درس القرآن ماہ دسمبر ۲۰۱۹

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ۝۲الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَۖ۝۳ وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ۝۴

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ۝۵ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ۝۶ یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ۝۷  (سورة المطففین: 1تا7 )

ترجمہ: ہلاکت ہے تول میں ناانصافی کرنے والوں کےلئے ۔ یعنی وہ لوگ کہ جب وہ لوگوں سے تول لیتے ہیں بھرپور(پیمانوں کےساتھ) لیتے ہیں۔ اور جب ان کو ماپ کر یا تول کر دیتےہیں تو کم دیتےہیں ۔کیا یہ لوگ یقین نہیں کرتے کہ وہ ضرور اٹھائے جائیں گے۔ ایک بہت بڑے دن (پیش ہونے)کےلئے ۔ جس دن لوگ تمام جہانوں کے ربّ کےحضور کھڑے ہوں گے ۔

تفسیر: 

اس سورت میں ایک دفعہ پھر میزان کی طرف انسان کو متوجہ فرمایا گیا ہے کہ تم تبھی کامیاب ہو سکتے ہو اگر عدل پر قائم ہو۔ یہ نہ ہو کہ لینے کےپیمانے اَور ہوں اور دینے کے پیمانے اَور۔ اس میں اِس دور کی تجارت کا بھی تجزیہ فرمادیاگیا ہے۔ بڑی بڑی امیر قومیں جب بھی غریب قوموں سے سودا کرتی ہیں تو لازماً اس سودے میں ہمیشہ غریب قوموں کا نقصان ہوتا ہے ۔ فرمایا کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ ایک بہت بڑے حساب کتا ب کے دن وہ اکٹھے کئے جائیں گے جس میں ان کے دنیا کے سودوں کا بھی حساب ہوگا۔ یہ وہ یَوْمُ الدِّیْن ہے جس کا ذکر پچھلی سورت کے آخرپر گزرا ہے ۔

اس کےبعد کی آیات میں واضح طور پر یَوْمُ الدِّیْن کا ذکر فرما کر متنبہ کیا گیا کہ یَوْمُ الدِّیْن کے منکرین پہلے زمانوں میں بھی ہلاک کر دیئے گئے تھے اور زمانہ آخرین میں بھی بد انجام کو پہنچیں گے ۔ 

اس کے بعد کی آیات میں اہل جہنم اور اہل جنت کا تقابلی جائزہ پیش فرمایا گیا ہے اور متنبہ فرمایا گیا ہے کہ اس دن وہ لوگ جن سے یہ دنیا میں تمسخر کرتے ہوئے آوازے کستے اور آنکھوں کے اشاروں سے ان کی تذلیل کرتے ہوئے انہیں کافر گردانا کرتے تھے ، وہ ان کفار پر ہنسیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ بتاؤ اب تمہارا کیا حال ہے ؟ (ترجمہ /تفسیر حضرت مرزا طاہر احمد ؒ )

حدیث

حدیث شریف میں ہے کہ جب لوگ ناپ تول میں خیانت کرتے ہیں توخداوند کریم بارشوں کو روک لیتا ہے ۔ قحط شدید پڑتا ہے ۔ حضرت شعیب علیہ الصلٰوة والسلام کے وقت میں یہ مرض خصوصیت سے ہوگا۔ مگر اس وقت تو بات حد سے بڑھ گئی ہے ۔ بلکہ مزید خصوصیت ایک او ریہ ہو گئی کہ مباحثات میں وہ اعتراض کئے جاتےہیں جو خود معترضین پر بھی وارد ہوتے ہیں جس پیمانہ سے خصم کو جواب دیتےہیں ۔ اسی پیمانہ سے جواب لینا پسند نہیں کرتے ۔ حدیث شریف میں ہے: 

لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ 

مباحثات کے وقت دیکھ لیا کریں کہ کیا یہی اعتراض پلٹ کر ہم پر تو نہیں پڑتا ۔

( حوالہ حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 342)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *