خوشی کی بات ہے اُس کو معاف میں نے کیا

شفیقؔ رائے پور ی چھتیس گڑھ انڈیا

 

ہمیشہ بیتِ وفا کا طواف میں نے کیا

خطا اُدھر سے ہوئی اعتراف میں نے کیا

مِرا ضمیر ہے منصف مجھے سزا دے گا

صداقتوں سے اگر انحراف میں نے کیا

دکھا کے لوگوں کو آئینہ کیا ملا مجھ کو

تمام شہر کو اپنے خلاف میں نے کیا

سزا  نہ دے کے سبق دے دیا ستمگر کو

خوشی کی بات ہے اُس کو معاف میں نے کیا

مِرا مزاج نہیں ہاں میں ہاں ملانے کا

غلط تھی بات تِری اختلاف میں نے کیا

مِری خوشی کا وہ قاتل تھا باوجود اِس کے

شفیقؔ اُس کو بھی دل سے معاف میں نے کیااردو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *