درس القرآن اکتوبر

وَإنْ طَآ ئِفَتٰنِ مِنَ الْمؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا ج فَإَنْ م بَغَتْ إَحْدٰھُمَا عَلَی الْاُ خْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓءَ اِلیٰٓ اَمْرِ اللہِ ج فَإَنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ  وَاَقْسِطُوْا ط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔(الحجرات : 10)

ترجمہ: اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کر رہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کےدرمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔ یقیناًاللہ انصاف کرنے والوں سےمحبت کرتا ہے۔

تفسیر

آئندہ زمانہ میں مسلمان حکومتوں کے باہمی اختلاف کی صورت میں بہترین طریق کا ر کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں تو مسلمان حکومتوں کے آپس میں لڑنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اس لئے دراصل اس آیت کریمہ میں ایک عظیم الشان چارٹرپیش کیا گیا ہے جو مسلمانوں ہی کےلئے نہیں غیر مسلموں کےلئے بھی قوموں کے اختلاف کی صورت میں ان میں صلح کرانے سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کے بنیادی خدو خال  یہ ہیں کہ:

1۔ اگر دو مسلمان حکومتیں آپس میں لڑ پڑیں تو باقی مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر دونوں کو لڑائی سے روکیں اور اگر ان میں سے کوئی نصیحت نہ سنے تو فوجی اقدام کے ذریعہ اس کو مجبور کردیں۔

2۔ پس جب وہ لڑائی سے باز آجائیں تو پھر ان کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کرو۔

3۔ مگر جب صلح کروانے کی کوشش کرو تو کامل انصاف کے ساتھ کرو اور دونوں فریق کے ساتھ انصاف سے پیش آؤ کیونکہ آخری نتیجہ اس کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اورجن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے ان کو وہ ہر گز نا کام نہیں ہونے دیتا ۔

ایک دفعہ پھر متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر چہ یہاں خطاب مسلمانوں سےہے مگر جو طریق کا ر ان کو سمجھایا گیا ہے وہ تمام بنی نوع انسان کےلئے قابل تقلید ہے ۔

اس کے بعد مختلف قوموں میں تفرقہ اور انشقاق کی بنیادی وجہ بیان فرماد ی گئی جو دراصل نسل پرستی ہے ۔ ہر قوم جب دوسری قوم سے تمسخر کر تی ہے تو اپنے آپ کو ان سے گویا الگ اور اعلیٰ نسل شمار کرتے ہوئے ایسا کرتی ہے  ۔اس کےبعد متفرق ایسی معاشرتی خرابیاں بیان فرما دیں جن کے نتیجہ میں افتراق پیدا ہوتےہیں۔

(اردو ترجمہ اور تفسیرمرزا طاہر احمد اردو ترجمہ قرآن کریم صفحہ932/ 929)

حدیث

دو احادیث نبویہ میں غزوہ ہند کا خاص طور پر ذکر آیا ہے ۔

1: ہمیں آنحضرت ﷺ نے ہندوستان کی جنگ کی خبر دی ہے اگر مجھے اس میں شامل ہونے کا موقعہ ملا تو میں اپنی جان اور مال اس میں خرچ کر دوں گا ۔پھر اگر میں شہید ہوگیا تو میں بہترین شہیدوں میں شمار ہوں گا۔ اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں آزاد ’’ابو ہریرہ‘‘ ہو گا۔(سنن نسائی کتاب الجہاد )

2:حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ خاص طور پر آگ سے بچائے گا ۔ ایک گروہ وہ جو ہندوستان سے جنگ کرے گا اور ایک گروہ جو عیسیٰ بن مریم ( مسیح موعود) کےساتھ ہوگا۔

(سنن نسائی  والجامع الصغیر)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *