درس القرآن ماہ نومبر ۲۰۱۹

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰتِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ۔ (سورۃ لقمان : 32)

ترجمہ

کیا تو نے غور نہیں کیا کہ سمندر میں کشتیاں اللہ کی نعمت کے ساتھ چلتی ہیں تاکہ وہ اپنے نشانات میں سے تمہیں کچھ دکھائے۔ اس میں یقیناً ہر بہت صبر کرنے والے ( اور) بہت شکر کرنے والے کے لئے نشانات ہیں۔

تفسیر

اللہ تعالیٰ نے مختلف ممالک میں مختلف نعمتیں دی ہیں مثلاً عرب میں کھجور ، ہندوستان میں آم ، کابل میں انگور۔ایسا ہی کسی کو کوئی ہنر ۔ ان تمام ممالک میں تبادلۂ انعام و خیالات کےلئے جہاز ہیں ۔

بِنِعْمِت ِاللہ : اللہ کے فضل سے مختلف قسم کی نعمتیں لے کر۔

صَبَّارٍ شَکُوْرٍ: دور کی نعمتیں دیکھ کر انسان شکر بجا لائے ۔ اور اپنے تئیں اعتداء و عصیان سے بچائے ۔ یہ آیت بائیکاٹ کرنے کی تردید کرتی ہے۔ تبادلہ اشیاء غیر ممالک سے منع نہیں ۔ بلکہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں  کا ادائے شکر ہے ۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰتِہٖ

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کشتی سمندر میں چلتی ہے ۔ یہ اللہ کی نعمت ہے تاکہ تم کو اس کے نشانات دکھائے۔ اس میں پیشگوئی ہے کہ مسلمانوں کے فتوحات وہاں تک پہنچیں گے کہ تم کشتیوں اور جہازوں میں سوار ہو کر دوسرے ممالک اور جزائر میں جاؤگے اور ان کو فتح کروگے۔  چنانچہ حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں جزائر قبرص و روڈس فتح ہوئے۔ اور مسلمان جہازوں پر چڑھ کر ان جزائر کو گئے جن میں ایک بی بی  ام ایمن ؓ نام بھی شامل تھیں ۔ جن کےگھر میں آنحضرت ﷺ سوئے ہوئے ہنس کر جاگے ۔ تو اس بی بی نے سبب اس خوشی کا دریافت کیا تو اس پر فرمایا ۔ میں نے دیکھاہے کہ مسلمان جہازوں پر اس طرح سوار ہیں جس طرح بادشاہ تختوں پر، تب اس نے عرض کیا کہ دعا کرو۔ میں ان لوگوں میں ہوجاؤں فرمایا تو ان میں سے ہے ۔ پھر آپ ﷺ سورہے اور ہنس کر اٹھے تو اس بی بی کے سبب دریافت کرنے پر وہی بات فرمائی اور اس عورت نے وہی پہلی دعا چاہی ۔ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تو پہلے لوگوں سے ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے اسی وقت فرمایا تھا کہ تو ان میں سے ہوگی جو پہلے جہاز پر سوار ہو کر جائیں گے۔

(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 372-373)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *