اداسیاں ویرانیاں مرے اندر کی دیکھ کر مجھے کسی نے بتایا ہے مر گیا ہوں میں

تحریر زیب النساء دہلی

نوید آج گھر سے نکل چکا تھا یہ سوچ کر کہ اب پیچھے مڑکر نہیں دیکھوںگا۔ مگر افسوس اسے مڑنا ہی پڑا۔ کیوں؟ آئیے ذرا اس پر روشنی ڈالیں۔

ایک بڑا معصوم سا بچہ زمین پر درخت سے گِرے سوکھے پتّوں کو چُنتے ہوئے بڑے خوشنما انداز میں کہہ رہا تھا:

مسکراہٹ تبسم اور قہقہے

سب کے سب کھوگئے ہم بڑے ہوگئے

یہ مصرع دوہراتا جاتا اور زمین پر پڑے پتے اکٹھا کرتا  جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پتوں کا ڈھیر گٹھری کا روپ لے چکا تھا۔ اب اس گٹھری کو اپنی ننھی سی پیٹھ پر لاد کر اس جانب چل دیا جدھر اس کا گھر تھا۔ وہ آگے آگے چل رہا تھا اور نوید پیچھے پیچھے۔ جی ہاں، ہم اسی نوید کی بات کررہے ہیں جس نے تھوڑی دیر پہلے عہد کیا تھا اور قسم کھائی تھی کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گا۔ مگر اسے دیکھنا پڑا، اس دلیر اور معصوم کے حوصلے کو دیکھ کر۔

جانتے ہیں اس بچے کے حوصلے نے ہی نوید کو اس کے پیچھے جانے پر مجبور کردیا تھا اور اب وہ اس بچے کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر کی قریب تھا۔ اگلا منظر کچھ یوں تھا:

دروازہ کھلا تو سفید لباس میں کھڑی ایک عورت اس سے کچھ یوں بولی ’’میرے بچّے! تم نے آنے میں اتنی دیر کردی۔‘‘

بچے نے مسکراکر جواب دیا: ’’اماں! آج ہوا چلنے کا انتظا رکررہا تھا۔‘‘

ماں نے حیران ہوکر پوچھا: ’’وہ کیوں؟‘‘

بچہ بولا: ’’اُف اماں! اتنا بھی نہیں جانتیں۔ ارے بھئی، جب تیز ہوا چلے گی تبھی تو درخت کے پتے ٹوٹیں گے اور پھر وہ پتے زمین پر گریں گے ۔ سوکھے پتوں سے چولھے کی آنچ بھی تیز اور دیر تک جلے گی اور آپ میرے من مطابق کھانا بھی بنا سکیں گی۔ پسندیدہ کھانا ہوگا تو پیٹ بھر جائے گا، اور پھر پڑھنے میں زیادہ جی لگے گا۔ زیادہ پڑھوں گا لکھوں گا تو ایک دن بابو افسر بن جائوں گا۔ اور جب کسی بڑے عہدے پر پہنچ جائوں گا …‘‘

وہ اپنی بات پوری بھی نہ پایا تھا کہ اس کی ماں بیچ ہی میں بول پڑی: ’’اُف میرے خدا! اپنی تمنائوں میں تھوڑی تو کمی کرو بیٹا۔ بہرحال ان سب باتوں میں تم ایک بات تو بھول ہی گئے۔‘‘

بچے نئے چونک کر پوچھا: ’’کون سی؟‘‘

اماں گہری سانس لے کر بولی: ’’تم بھلے ہی سب کے حقوق ادا کرو، کتنی ہی کامیابی کیوں نہ حاصل کرو۔ اگر تم نے اللہ کا حق ادا نہ کیا تو سمجھ لو تم راجا ہوکر بھی رنک ہو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اماں نے آسمان کی جانب دیکھا تو بچہ بول اٹھا:

’’اماں! اللہ کا حق کیا ہوتا ہے؟‘‘ یہ ایک معصوم دل میں اٹھنے والا سوال تھا اور اب اس سوال کا جواب ماں نے کچھ یوں دیا:

’’بیٹا! اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ انسان صرف اسی کو خدا مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ یہ حق لا الٰہ اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) پر ایمان لانے سے ادا ہوتا ہے۔ اللہ کا دوسرا حق یہ ہے کہ جو ہدایت اس کی طرف سے ہمیں دی گئی ہیں انھیں سچے دل سے تسلیم کیا جائے۔ اللہ کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے۔ یہ حق خدا کی کتاب اور اس کے رسولﷺ کی سنت کی پیروی اور اس پر عمل کرنے سے ادا ہوگا۔ چوتھا حق خدا کی عبادت کرنے سے ادا ہوگا۔ اسلامی حقوق کے دو حصے ہیں۔ اللہ کا حق اور دوسرا بندوں کا حق۔ اللہ کا حق دوسرے حق سے اونچا ہے۔

اللہ کے حق کے بارے میں میں تمھیں بتا چکی ہوں۔ اب بندوں کے حق کے بارے میں بتاتی ہوں۔ قرآن میں زیادہ تر بندوں کے حق کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ وہ اپنے تعلقات آپس میں درست رکھیں۔ ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں۔ اور نہ ہی غیبت کریں۔

حقوق کی ایک کڑی والدین کے حقوق کی بھی ہے۔ قرآن نے اس کے بارے میں تاکید کی ہے کہ ’’اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ یاد رکھو بیٹا! نبیﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی تو اس کے لیے جنت لازمی ہوگئی۔‘‘

’’اوہ اماں! اب تو میں تمھیں تنہا چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گا۔ تمھاری خوب خدمت کروں گا۔‘‘ معصوم بچے کا یہ سچا جذبہ دیکھ کر اماں نے اپنے آنسو دوپٹے سے پونچھے اور بولی: ’’بیٹا! سارے حقوق سے اوپر رَب کریم کا حق ہے۔ بس اسے کبھی نہ بھولنا۔ میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی۔ ارے ہاں! ایک حق کے بارے میں تو میں بتانا ہی بھول گئی۔ جسے ہم سایے کا حق کہتے ہیں۔‘‘

پھر اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولی ’’ہم سایے یعنی پڑوسی۔ اسلام میں پڑوسیوں کے زیادہ حق بتائے ہیں۔ ان حقوق کا قرآن میں بھی ذکر ہے۔ اللہ کے رسولﷺ فرماتے تھے کہ ’’حضرت جبرئیلؑ مجھے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں اتنی تاکید کرتے تھے کہ مجھے شک ہوتا تھا کہ انھیں ترکے (وراثت) میں وارث بنادیا جائے گا۔‘‘

اتنا کہہ کر اماں گہری خاموشی کے ساتھ جالیٹی اور بچہ اپنی ماں سے لپٹتے ہوئے بولا: ’’اماں! تم روز مجھے اسی طرح کچھ نہ کچھ سنایا کرو۔‘‘

اماں نے جواب دیا: ’’انشاء اللہ!‘‘

اور اس طرح دونوں ماں بیٹے کی بات چیت ختم ہوئی۔ اُدھر نوید جو بہت دیر سے کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا، اس نتیجے پر پہنچا کہ سچ ہی تو کہا ہے کہ ماں ہی بچے کی اصل استاد ہوتی ہے۔ اور اس کی گود انسانیت کا پہلا مدرسہ اور اس کی دی ہوئی تربیت پہلی ٹریننگ ہے۔ کاش! میری ماں بھی ایسی ہی ہوتی تو آج میں یوں تنہائی کے جنگل میں نہ بھٹک رہا ہوتا۔ 

آج اس کے دل میں ایک تڑپ تھی، ایک کسک تھی۔ اور اس کسک میں مُٹھی بھر ممتا کی پیاس بھی شامل تھی۔ یہ کہتے ہوئے اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور دل ہی دل میں کہا:

اداسیاں ویرانیاں مرے اندر کی دیکھ کر

مجھے کسی نے بتایا ہے مر گیا ہوں میں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *