درس قرآن کريم

وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا۔ فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا۔ فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا۔ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۔(سورۃ الذَّ اریات: 2 تا 5)

ترجمہ: قسم ہے (بیج) بکھیرنے والیوں کی۔ پھر بوجھ اٹھانے والیوں کی۔ پھر سُبک رَوی کے ساتھ چلنے والیوں کی۔ پھر کوئی اہم امر بانٹنے والیوں کی۔                                                                 (سورۃ الذّٰریٰت ترجمہ اور تفسیر حضرت مرزا طاہر احمد صفحہ 945/886)

آئندہ جنگوں کی پیشگوئی

الذَّارِیَات : اس سورت الذّٰریٰتکے آغاز ہی میں گزشتہ سورتوں کی پیشگوئیوں کو جن میں جنت و جہنم وغیرہ کی پیشگوئیاں شامل ہیں اتنا یقینی بیان فرمایا گیا ہے جیسے قرآن کے مخاطب آپس میں باتیں کرتے ہیں۔

اس سورتِ کریمہ میں آئندہ زمانہ میں پیش آمدہ جنگوں کو پھر بطور گواہ ٹھہرایا گیا تاکہ جب بنی نوع انسان ان پیشگوئیوں کو یقینی طور پر پورا ہوتا دیکھ لیں تو اس بات میں کوئی شک نہ رہے کہ جس رسول پر یہ غیب کھولا گیا، مرنے کے بعد کی زندگی کے امور بھی یقینی طور پر اسے عالم الغیب اللہ نے بتائے۔

فرمایا: ’’قسم ہے بیج بکھیرنے والیوں کی…‘‘۔ اب ظاہری طور پر لفظاً لفظاً بھی یہ پیشگوئی پوری ہوچکی ہے کیونکہ واقعی آجکل ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ بیج بکھیرے جاتے ہیں اور بہت بڑے بڑے بوجھ اٹھاکر جہاز اُڑتے ہیں اور باوجود ان بوجھوں کے سبک رَو ہوتے ہیں اور اہم اطلاعات ان جہازوں کے ذریعہ مختلف غالب قوموں کو بھی پہنچائی جاتی ہیں اور مغلوب اور مقہور قوموں کو بھی۔ ان سب کو گواہ ٹھہرا کر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو وہ یقینا ہوکر رہنے والا ہے اور جزا سزا کا دن یعنی فیصلے کا دن دنیا میں دنیاوی قوموں کے لئے بھی ہوگا اور آخرت میں تمام بنی نوع انسان کے لئے بھی۔

اس کے بعد یہ واضح کردیا گیا کہ یہ بیج بکھیرنے والیاں اور بوجھ اٹھانے والیاں کوئی زمین پر بوجھ اٹھاکر چلنے والی چیزیں نہیں ہیں بلکہ آسمان پر اُڑنے والے وجود ہیں۔ چنانچہ اس آسمان کو گواہ ٹھہرایا گیا جو فضائی رستوں والا آسمان ہے۔ چنانچہ آج نظر اٹھاکر دیکھیں تو ہر جگہ جہازوں کے رستوں کے نشان ملتے ہیں۔ پس ان سب امور کا نتیجہ یہ نکالا گیا کہ تم آخرت کا انکار کرکے شدید گمراہی میں مبتلا ہوچکے ہو۔ اگر نعوذباللہ یہ باتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہیں کسی اٹکل پچو مارنے والے کی باتیں ہوتیں تو اٹکل پچو سے کام لینے والے تمام ہلاک ہوگئے مگر یہ رسولؐ ہمیشہ کے لئے باقی ہے۔

الدُّخَان : اس سورت کا نام ’’دُخان‘‘ رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جن اندھیروں کا وہ شکارہیں ان کے بعد تو کوئی رحمت کی صبح نہیں پھوٹے گی بلکہ وہ اندھیرے ان کے لئے دخان کی طرح ان کا عذاب بڑھانے کا موجب بنیں گے۔ اس جگہ دخان سے ایٹمی دھوئیں کی طرف بھی اشارہ مراد ہوسکتا ہے جس کے سائے کے نیچے کوئی چیز بھی محفوظ نہیں رہ سکتی بلکہ طرح طرح کی ہلاکتوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ جدید سائنسدانوں کی طرف سے یہ تنبیہ ہے کہ ایٹمی دھوئیں کے سائے کے نیچے زندگی کی ہرقسم مٹ جائے گی یہاں تک کہ زمین کے اندر د فن جراثیم بھی ہلاک ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ایسا ہوگا تب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے کہ اے اللہ! اس نہایت دردناک عذاب کو ہم سے ٹال دے۔ یہاں یہ پیشگوئی بھی فرمائی کہ اس قسم کا عذاب وقفہ وقفہ سے آئے گا۔ یعنی ایک عالمی جنگ کی ہلاکت خیزیوں کے بعد کچھ عرصہ مہلت دی جائے گی، اس کے بعد پھر اگلی عالمی جنگ نئی ہلاکتیں لے کر آئے گی۔

سورۃ الدّخان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ علم دیا گیا تھا کہ اس کی پیشگوئیوں کے ظہور کا زمانہ دَجَّال کے ظہور سے تعلق رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *