کیا سکھوں کے روحانی پیشوا گرو بابا نانک مسلمان ولی اللہ تھے؟

لاہور انٹرنیشنل ڈیسک

14نومبر 2019ء کو ننکانہ صاحب میں گرو نانک کا 550واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے ۔ یہ تقریبات اس شخصیت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہیں جو بلا امتیاز ِ مذہب و رنگ و نسل پر کسی کےلئے پیا ر کا پیغام لے کر آئی تھی اور ہر مذہب کےلوگ اس سے بے اتنہا محبت کر تے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہ ٔ خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقررہ کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نے پنجاب کے لوگوں کو ’’ست شری اکال‘‘کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغام پہنچایا ، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعر ِ مشرق علامہ اقبال نے بانگِ درا کی ایک نظم میں انہیں خراج ِ تحسین  پیش کیا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ گرو نانک ہندو خاندان کے ایک فرد کالورام بیدی کے گھر موضع تلونڈی(ننکانہ) میں پیدا ہوئے۔ لیکن ان کی ساری عمر ہندوؤں کی تہذیب و تمدن اور رسم و رواج کے خلاف گزری ۔ گرو نانک کو تعلیم دلوانے کا انتظام خود ان کے والد نے کیا اور انہیں ایک مسلمان معلم سید حسن کے ہاں بٹھایا۔ سید حسن کو ’’قطب الدین ‘‘ اور ’’رکن الدین‘‘ کےنام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ سید حسن نے نانک کو ہونہار دیکھ کر ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ چنانچہ بچپن ہی سے گورو نانک اسلامی عقائد سے واقف ہو گئے ۔ صوفیاء کرام کا کلام پڑھنے لگے اور اس کا پنجابی میں ترجمہ کرنے لگے ۔(دیکھئے: پروفیسر جی این امجد ، ایم اے :گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور، 1982ء صفحہ 8تا13)گرونانک اسلام کے فلسفہ توحید سے بے حد متاثر تھے اور بت پرستوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ ’’گروگرنتھ‘‘ میں اس حقیقت کا اظہار کچھ اس انداز میں کرتےہیں صاحب میرا  ایکو ہے ایکو ہے بھائی ایکو ہے آپے مارے آپے چھوڑے آپ لیو ، دیئے آپے دیکھے ، وگے آپ نذر کرئیےجو کچھ کرنا سو کر رہیا اور نہ کرنا ، جائی جیسا  در تے تیسو کہے سب تیری وڈیائی ( گرو گرنتھ صاحب اردو ص532بحوالہ گرو نانک جی اور تاریخ سکھ مت ، صفحہ 57-58)ترجمہ: میرا مالک ایک ہے ہاں ہاں بھائی وہ ایک ہے ۔ وہی مارنے والا اور زندہ کرنےو الا ہے ۔ وہی دے کر خوش ہوتا ، وہی جس پر چاہتا ہے اپنے فضلوں کی بارش کر دیتا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اس کے بغیر اور کوئی بھی کرنہیں سکتا۔

جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے ہم وہی بیان کرتےہیں ،  ہر چیز اس کی حمد بپا کر  رہی ہے ( گرو گرنتھ صاحب اردو ، صفحہ 532بحوالہ گرو نانک جی اور تاریخ سکھ مت ، صفح 57-58)’’گوڑھی سکھمنی‘‘ میں واشگاف الفا ظ میں عبادت کے لائق صرف اللہ ہی کو تسلیم کرتےہیں ۔ ایکس کے گن گاؤ اننت تن من جاپ، ایک بھگونت ( گوڑی سکھمنی محلہ 1، صفحہ 430، بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت، صفحہ 42-43) حقیقی تعریف اور عبادت کے لائق ، تن من سے اس کی عبادت کرنی چاہئے۔ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفٰی ﷺ کی رسالت کو ان الفاظ میں بیان کرتےہیں: پاک پڑھیوس کلمہ ہکس دا محمد نال زملائے ہو یا معشوق خدائے دا ہویا  تل علائے مہنہ تے کلمہ اکھ کے دوئی دروغ کمائے آگے محمد مصطفٰی ؐ  سکے نہ تنہا چھیڑا ئے (جنم ساکھی بھائی بالا ، ص141تا153، بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت صفحہ  59) چار آسمانی کتابوں پر اپنا ایمان اس طرح بیان کرتےہیں مرشد من توں ، من کتاباں چار من خدائے رسول نوں ، سچائی دربار (جنم ساکھی بھائی بالا ، صفحہ 222، بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت صفحہ 68)

ان چار کتابوں کے نام بھی گرو نانک کی زبانی سنیئے: دیکھ توریت انجیل نوں، زبورے فرقان ایہو چار کتب ہیں، پڑھ کے ویکھ قرآن (جنم ساکھی بھائی بالا، صفحہ 152، بحوالہ گرو نانک جی اور تاریخ سکھ مت ، تہی سیپارے کیں تس وچ بہت نصیحتاں سنکر کرو یقین ( جنم ساکھی بھائی بالا والی وڈی، صفحہ 44، بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت صفحہ 68)نماز پنجگانہ کے بارے میں لکھتےہیں : پنج وقت نما ز گزارے ،پڑھے کتب قرآنا نانک آکھے گورسد یہی، رہیو پینا کھانا ( گرو گرنتھ صاحب ، سری راگ محلہ اردو  ، صفحہ 32بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت ، صفحہ 66-67) نماز باجماعت کی تلقین ملاحظہ فرمائیے : ج۔ جماعت جمع کر ، پنج نماز گزار باجھوں یاد خدائے دے ، بوسیں بہت خوار ( جنم ساکھی سری گرونانک جی ، صفحہ 95، بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت، صفحہ 49) شراب بھنگ کےنشے کی مذمت  ان الفاظ میں کرتےہیں نانک آکھے رکن الدین لکھیا وچ کتاب درگاہ اندر مارئیں جوپیندے بھنگ شراب ( جنم ساکھی بھائی بالا 257، بحوالہ گرو نانک جی اورتاریخ سکھ مت  صفحہ 56) مشہور ہندو ڈاکٹر تارا چند کا اعتراف بھی ملاحظہ کرلیں: ’’یہ حقیقت واضح ہے کہ گرونانک صاحب حضرت بانی اسلام ﷺ کی تعیم اور اسلام سے بے حد متاثر تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو اس رنگ میں پورے طور پر رنگین کر لیاتھا‘‘ ( گرونانک چوت تے سروپ، صفحہ 19بحوالہ گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت صفحہ 13) ( مولانا الحاج ( کپتان)

واحد بخش سیال چشتی صابری ، روحانیت اسلام مطبوعہ، لاہور صفحہ 183) آغاز میں گرونانک نواب دولت خان کے ہاں مال زکوٰۃ کے منشی مقرر ہوئے ۔ تیس سال کی عمر میں نہ صرف ملازمت چھوڑ دی بلکہ گھر بار کو بھی خیر باد کہہ دیا اور سیر و سیاحت شروع کر دی۔

ہندوستان، لنکا، ایران اور عرب کے سفر کئے اور چالیس سال تک اپنی ملکوں میں مقدس مقامات کی زیارت کی۔ حضرت بوعلی قلندر پانی پتی علیہ الرحمہ کے پاس ایک مدت تک رہے ۔ ملتان کے مشہور بزرگ حضرت بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضری دی۔ حضرت غوث اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ اور حضرت مرادعلیہ الرحمہ کےمزارات پرچلہ کش ہوئے ۔ شہرکے باہر جنوب مغرب میں ایک قبرستان سے ملحقہ چار دیواری میں آج بھی آپ کا چلہ مرجع خلائق ہے۔اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کےمزار پر چالیس دن چلہ کیا۔ بمقام سرسہ حضرت شاہ عبدالشکور علیہ الرحمہ کی خانقاہ پر چالیس دن ٹھہرے۔ اس خلوتخانے کا نام چلہ بابانانک ہے۔ حسن ابدال ( ضلع اٹک) کی پہاڑی پر حضرت بابا ولی قندھاری علیہ الرحمہ کی بیٹھک پر حاضر ہوئے اور ٹھہرے۔

پاک پتن شریف میں حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کے مزار پر خلوت نشین ہوئے۔حضرت ابراہیم فرید چشتی علیہ الرحمہ جو حضرت بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ کی بارہویں پشت سے تھے، کی تعلیم سے از حد متاثر تھے۔ گورو نانک کےکلام کے مجموعہ کانما ’’گرنتھ صاحب‘‘ ہے جو حضرت ابراہیم فرید چشتی علیہ الرحمہ کی شاعری سے لبریز ہے ، بعض کا خیال ہے کہ یہ بھی حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ کاکلام ہے جسکی ہر شعر کے آخر میں ’’فرید‘‘تخلص عیاں ہے ۔ گرونانک کا ورد ہمیشہ ’’ھو‘‘ رہا ۔ آپ پر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ آپ عالم استغراق میں چلے گئے۔جس کی وجہ سے نماز روزے کی پابندی نہ کر سکے اور نہ ہی آپ کو حجامت بنوانے کا ہوش رہا۔ چنانچہ آپ کے پیروکاروں نے بھی نماز روزہ کی پابندی کو ضروری نہ سمجھا اور حجامت  کو بھی بالکل ترک کر دیا۔ چنانچہ یہاں سے ہندوؤں کے الگ تھلگ ایک نئے فرقے’’سکھوں‘‘ کی بنیاد پڑگئی۔ تفصیل کےلئے درج ذیل ماخذ دیکھئے (الف) مولانا الحاج (کپتان ) واحد بخش سیال چشتی صابری: روحانیت اسلام مطبوعہ لاہور۔(ب) پروفیسر منظور الحق صدیقی: تاریخ حسن ابدال مطبوعہ لاہور(ج) پیر محمد اطہر القادری: الجواہرات مطبوعہ لاہور) (د) پروفیسر جی این امجد ایم اے :  گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور سکھ حضرات یہ تسلیم کرتےہیں کہ گرونانک حج بیت اللہ کےلئے مکہ معظمہ بھی گئے تھے بعد ازاں بغداد شریف حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں بھی حاضری دی۔ بغداد شریف سے آپ کو ایک چغہ ( چولہ) ملاتھا جس پر کلمہ طیبہ قرآنی آیات ، سورۃ فاتحہ ، سورۃ اخلاص ، سورۃ نصر ، آیۃ الکرسی اور اسماء الحسنی درج ہیں ۔ یہ چولہ ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور میں آج بھی موجود ہے ۔ (پروفیسر جی این امجد ایم اے : گرو نانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور: 25) نوٹ: اس کتاب کے سر ورق پر گرونانک کے اس چولے ( چغہ) کی تصویر موجود ہے ۔ جو آپ کو بغداد شریف سے ملا تھا اورجس پر قرآنی درج ہیں۔ ڈیرہ بابا نانک کے متولی سردار بلونت سنگھ نے گرونانک کی پانچ سویں برسی پر 23  نومبر 1939ء کو اپنی ایک گفتگو میں یہ اعتراف کیا کہ اس چولہ پر سوائے عربی کے کوئی حروف نہیں ہیں( پروفیسر جی این امجد ایم اے : گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور ، صفحۃ 38) گرونانک اپنی زندگی کے آخری حصہ  میں دریائے راوی کے کنارے کرتار پور کا ایک قصبہ آبادکیا( جو آجکل تحصیل شکر گڑھ میں دربار صاحب کے نام سے مشہور ہے ) اوراپنے گھر کے متصل ایک مسجد تعمیر کروائی اور اس میں نماز پڑھانے کےلئے ایک امام بھی مقرر کیا تھا( پروفیسر جی این امجد ایم اے : گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور صفحہ 16)گرونانک کے دو ساتھی جو ہر وقت  آپ کے ساتھ رہے تھے، وہ بھی مسلمان تھے ۔ اکٹھے کھاتے پیتے اوررہتے تھے۔ ان میں کوئی امتیاز نہ تھا، یہ اسی وقت  ممکن ہے جب مذہبی ، نظریاتی اورفکری طور پر ہم آہنگی ہو( پروفیسر جی این  امجد ایم اے: گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور صفحہ 23) حسن ابدال میں ’’پنجہ صاحب‘‘ کی کہانی جو مشہور ہے اس کی کوئی اصل اور حقیقت نہیں کیونکہ حضرت بابا حسن ابدال المعروف بابا ولی قندھاری علیہ الرحمہ اور گرو نانک ہم عصر نہ تھے۔ بلکہ بابا ولی قندھاری کی وفات 1417ء اور 1447ء کے درمیان ہوئی اور قندھار ’’افغانستان‘‘ میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے جبکہ گرونانک کی پیدائش 1469ء میں ہوئی تھی۔ (تفصیل کےلئے دیکھئے:تاریخ حسن ابدال : پروفیسر منظور الحق صدیقی مطبوعہ لاہور 1977ء)

المختصر گرونانک اسلامی عبادات نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور کلمہ طیبہ و اذان کی حقانیت اور  اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے ۔ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر کامل اعتماد رکھتے تھے ۔مصورپاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال علیہ الرحمہ نے گرونانک کے پیغام توحید کی کیفیت کو یوں واضح کیا ہے ۔

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے( ڈاکٹرمحمد اقبال : کلیات اقبال مطبوعہ لاہور صفحہ 286)

افسوس کہ سکھ حضرات بناوٹی رسموں، شرکیہ افعال اور غلط فہمیوں میں پڑکر اس ست مارگ یعنی صراط مستقیم سے بہت دور جا پڑے ہیں ۔ جس کی طرف گرو نانک نے رہنمائی کی تھی اور جس پر آپ کی تعلیمات شاہد عدل و ناطق ہیں۔یہ حقیقت بھی نہایت دلچسپ اور ایمان افروز ہے کہ گرونانک نےایک کلیہ کے تحت حروف ابجد سے یہ ثابت کیا کہ کائنات کی ہر چیز حضرت محمد ﷺ کے نور سے منور ہے ۔ اس حقیقت کو گرونانک نےیوں ثابت کیا ہے۔ نام لیو جس اکھردا اس نوں کریو چوگنا دو  ہور ملا کے پنج  گنا کاٹو بیس کٹا باقی بچے سو نو گن کر دو ہور ملا ۔ نانکا ہر اس اکھر وچو نام محمد آیا(پروفیسر جی این امجد ایم اے : گرونانک جی اور تاریخ سکھ مت مطبوعہ لاہور صفحہ 41)ان اشعار کا عام فہم مطلب ملاحظہ فرمائیں۔ کوئی نام لو، اس کے حروف کی تعداد نکالو، پھر اس تعداد  کو چار سے ضرب دو، اس میں دو جمع کر دو، جمع شدہ رقم کو پانچ سے ضرب دو، اب حاصل ضرب کو بیس سے تقسیم کر دو جو باقی بچے اسے نو سے ضرب دو اور حاصل ضرب میں دو جمع کر و، جواب ہمیشہ بانوے آئے گا۔ جو محمد ﷺ کے اعداد ہیں۔ الغرض کسی نام کے بھی حروف گن کر اس فارمولہ کو عمل میں لایا جائے تو یقیناً آخر میں اعداد 92 ہی آئیں گے۔

اور حضرت محمد ﷺ کے اعداد 92 ہی ہیں ۔ بابا گرونانک کی وفات قصبہ دربار صاحب کرتارپور تحصیل شکر گڑھ میں ہوئی تھی۔ ان ایام میں ہندوستان پر شیر شاہ سوری کی حکومت تھی۔ شہنشاہ بابر وفات پا چکے تھے۔ ان دنوں سکھ فرقہ اپنی موجودہ ہیت میں کہیں نہیں تھا۔ بابا گرونانک کی وفات کےموقع پر کرتار پور کے ہندوؤں اورمسلمانوں میں سخت نزاع پیدا ہوا۔ ہندو  اس بات کے دعویدار تھے کہ بابا ہندو تھے۔ اس لئے ان  کی ارتھی کو نذر آتش کیا جائے گا۔ مسلمان اس بات  کے دعویدار تھے کہ بابا جی مسلمان ہیں ۔ انہیں کئی بار نماز ادا کرتے بھی دیکھا گیا ہے ۔ اس کے چشم دید گواہ بھی موجود ہیں۔ لہٰذا ہم انہیں باقاعدہ نماز جنازہ پڑھ کر دفن کریں گے۔ قریب تھا کہ بابا جی کی تدفین کےمسئلہ پر ہندو مسلم فساد برپا ہو جاتا اور کشت وخون تک نوبت پہنچ جاتی کہ تحصیل دار پرگنہ شکر گڑھ نے موقع پر پہنچ کر بیچ بچاؤ کروادیا ۔ تحصیل دار  نے علاقے کے مسلمانوں کی ایک خفیہ میٹنگ بلائی اورکہا کہ تم لوگ آدھی رات کے وقت بابا جی کی میت کو چپکے سے اڑالو اور پندرہ بیس چیدہ چیدہ مسلمان باباجی کی نماز جنازہ پڑھ کر  انہیں خاموشی سے دفن کر دیں۔ تعلقہ دار یعنی تحصیلدار نے تجویز پیش کی کہ صبح کے وقت یہ معطر ریشمی چادر چارپائی پر ڈال دیں اور شور مچادیں کہ بابا جی کی میت کو پرماتما نے آکاش پر بلالیا ہے اور یہ معطر چادربھیج دی ہے۔ اس چادر کودوٹکڑے کر کے ہندو اور مسلمان آپس میں بانٹ لیں۔ مسلمان چادر کو دفن کر دیں اور ہندو اسے نذر آتش کر دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا تعلقہ دار پرگنہ شکرگڑھ کی یہ اسکیم کامیاب رہی ۔  ہندوؤں کو علم نہ ہو سکا کہ بابا گرونانک دفنا دئیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *