آواز دوست

تحریر عبدالباسط شاہد

سرکاری ملازمت میں نیک نامی اور ادبی حلقوںمیں اچھی شہرت ، کم خوش نصیبوں کے حصہ میں آتی ہے ۔ تاہم آواز دوست کےمصنف مختار مسعود نے ان سے حصہ وافر پایا۔ کوئی بیس سال قبل جب ان کی زیر نظر کتاب شائع ہوئی تو اسے بہت شہرت حاصل ہوئی اور ایسی مقبولیت حاصل ہوئی جو بہت کم کتابوں کو ملتی ہے۔

آواز دوست میں سے تین اقتباس بلا تبصرہ پیش خدمت ہیں۔ اس سے کتاب کے انداز اور مصنف کے رجحان کا  بخوبی پتہ چل سکتا ہے اور یہ بھی کہ احمدیت کےمعاندین کا انجام کیسا ہوا۔

’’ظفر علی خان کا زمیندار اخبار میں نے بہت کم پڑھا ہے ۔ جب اس کاشہرہ تھا میں اس وقت اتنی مسافت پر رہتا تھا  کہ یہ اخبار وہاں دوسرے یا تیسرے روز پہنچتا تھا۔ روزے آپ قضاکر سکتےہیں مگر روزنامے کی قضا کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور ہو بھی تو کیونکر ہو جب روزنامہ  پہلے دن اخبار کہلاتا ہے اور دوسرے دن سے ردی شمار ہوتا ہے ۔ ہمارا واسطہ البتہ برسوں ایسے اخبارات سے بھی رہا جو روز اشاعت سے ہی دوسرے دن کا اخبار معلوم ہوتےہیں کچھ یہی حال اس وقت  زمیندارکا ہو  چکا تھا جب میں اسے روز کے روز پڑھنے لگا۔ یہ بات قیام پاکستان کے ابتدائی ایام کی ہے جو زمیندار کے آخری ایام تھے۔ کتابت ناقص اور اخبار بد زیب تھا ۔  مصلحت کا یہ عالم تھاکہ اخبار کا مسلک ہر روز تبدیل ہو جاتا اور جس کسی سے دام ملنے کی امید نظر آتی اخبار اس کا بندہ بے دام بن جاتا۔ خبروں کی صحت کا  یہ کمال تھاکہ  ایک دن کسی کا جنازہ نکال دیتے اور  اگلے روز اسی کے حق میں مسیحائی فرمادیتے۔ ۔ ایک رات میں زمیندارکے دفتر میں داخل ہوا۔ مجھے ایک خبر کی تفصیل درکار تھی جس کا ریڈیو پر اعلان ہو چکا تھا۔ دفتر کی حالت دیکھ کر دُکھ ہوا۔ ان دنوں دفاتر کے بارہ میں میرا علم اور تجربہ بڑا  محدود تھا  میں نے دہلی میں وائسرائے کا دفتر اور کلکتہ میں اخبار سٹیٹسمین  کا دفتر باہر سے دیکھ رکھا تھا۔ اب جو اردو کے مشہور روزنامے کے دفتر میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا۔ ایک کمرے میں مدہم سا بلب جل رہا تھا اور ایک کاتب اکڑوں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک لکڑی کا تخت اور دو چار کرسیاں خالی پڑی تھیں ۔

درودیوار پر حسرت برستی تھی۔ اگلے کمرے کی حالت بھی ایسی تھی ۔ میز اور ڈیسک کچھ ایسے بے ترتیب اور خاک سے اٹے ہوئے تھے جیسے مدت سے ان کے استعمال کی نوبت ہی نہ آئی ہو۔ کمرے کے وسط میں دو آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے میں نے کام بتایا جواب ملاکہ اس وقت  دفتر میںکوئی نہیں ۔ ویسے وہ فہرست جو آپ کو  درکار ہے وہ ہمارے دفتر میں ابھی تک نہیں پہنچی ۔ جب میں واپس مڑا تو وہ دونوں بھی کمرے کی بتی بند کر کے باہر نکل آئے۔ اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ زمیندا ر کا چراغ گل ہوگیا۔ زمیندار اخبار کا بڑا سا بورڈ اتار کر دفتر کی پیشانی پر زمیندا ہوٹل کا بورڈ گا دیا گیا۔ میں نے پہلی بار نیا بورڈ دیکھا تو مجھے زمیندار اخبار کے ادارتی عملے کے بہت سے نام یاد آنے لگے۔ علامہ نیاز فتحپوری ، مولوی وحید سلیم پانی پتی ، غلام رسول مہر ، عبدالمجید سالک ، عبدللہ العمادی اور چراغ حسن حسرت ۔ ان لوگوں کی جگہ اب ہوٹل کے بیروں اور خانساموں نے لے لی تھی۔ شاید یہ کوئی ایسا غیر متوقع سانحہ بھی نہ تھا کیونکہ مولانا ظفر علی خاں کی جگہ بھی تو آخر مولانا اختر علی خاں کے حصہ میں آئی تھی۔ وقت کا سیلاب کسی نسل کےلئے تھم جاتا  ہے اور کسی کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے ۔

مولانا ظفر علی خاں کو میں نے آخری بار مری میں دیکھا تھا۔ کمشنر ہاؤس کے نزدیک ایک پھاٹک پر ان کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی  بوڑھے اورعلیل ظفر علی خاں کا  بس نام ہی رہ گیا تھا۔ کام ان کا پورا ہو چکا تھا اوراس کے تمام ہونے میں زیادہ دیر نہ تھی۔ میں جب بھی ان کے گھر کے سامنے سے گزرا  توپھاٹک سے ڈھلوان پرنیچے اترتی ہوئی پہاڑی پگڈنڈی کو ہمیشہ گھورتا تاکہ شاید ظفر علی خاں نظر آجائیں۔ ایک دن وہ نظر آگئے۔رکشاپر  بیٹھے ہوئے تھے جسے دوقلی آگے ہانک رہے تھے۔ اور دو پیچھے سے تھامے ہوئے تھے ۔ مولانانحیف وانزار  تھے۔ نظر کمزور، سماعت ثقیل ، زبان خاموش ، سر ہلتا تھا اورآنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔ جوانی میں میانہ قامت ہواکرتے تھے اب بڑھاپے میں پستہ قامت نظرآئے۔ رکشا کے قلی بے خبر تھے کہ ان کی سواری کو مولانا حالی نے نازش قوم اور فخر اقران کہا تھا اور ایک قصیدے میں اسے شیر دل اے ظفر علی خاں کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ رکشا تیزی سے ڈھلوان پر اتر گیا اور میں آہستہ آہستہ چڑھائی کی طرف روانہ ہوا۔ ‘‘

سید عطا ء اللہ شاہ بخاری سے اپنی عقیدت و محبت اور ان کی خطا بت کو اپنے مخصوص  رنگ میں خراج تحسین پیش کرنے کےبعد شاہ جی سےایک ملاقات کی تفصیل تحریر کی ہے ۔ اس  کا آخری حصہ درج ذیل ہے:

’’میں نے شاہ جی سے جو سوال کئے وہ سب سو دوزیاں کےبارہ میں تھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ گزشتہ چالیس برس میں جو آپ کی عوامی زندگی پر محیط ہیں آپ نے براعظم کے مسلمانوں کو اسلام کے قریب آتے ہوئے دیکھا ہے یا دور جاتے ہوئے پایا ہے ۔ جواب ملاکہ مسلمانوں میںدو طبقے پہلے بھی تھے اور اب  بھی ہیں ۔ ایک مذہب سے قریب دوسرا ا س سے کچھ دور۔ ان دونوں طبقوں کا درمیانی فاصلہ اس چالیس سال میں بہت بڑھ گیا ہے ۔یہی نہیں بلکہ جو  لوگ مذہب سے بے گانہ ہیں ان کی تعداد او قوت میں  بھی اضافہ ہوا ہے۔

میں نے دوسرا سوال پوچھا ۔ برصغیر کی گزشتہ چالیس سال  کی تاریخ میں زندگی کے کتنے ہی شعبوں میں ایسے نامور مسلمان ایک ہی وقت  میںجمع ہو گئے جس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر ان سب کی موجودگی میں اسلام سے بے گانہ ہو جانے والوں کی تعداد اور قوت میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے مستقبل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس کے مسائل آپ کے عہد سے زیادہ الجھے ہوئے اور رہنما آپ کے معیار سےکم مایہ ہوں گے۔

کیا یہ بات قابل افسوس نہیں کہ جو ملی سرمایہ آپ کو اسلاف سے ملا تھا۔اس سے آپ کا  ترکہ کم ترہوگا۔ شاہ جی نے فرمایا کہ ہمیں اپنے مقصد میں اس لئے کامیابی نہ ہو سکی کہ دو2برسوں کے عرصہ میں فرنگی کی تعلیم اورتہذیب نےاپنا پورا تسلط جمالیا تھا۔ آسودہ حال لوگ  علی گڑھ  کی طرف چلے گئے اور ناکارہ آدمی دینی مدارس کے حصہ میں آئے ۔ جنگ آزادی کی ہماہمی   میں سیاست دین پر اور منافقت دنیا پر غالب آئی۔ ساری توجہ اور توانائی نئی تعلیم اور نئی سیاست کی نذر ہوگئی جو لوگ باقی رہے ان میں سے کچھ ہندو تمدن کے زیر رہ کر گمراہ ہوگئے۔ صرف بچے کھچے اور لٹے پٹے لوگ ہی دین کے قافلہ میں شامل ہوئے۔ ہمارا سرمایہ خوب تھا مگر نسل ناخوب تھی۔ نتیجہ ظاہر ہے ۔ آبائی ورثہ بھی کھویا اپنی کمائی بھی گنوائی اور مستقبل کو بھی مخدوش بنا  دیا۔

میں نے آخری سوال کی اجازت چاہی اور اسے دوطرح سے پوچھا ۔ ایک شکل یہ تھی کہ اگر قیامت کےدن آپ سے پوچھا گیا کہ اے وہ شخص جسے بیان و کلام میں چالیس کروڑ افراد پر فوقیت دی گئی تھی ، اس خطابت کا حساب پیش کرو تو آپ ناکام تحریکوں کے علاوہ اور کیا پیش کریں گے۔ اس سوال کی دوسری شکل یہ تھی کہ آپ نےاپنی جدوجہد کا انجام دیکھ لیا۔ اب اگر زمانہ چالیس برس پیچھے لوٹ جائے تو آپ اپنی خطابت اور طلاقت کادوبارہ وہی استعمال کریں گے یا  آپ کی زندگی بالکل نئی ہوگی۔ شاہ  جی یکایک خاموش ہو گئے ۔ ان کی خاموشی میں آزردگی بھی شامل تھی۔ میں نے موضوع بدل دیا اور اپنی آٹو گراف البم ان کے سامنے کر دی۔  شاہ جی نے اسے پہلو پررکھا اورلکھا۔

وہ اٹھتا ہوا اک دھواں اول اول

وہ بجھتی سی چنگاریاں آخر آخر

قیامت کا طوفان صحرا میں اول

غبار رہ کارواں آخر آخر

چمن میں عنادل کا مسجود اول

گیاہِ رہِ گلرخاں آخر آخر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *