شعر و شاعری ماہ نومبر ۲۰۱۹

بربط کے نظارے

ثاقب زیروی

آزاد کشمیر کی رزم گاہ بربط نامی پر مجاہدین کی جاں بازیوں اور ارد گرد پھیلے ہوئے روح آفرین ماحول سے متاثر ہو کر

اک طرفہ خوشی چھن جانے پر بے تاب ہے دل رنجور ہوں میں

گو حسن کے طوفاں خواب ہوئےاک پاک نشہ میں چور ہوں میں

دیکھا ہے جو دل کی آنکھوں سے کہنے کےلئے مجبور ہوں میں

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

خوابیدہ نظاروں کے چہرے صہبائے ضیا سے ڈھلتے ہوئے

شبنم کے لرزتے موتی بھی کانٹوں میں گُلوں کے تُلتے ہوئے

ظُلمت کی روائیں اٹھتی ہوئیں جلووں کے دریچے کُھلتے ہوئے

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

وہ رات کے عبرت نامے پر تصدیق سحر کا فرمانا

مدہوش فضاؤں میں یکدم آواز اذاں کا لہرانا

اور صبح کا چپے چپے کو چاندی کی قبائیں پہنانا

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

شیشم کے دھلے گلزاروں میں چھن چھن کے ہواؤں کا آنا

بربط کے دمکتے سینے پر برکھا کا وہ موتی برسانا

جھرنوں کے حسین فواروں کی جھل مل میںجنوں کا افسانہ

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

جذباتِ نمو کا یہ عالم، ذروں میں دھڑکنے کے ارماں

ہر راہ میں نظمیں بکھری ہوئیں ہر ذرہ فسانے کا عنواں

ہر موڑ سراپا انگڑائی ، ہر گام پہ لغزش کا امکان

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

جب سانولے کھیتوں کو چھو کر رنگین ہوائیں گونجتی ہیں

تاریک خموشی میں یکدم توپوں کی صدائیں گونجتی ہیں

بے باک مجاہد جھومتے ہیں بے باک ندائیں گونجتی ہیں

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

آزاد مجاہد وادی میں جب شب کو طرارے بھرتے ہیں

اور چرخ کے پختہ کار ستارے آنکھ ملاتے ڈرتے ہیں

تکبیر کے نعرے سن سن کر بے موت بھی دشمن مرتےہیں

بربط کے نظارے اف توبہ ، افسوس کہ ان سے دور ہوں میں

کچھ پوچھ نہ ان دیوانوں کی یلغار پہ جب آجاتےہیں

گردوں پہ کلیلیں کرتے ہیں کہسار سے ٹکر کھاتے ہیں

نظم

عبید اللہ علیمؔ

جو اُس نے کیا اُسے صلہ دے

مولا مجھے صبر کی جَزا دے

یا میرے دیئے کی لو بڑھا دے

یا رات کو صبح سے مِلا دے

سچ ہوں تو مجھے امر بنا دے

جُھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے

یہ قوم عجیب ہو گئی ہے

اس قوم کو خُوئے انبیاء دے

اُترے گا نہ کوئی آسماں سے

اِک آس میں دل مگر صدا دے

بچوں کی طرح یہ لفظ میرے

معبود اِنہیں  بولنا سِکھا دے

دُکھ دہرکے اپنے نام لِکھوں

ہر دُکھ مجھے ذات کا مزا دے

اِک میرا وُجود سُن رہا ہے

الہام جو رات کی ہوا دے

مجھ سے مرا کوئی  ملنے والا

بچھڑا تو نہیں مگر مِلا دے

چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو

اب دستِ ہوس میں آئینہ دے

جس شخص نے عمرِ ہجر کاٹی

اس شخص کو ایک رات کیا دے

دُکھتا ہے بدن کہ پھر ملے وہ

مِل جائے تو رُوح کو دُکھا دے

کیا چیز ہے خواہشِ بدن بھی

ہر بار نیا ہی ذائقہ دے

چُھونے میں یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں

چُھولُوں تو وہ زندگی سوا دے

غزل

مدثراحمداشعر

برسوں سے جو بہرے ہیں یہ دوکان ترے نا م

دوچار سلامت ہیں جو دنددان ترے نام

بوسیدہ سا بیمار بدن اور یہ کھانسی

یہ نزلہ یہ پیدائشی یرقان ترے نام

اک گُردہ نہیں ہے تو کیا دل تو جواں ہے

لَقوَا ہے تو کیا پھر بھی ہے مسکان ترے نام

نا بینا نگاہوں کے یہ سب خواب تمہارے

رَعشے میں لرزتے ہیں جو ارمان ترے نام

یہ سر جوکبھی بالوں کے باغات سے پُر تھا

لواب یہ خزاں دیدہ گلستان ترے نام

اک ٹانگ تو کھو دی تھی کسی جنگ میں میں نے

جو ٹانگ سلامت ہے مری جان ترے نام

اس عمر میں اب اور تجھے کیا میں نوازوں

لو سارے مرے گُٹکے یہ سب پان ترے نام

آئے ہیں ترے ساتھ جو بچے وہ ہیں میرے

جو میرے ہیں شادی شدہ طفلان ترے نام

میں مرنے ہی والا ہوں سو دو چار دنوں بعد

یہ چھت یہ صحن اور یہ دالان ترے نام

غزل

مہدی علی قمر شہید

وہ جو رہتا تھا میری آنکھ میں کاجل کی طرح

ایک ہی اشک سے بکھرا کسی بادل کی طرح

دور جنگل کی کسی کٹیا میں مدھم سا دیا

رات بھر جلتا ہے کیونکر وہ میرے دل کی طرح

تو سمندر ہی سہی تجھ میں نہیں ڈوبوں گا

تجھ سے رکھوں گا تعلق کسی ساحل کی طرح

میری ہر ایک خوشی میں وہ رہا ساتھ میرے

میں کہ ہر غم میں اکیلا جلا صندل کی طرح

میری نظروں سے گرے گا تو کہاں جائے گا

ٹھہر جائے گامیرے پاؤں میں پائل کی طرح

زخم وہ دل پہ لگا ہے کبھی بھرتا ہی نہیں

عمر گزرے گی کسی یاد میں گھائل کی طرح

فوزی بٹ

ہر ایک شخص میرے گرد پارسا کیوں ہے

خدا ہی جانے انہیں مجھ سے مسئلہ کیوں ہے

اڑا کے خاک محبت کی اب یہ پوچھتے ہو

دلوں کی راہ پہ آخر غبار سا کیوں ہے

غرور آپ کا دیکھا تو یہ سوال اٹھا

خدا زمیں پہ فرشتے اتارتا کیوں ہے

جدائی برسوں پہ پھیلی ہےپھر بھی حیرت ہے

دلوں میں باہمی اب تک بھی رابطہ کیوں

عجیب پگلا دیوانہ ہے دل یہ فوزی کا

ہے جس نے توڑا اسی کو پکارتا کیوں ہے

غزل

جمشید چشتی

مایوس نہ کر دے دلِ ناکام تجھےبھی

اس دشت میں آلے نہ کہیں شام تجھے بھی

ڈرتا ہوں کہ سوئی ہوئی تقدیر کے مانند

یہ لوگ نہ دینے لگیں الزام تجھے بھی

القا ہوئی مجھ پر تری صورت، تری سیرت

کاش اب ہو مرے عشق کا الہام تجھے بھی

ہر سمت ترا عکس ہے، ہر سُو تری خوشبو

پہچان گئے میرے در و بام تجھے بھی

ہر قوس نمایاں ہے سرِ پردہِ اخفا

کر دے نہ اب افشا ترا ابہام تجھے بھی

ممکن ہے کہ خوشبو کی طرح صحنِ چمن میں

لے آئے کبھی گردشِ ایام تجھے بھی

مجھ کوہ سے تُو برف کے مانند لپٹ جا

کچھ چین بھی ہو، کچھ آرام تجھے بھی

جمشید ترے لحن سے آہنگِ سخن تک

بخشے ہیں خدا نے کئی انعام تجھے بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *