افسانہ: باؤ جی کتھے چلئے

 تحریر محمد ادریس ناروے

آج صبح صبح ڈاکٹر جاوید کا فون آیا کہ شام کولاہور فورٹریس اسٹیڈیم چلیں گے اور عید کی شاپنگ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید میرے بھانجے ہی نہیں ہیںبلکہ دوست بھی ہیں اورمجھے شارق کی طرح عزیز بھی۔

آج چونکہ اگست کی 6تاریخ تھی اور اگلے دن ہماری شادی کی سالگرہ بھی تھی تو میں نے سوچا کہ بیگم صاحبہ اور بیٹے کےلئے بھی کچھ کپڑے اور تحائف خرید لوں گا۔

حبس اورگرمی نے بُرا حال کر رکھا تھا جب سے ہم نے نیچر کے خلاف نہ جیتنے والی جنگ شروع کر رکھی تھی تب سے نیچرکے انتقام کا نشانہ بنے ہوئے ہیںاور ہر غلط کام کرنےکے بعد ایک آسان سا فقرہ کہہ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہی ایسی ہے جبکہ ہم خود پاکستان کے 50 فی صد جنگلات کاٹ چکےہیں دریاؤں میں گندگی اور فضلات کی آمیزش نے آبی جانوروں کو تقریباً ختم کر دیاہے ہریالے کھیتوں کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں نظر آتی ہیں اور اگر یہی حال رہا تو خدانخواستہ وطن عزیز صحرا میں تبدیل ہو جائے گا ۔ درجہ حرارت دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔

اس لئے آج صبح سےہی حبس اور گرمی نے بُرا حال کر رکھا ہے ۔ سورج اپنی محبت کا اظہار کرنے سوا نیزے پر آگیا ہے۔ شام تک جیسے تیسے ایئر کنڈیشن نے مدد کی پھر میں نے ٹیکسی لی اور مقررہ وقت پر فورٹریس اسٹیڈیم شاپنگ مال پہنچا جہاں ڈاکٹر جاوید میرے منتظر تھے۔ علیک سلیک کے بعد ہم نے مختلف دکانوں سے کچھ کپڑے اور تحائف خریدے اورابدالی چوک ڈاکٹر جاوید کے گھر پہنچے ۔ راسے میں سنت نگر کےعلاقے سے گزر ہواجہاں میرا بچپن گزرا تھا۔

بازار دوکانیں اسکول سب کچھ ویسا ہی تھا مگر وہ شناسا چہرے کہیں گم ہو گئے تھے ۔ الغرض شام کا کھانا ڈاکٹر صاحب کے گھر کھایا اورپھر ٹیکسی لی اور اقبال ٹاؤن اپنی منہ بولی بہن کےگھر پہنچا رات کےدس بج چکے تھے ۔ میں کچھ دیر اس کے پاس بیٹھا اِدھراُدھر کی باتوں کے علاوہ شاعری اور ادب پر گفتگو کی۔ رات گیارہ بجے بیگم صاحبہ کافون آیا کہ بارہ بجے تک گھر آجائیں آج ہماری شادی کی پہلی سالگرہ ہےا ور کیک کاٹنا ہے ۔

میں نے ٹیکسی لی او رگھر روانہ ہو گیا ڈرائیور کو کہا کہ راستے میں پھولوں کا گلدستہ بھی لینا ہے ۔ رات کے بارہ بجنے والے تھے اور سفر طویل تھا مغلپورہ کے علاقے میں بر لب سڑک پھولوں کی دکان نظر آئی میں نے ڈرائیور کوُ رکنے کا اشارہ کیا اور پھولوں کی دکان کی طرف لپکا اور اسے ایک خوبصورت گلدستہ بنانے کو کہا یکایک میری نظر دکان کے ساتھ کھڑی ایک نہایت حسین وجمیل دوشیزہ پر پڑی ۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔

لمبےسیاہ بال بے حد دلکش چہرہ گہری مخمور آنکھیں سرخ ریشمی کپڑوں میں ملبوس مناسب زیورات لباس زیب تن اور قدرتی حسن جیسے اسے فرصت میں تخلیق کیا گیا تھا۔ میں حیران تھا کہ یہ لڑکی اسوقت یہاں کیا کر رہی ہے کہ اچانک دکاندار نےمجھے آواز دی باؤجی گلدستہ تیار ہے میں نے اسے ادائیگی کی اور گلدستہ لیکر ٹیکسی کی طرف  بڑھا اور آخری نظر اس دوشیزہ پر ڈالی مگر وہ تو پہلے ہی مجھے اور پھولوں کو دیکھ رہی تھی ۔ میں نے پھول گاڑی میں رکھے اور واپس لڑکی کی طرف  پلٹا اور پوچھا کہ آپ پھولوں کو پسند کرتی  ہیں اس نے سر ہلا کر جی کہا تو مجھ پروا ضح ہوا کہ وہ لڑکی نہیں ہے بلکہ تیسری جنس ہے مجھے قدرت کی اس بے رحمی پر دکھ ہوا ۔ میں نے اسکے لیے ایک گلدستہ تیار کروایا اور اسکی طرف بڑھا اسکی جھیل جیسی آنکھو ں میں جھانکا تو خود کو ایک دشت ویراں میں کھڑا پایا جہاں بے شمار چرند و پرند تھے اور درندے بھی ۔سامنے دیکھا تو وہ پری جمال ایک معصوم اور سہمی ہوئی ہرنی کی صورت کھڑی تھی اور اسکے گرد خونخوار بھیڑیے کھڑے اسے نوچ کھانے کو تیار تھے اور غرارہے تھے اور میں نے خود کوبھی ایک بھیڑیے کی صورت دیکھا جو اپنا حصہ  وصول کرنا چاہ رہا تھا۔ اچانک اس پری چہرہ نے میرا ہاتھ جھنجھوڑا اور میں اس دشت ویراں سے نکل آیا اس نے مجھ سے پوچھا ’’باؤ جی کتھے چلئے‘‘ جیسے اس نے میری چوری پکڑ لی ہو۔

میں نے آنکھیں جھکا لیں ۔ ہاتھوں میں پکڑا گلدستہ اور چند نوٹ اس کی مٹھی میں تھما کر تیز تیز قدموں کے ساتھ ٹیکسی میں آبیٹھا اور اسے گھر کی طرف چلنے کو کہا جہاں میری بیوی شادی کی پہلی سالگرہ کا کیک میز پر سجائے میری منتظر تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *