رات میں اپنی ہی تصویر سے ڈر جاتا ہوں

خیرالدین اعظم علی گڑھ

ساری دنیا سے تو بے خوف گزر جاتا ہوں

اپنے ہی شہر میں آتے ہوئے ڈر جاتا ہوں

جانے کس طرح کی چلتی ہے کہانی مجھ میں

میں ہی ہر قصے کے آغاز میں مر جاتا ہوں

مجھ میں رہتا ہے کوئی اور بھی میرے جیسا

ہو جو تنہائی تو میں اس میں اتر جاتا ہوں

جمع کرتا ہوں میں دن کے لیے خود کو ہر صبح

اور پھر شام کے ہوتے ہی بکھر جاتا ہوں

مجھ پہ وہ خوف کا عالم ہے کہ اک مدت سے

رات میں اپنی ہی تصویر سے ڈر جاتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *