلہ ۔اس کا آغاز بظاہر ایک ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے چند نوجوانوں کے ایک جھگڑے سے ہوا ۔اور نتیجہ نوے سالہ مسئلے کے حل کے طور پر سامنے آیا ۔مئی میں جھگڑ ا ہوا ۔اور ستمبر میں فیصلہ ہوا ۔اس دوران جلسے ہوئے ۔پرتشدد واقعات ہوئے ۔کئی احمدی ان واقعات میں بڑی بے دردی سے اپنی جان گنوا بیٹھے۔نعرہ وہی تھا قادیانی اسلام اور پاکستان کے دشمن ،کلیدی عہدوں سے ہٹاؤ،کافر قرار دو ۔اسلام کی سب سے بڑی خدمت ان کا خاتمہ ہے ۔نتیجہ اس وقت کی اسمبلی نے بظاہر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کئی دنوں کی بحث کے بعد فیصلہ سنا دیا اور قادیانیوں کو آئین اور قانون کی خاطر کافر قرار دیا ۔بعد میں بھٹو صاحب کے انتہائی قریبی ساتھی مکرم مبشر حسن صاحب نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی تھا ۔ گویا مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے قانون اور آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ۔اب پھر اس فیصلہ سے پہلے ہونے والے خطابات کو مدنظر رکھیں تو وہاں بھی اسلام کے شدید ترین خطرہ قادیانیت کو قرار دینا ملے گا لیکن فیصلہ کے بعد پتا چلتا ہے کہ وہ سب کچھ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا گیا ۔

مرد مومن مرد حق نے تو قادیانیت کی دشمنی میں تمام حدوں کو پار کر دیا ۔بنیادی حقوق تو ادا کرنا دور کی بات ہے ۔زندہ رہنا بھی مشکل کردیا ۔ آج اسی دور کو پاکستان کے لیے سیاہ ترین دورکہا جاتا ہے اوراسلام کو بدنامی کا داغ بھی اسی دور میں لگا ۔ اس کے علاوہ وقتا فوقتا ً قادیانیت اور قادیانی نواز لابی کا ذکر کرکے سخت بیانات دیئے جاتے ہیں ۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ احمدیوں کے عقائد کیا ہیں اور ان کو کیوں غیر مسلم قرار دیا گیا یہ بحث ہی نہیں ہے ۔بات صرف اتنی ہو رہی ہے کہ ہمیشہ الزامات لگا کر احمدیوں پر زمین تنگ کی جاتی ہے لیکن بعد میں مقاصد اور نکلتے ہیں ۔احمدی جو مرضی عقائد رکھیں اس کی بات نہیں ہورہی ۔

ویسے پاکستان میں اب لفظ ’’قادیانیت ‘‘ایک ایسی پر اسرار بیماری ہے جس کی سمجھ تو نہیں آتی لیکن اس کے ذریعہ بے شمار مسائل اور ان کی حقیقتوں سے آگاہی حاصل ہوجاتی ہے ۔کئی طرح کی دقتوں اور بیانات کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوتی ہے ۔ جب کوئی سیاست دان کسی دوسرے سیاستدان پر قادیانی ہونے کا الزام لگائے تو سمجھ لیں وہ اس کا مقابلہ صحیح طریق پر نہیں کر سکتا اس لیے وہ اس پر قادیانی کا الزام لگا کر اسے بدنام کرنا چاہتا ہے ۔اگر کوئی سیاست دان یہ کہے کہ میرے خلاف قادیانی لابی کام کر رہی ہے تو سمجھ لیں وہ اپنی کوئی کرپشن یا بد عنوانی چھپا نے کی کوشش کر رہا ہے ۔

بیماری کی یہ علامت اتنی واضح ہے اور عام نظر آنے والی ہے کہ اس کو پہچاننے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔اس کاشکار تو انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے بھی ہوگئے ہیں ۔بے شک وہ انصاف کرنے والا کسی بڑی عدالت کی کرسی پر ہی کیوں نہ بیٹھا وہ جب قادیانی قادیانی کرے اور ان کے خلاف فیصلہ سنائے تو سمجھ لیں اس کے خلاف کوئی بدعنوانی یا کرپشن کا ریفرنس بن گیا ہے یا بننے والا ہے ۔اسی طرح کوئی ممبر پارلیمنٹ قومی اسمبلی کے فلور پر جتنی مرضی قادیانیوں کے خلاف تقریر کرے۔اصل میں وہ اپنے خلاف آنے والے فیصلہ پر اثر انداز ہو نے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے ۔اگر کوئی انتخابات سے پہلے قادیانیوں کے خلاف بیانات دیتا ہے تو وہ اصل میں اپنے ووٹ بنک کو بڑھانے کے لیے ایسا کر رہا ہے ۔کوئی مولوی قادیانیوں کے خلاف بیان دیتا ہے تو اس بات کی علامت ہے کہ وہ شہرت کے ساتھ ساتھ کئی اور فوائد حاصل کر نا چاہتا ہے ۔کوئی بزنس مین یا دوکان دار قادیانیوں کے خلاف بیان دیتا ہے تو سمجھ لیں کہ وہ کسی قادیانی بزنس مین یا دوکان دار کو نقصان پہنچا کر اپنے کاروبار کو چمکانا چاہتا ہے ۔کوئی مزدور یا ورکر کسی قادیانی کے خلاف کے آواز اٹھاتا ہے تو اس بات کی علامت ہے وہ اس فیکٹری کے قادیانی مالک کو نقصان پہنچانا چاہتاہے جس نے اس کی کسی بدعنوانی پر اسے فیکٹری سے نکال دیا ہے ۔یا کسی قادیانی افسر نے اپنے ورکر کو کرپشن کی وجہ سے گرفت کی ہو تو وہ ورکر بھی قادیانیت کا شکار ہوجائے گا۔اسی طرح ماتحت افسر کو اپنے سے بڑے قادیانی افسر کی کرسی چاہیے تو وہ بھی اسی بیماری کا شکار ہوگا ۔اس کی بھی حس قادیانیت بیدار ہوجائے گی ۔

قادیانیت ایک ہتھیار بھی ہے ۔جس کے استعمال سے کسی بھی ایماندار اور فرض شناس شخص کا علاج کیا جاسکتا ہے ۔صرف ایک الزام لگانا ہے کہ وہ قادیانی ہے۔باقی کام دوسرے لوگ پورا کر دیں گے ۔وہ جانے اور لوگ جانیں ۔

اگر تو وہ واقعی احمدی ہوا تو اس پر سختیاں شروع اور اس کا علاج کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ بھی دوسرے ’’سرکاری مسلمانوں ‘‘جیسی زندگی گزارے اور کسی لحاظ سے کرپٹ لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہو ۔ لیکن اگر وہ احمدی نہ ہوا تو پھر دو چار مولویوں کے ساتھ تصاویر بنوائے گا ۔یقینا ان تصاویر سے پہلے ان مولویوں کو نذرانے بھی پیش کرے گا ۔ایک دوجلسوں میں شامل ہوگا اور اس میں قادیانیوں کے خلاف بیان دے گا ۔پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو پھر عمرہ پر جانا پڑے گا ۔اس کے بعد کہیں جا کر قادیانی کا داغ کسی حد تک دھل جائے تو دھل جائے ورنہ اس کی خیر نہیں ۔اگر مضبوط ایمان والا ہوگا تو پھر برداشت کر لیگا ورنہ ہمیشہ کے لیے اپنی ایمان داری کو مذہبی ٹھیکے داروں سے تصدیق کرواتا پھرے گا ۔

پاکستان میں قادیانیت کا دائرہ اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو کنٹرول کرنے کے لیے اسی ہتھیار کا سہارا لیتی ہے ۔دھرنا ،احتجاج کنٹرول کرنا ہو تو سب سے کارآمد یہی ہے ۔ بس یہ بیان دینا ہے کہ یہ سب قادیانی ایجنٹ ہیں یا قادیانیوں کی مدد سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔اسی طرح اگر اپوزیشن نے حکومت پر تنقید کرنی ہے تو پھر بھی اسی کو استعمال کیا جاتا ہے ۔چاہے امریکہ میں کامیاب جلسہ ہو یا کوئی اور اقدام ۔جہاں دیکھا کوئی اچھا کام ہوا تو فوراً قادیانی پراپیگنڈے کا استعمال شروع ۔

افسوس اس سمجھدار طبقے پر ہوتا ہے جو یہ سب جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے ۔ان میں سے کئی ایک ذاتی طور پر احمدیوں کو جانتے ہیں لیکن اپنی کرسی ،اپنی حیثیت ،اپنی پوسٹ اور اپنی نام نہاد عزت کو بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ احمدی نہ صرف کسی بھی قسم کی ملک دشمن عناصر سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے بلکہ حب الوطنی کی اعلیٰ مثالیں قائم کرنے والےمسلمان ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی زبانوں پر تالا لگا ہے ۔وہ ڈرتے ہیں کہ اگر احمدیوں کے حق میں کوئی بیان دیا توان  کے خلاف محاذ کھل جائے گا اور ان کی زندگی مشکل بنا دی جائے گی ۔وہ ایک لمحے کے لیے انسانیت کے ناطے نہیں سوچتے کہ  ان کے ایک بیان کے بعد ان کے لیے کتنی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی تو ذرا ان احمدیوں کے بارے میں سوچیں جو بحیثیت احمدی اس ملک میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ان کی زندگی کس قدر مشکلات سے گھری ہوئی ہے ۔

اللہ سب کو عقل اور ہمت عطا کرے ۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *