غزل

 

در ثمین طاہر

گمنام سی جگہ پر بے نام سی قبر ہو

پر میرے پیارے مولیٰ اس پر تری نظر ہو

 

گذری قیامتوں کو ہے کون یاد رکھتا

جو آنے والے دن ہیں ان میں ترا ہی ڈر ہو

 

جو سال بھر ہرا ہو اور پھل سے بھی بھرا ہو

یا رب کبھی جہاں میں ایسا بھی اک شجر ہو

 

دل سب کا شاد رکھں گھر پاک صاف رکھوں

مولیٰ اے کاش مجھ میں ایسا ہی کچھ ہنر ہو

 

دن کے کڑے سفر میں دل میں ہوں تیری باتیں

اور رات کو بھی مالک تو میرا ہمسفر ہو

 

ہو خود بخود ہی دل کی آہٹ کو سننے والا

میرے قریب یا رب ایسا کوئی بشر ہو

 

جس کی ہو مصطفیٰ سے گہری بہت محبت

اس رہ گزر میں یارب میرا وہ ہم سفر ہو

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *