برطانیہ کے بادشاہ نے اپنے کزن زار روس کو کیسے دھوکہ دیا.

تحر یر ہارون ملک

یہ 13 جون 1917 کی رات کا آخری پہر ہے جب جرمنی کے زیرِ تسلط بیلجیم سے کُچھ بمبار طیارے اُڑتے ہیں۔ اُن کی منزل لندن ہے۔ صبُح صُبح وُہ لندن کے مشرقی حصے پر پُہنچتے ہیں۔ پاپلر کے اپر نارتھ سٹریٹ سکول میں بچوں نے اپنی ریاضی کی کلاس بس شروع ہی کی ہے۔ ایک بچے کے آنکھوں دیکھے حال کے مُطابق ”میں ابھی اپنا پانچواں سوال حل کررہا تھا کہ باہر طیاروں کی آوازیں سُنائی دیں میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ یہ اپنے مُلک کے جہاز ہیں تب ہی بم دھماکوں کی خوفناک آواز سُنائی دی اِس حملے میں اٹھارہ چھوٹے معصوم سکول کے بچے اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ اُس دِن لندن میں ایک سو باسٹھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

یہ بات بُہت خطرناک تھی اِس سے پہلے لندن میں شہریوں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اُن جرمن بمبار طیاروں کا نام تھا گوتھا بمبار اور شاہی خاندان جو برطانیہ پر بادشاہت کررہا تھا اُس کا نام سیکس کوبرگ گوتھا تھا۔ یہ بُہت غلط شروعات ہونے والی تھیں کیونکہ جرمن طیاروں اور برطانوی شاہی خاندان کے ناموں میں مماثلت بُہت زیادہ تھی۔ لندن کے شہریوں میں جرمن اور جرمن سے جُڑی ہر چیز اور نام سے نفرت بڑھ رہی تھی حتیٰ کہ جِن دُکانوں کے نام جرمن تھے اُن پر بھی بلوائیوں کے حملے ہونے لگے اور جو جرمن شہری لندن میں رِہ رہے تھے اُن کی زندگیاں بھی خطرے میں تھیں۔

موجودہ برطانوی شاہی خاندان یعنی رائل ہاؤس آوو ونڈسر Royal House of Windsor نے ابھی کُچھ عرصہ پہلے ہی اپنے حالیہ نام کے ساتھ برطانیہ پر بادشاہت کے سو سال سیلبریٹ کیے ہیں۔ یہ خاندان اب دُنیا کا سب سے مشہور شاہی خاندان ہے۔ جب دُوسری بادشاہتیں اور سلطنتیں بِکھر رہی تھیں تب انہوں نے ترقی کی۔ اُنھوں نے اپنے دُوسرے شاہی خاندان کے رشتہ داروں کو معزول ہوتے، جلا وطن ہوتے اور حتیٰ کہ مرتے بھی دیکھا۔ اپنے خاندان میں بغاوت اور غداری دیکھی۔ ونڈسر نے اپنی بقا کا سبق سو سال پہلے پہلی جنگِ عظیم میں سیکھا۔

شاہی خاندان کو لندن میں بڑھتی نفرت سے اندازہ ہُوا کہ اُن کا اپنا جرمن نام کا برانڈ دُرست نہیں لہٰذا اب تبدیلی ضروری تھی۔ اگست 1914 میں جب بادشاہ اُنچاس سالہ جارج پنجم تھا جو ایک نرم خُو سا بادشاہ تھا۔ بادشاہ بننے سے پہلے وُہ محض تیتر یا دیگر جانوروں کا شکار کیا کرتا تھا۔ جارج پنجم جنگجو یا بُہت زیادہ انساپئرنگ بالکل بھی نہیں تھا اور وُہ شِکار کے عِلاوہ ٹکٹیں جمع کرنے کا شوقین تھا۔ بقول ادیب ایچ جی ویلز بادشاہ ”alien and uninspiring“ تھا اور بادشاہ کا اصل مسئلہ بھی یہی تھا کہ وُہ اجنبی تھا، اُس کی رگوں میں انگلش خُون نہیں تھا۔

اُس کے والد ایڈورڈ ہفتم مکمل جرمن جبکہ ماں یعنی ایڈورڈ ہفتم کی بیوی ڈنمارک سے تھیں جبکہ جارج کی دادی یعنی ملکہ وکٹوریہ بھی جرمن تھیں اور البرٹ یعنی ملکہ وکٹوریہ کے شوہر بھی کوبرگ سے تھے یعنی ایک اور جرمن۔ اِس کا سادہ سا مطلب یہ تھا کہ وُہ ایک مکمل غیر مُلکی تھے۔ ایڈورڈ ہفتم ایک مکمل جرمن تھے جبکہ اُس کا بیٹا جارج پنجم جو اِس پوسٹ کا اہم کردار بھی ہے وُہ پہلا برطانوی بادشاہ تھا جس نے ونڈسر کا نام استعمال کیا، جارج پنجم ہاف جرمن اور ہاف ڈینش ( ڈنمارک ) تھے یعنی تکنیکی طور پر اُن کی رگوں میں بھی انگریزخون نہیں تھا۔

ملکہ وکٹوریہ کے نو میں سے آٹھ بچوں نے یورپ کے دُوسرے شاہی خاندانوں میں شادیاں کیں۔ پہلی جنگِ عظیم سے پہلے زیادہ تر یورپی بادشاہتوں پر ملکہ برطانیہ وکٹوریہ کے نواسے، پوتے پوتیاں براجمان تھے۔ جارج پنجم رُوس کے زار نکلس دوم اور جرمن قیصر ولہم کے فرسٹ کزن بھی تھے۔ جارج پنجم کی وائف کوئین میری بھی جرمن تھیں جو جرمن لہجے میں انگریزی بولتی تھیں۔

جب پہلی جنگ عظیم شروع ہُوئی تو جارج پنجم کا خیال تھا کہ چُونکہ یورپ کے زیادہ تر ممالک پر اُس کے کزنز ہی بادشاہت کررہے ہیں تو یہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی لیکن چند ہی ماہ میں اُس کی یہ غلط فہمی دُور ہوگئی۔ عوام کا مُوڈ بھی بُہت جارحانہ تھا۔ اینٹی جرمن فسادات اور جرمنوں سے نفرت اپنے عُروج پر تھی۔ یورپ کی بادشاھت کا نظام بھی خراب ہورہا تھا مارچ 1917 میں جارج پنجم کو اپنے فرسٹ کزن زار اوو رشیا نکلس دوئم کی معزولی کی خبر مِلی۔ یہ بادشاہت کے بین الاقوامی کلب کو پہلا شدید جھٹکا تھا۔ بچپن سے ہی زار یعنی نکولس دوئم اور جارج نے بارہا اکٹھے چھُٹیاں گُزاری تھیں۔ جارج نکولس کو پیار سے نکی کہتا تھا اور اُسے اپنا سول میٹ کہتا تھا۔ 19 مارچ 1917 کو جارج نے نکولس کو ٹیلی گرام بھیجا اور اُسے تسلی دی کہ وُہ فِکر نہ کرے وُہ اُسے جلد ہی رُوس سے نِکال لے گا۔

نکلس کی معزولی کے بعد وہاں کی حکومت نے برطانوی سفیر سے کہا کہ اگر رومناف فیملی یعنی معزول شاہی خاندان کو برطانیہ اسائلم یعنی پناہ دے دے تو یہی بہتر ہوگا کیونکہ یہاں پر اُن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اُس وقت کے برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ لوئیڈ جارج نے ابتدا میں اپنے سفیر کو اسائلم دینے کی حامی بھرلِی۔ بادشاہ جارج پنجم کے پرائیویٹ سیکریٹری لارڈ سٹیمفورڈھم نے بادشاہ کو مشورہ دِیا کہ رُوس کے بادشاہ کی معزولی پر شاہی خاندان یعنی آپ تو پریشان اور دُکھی ہیں لیکن برطانوی عوام اِس انقلاب پر بُہت خُوش ہے کیونکہ وُہ زار کو ظالم اور مسلط بادشاہ سمجھتے ہیں۔ اُدھر برطانوی عوام میں موجود سوشلسٹ اور ریپبلکنز کی ایک بڑی تعداد نے رُوسی انقلاب کی خُوشی اور حمایت میں ریلیاں نکالیں۔ سٹیمفورڈھم نے ایک فائل مرتب کی جس کا نام تھا ملک میں بے چینی۔ اِس فائل میں خُفیہ اطلاعات وغیرہ بھی شامل تھیں۔ اب یہ تمام کاغذات ایک فائل کی صُورت میں ونڈسر کاسل میں صدیوں پُرانے دُوسرے لاکھوں شاہی ریکارڈز کے ساتھ موجود ہیں۔

خیر اِس دوران دو تین ہفتے گُزر گئے اور نکولس یہ سمجھتا رہا کہ ابھی تک وزیرِاعظم لائیوڈ جارج باقاعدہ اسائلم کا حُکم جاری نہیں کرسکے لیکن ایسا نہیں تھا کیونکہ 6 اپریل 1917 کو ونڈسر کاسل سے ایک شاہی خط فارن سیکریٹری آرتھر بالفور کو بھیجا گیا کہ رُوس کے بادشاہ کا یہاں آنا عوام میں بے چینی اور نفرت کو بڑھاوا دے گا۔ دُوسرا خط بھی اُسی دِن روانہ کیا گیا جِس میں بادشاہ نے عندیہ دیا کہ وُہ پہلے دی گئی اسائلم کی اجازت کو عوام کی ناراضگی کو مدِنظر رکھتے ہُوئے واپس لے لینا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ کنگ جارج کو یہ صاف نظر آرہا تھا کہ اگر زار یہاں انگلینڈ آتے ہیں تو اُن کی اپنی بادشاہت شدید خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ بہرحال فارن سیکریٹری نے وزیرِ اعظم برطانیہ سے ڈسکس کیا اور اِس طرح وزیرِ اعظم اور کابینہ نے اسائلم کی اجازت واپس لینے کا فیصلہ کِیا۔

رُوس میں زار اپنے کزن کے اِس فیصلے سے بے خبر تھا اور برطانیہ روانگی کی تیاریوں میں تھا۔ چھ ماہ بعد ہی رُوس پر اقتدار پر بولشویک پارٹی کا قبضہ ہوگیا۔ اب زار اور اُس کی فیملی کو یکاٹیرن برگ میں ایک گھر میں مُنتقل کیا گیا۔ جہاں جلد ہی آدھی رات کو تہہ خانے میں نکولس اپنی بیوی اور پانچ بچوں سمیت قتل کر دیے گئے جبکہ لینن کی حکومت یہ جُھوٹ پھیلاتی رہی کہ صرف نکولس کو مارا گیا ہے جبکہ اُس کی فیملی کو برطانیہ بھیج دیا گیا ہے۔

بہرحال اِن تمام واقعات کے بعد بالاخر کنگ جارج نے زار کی بہن زینیا اور اُس کے بیٹے پرنس آندرے کو انگلینڈ آنے کی اجازت دے دی۔ (برطانوی جنگی جہاز نے اُس کو اور اُس کے بیٹے پرنس آندرے کو وہاں سے نکالا تھا ) پرنس آندرے، پرنسز اولگا کے والد تھے، پرنسز اولگا ابھی زِندہ ہیں اور لندن کے علاقے کینٹ میں رہتی ہیں۔ وُہ کہتی ہیں کہ زار نکولس ہمیشہ برطانوی وزیراعظم کو قُصوروار سمجھتے رہے کہ اُس نے اسائلم کی اجازت نہیں دِی تھی لیکن اصل میں تو یہ جارج پنجم کا آئیڈیا تھا۔ پرنس اولگا مزید کہتی ہیں کہ چلو اچھا ہُوا زار یہ جاننے سے پہلے گُزر گئے ورنہ اُن کو بُہت زیادہ دُکھ ہوتا، بہرحال جارج کے سنگدلانہ انکار نے اپریل 1917 میں بین الاقوامی بادشاہت کے کلب کا خاتمہ کردیا۔

لارڈ سٹیمفورڈھم نے کنگ جارج اور کوئین میری کو عوام میں گُھلنے مِلنے کا مشورہ دِیا کیونکہ پہلی جنگِ عظیم میں جب لندن کے شہریوں کا بالخصوص اور انگلینڈ کے شہریوں کا بالعموم رویہ شاہی خاندان سے ناراض ناراض سا تھا اور مُمکن تھا کہ یہ ناراضگی بغاوت تک چلی جاتی تو ایسے حالات میں شاہی خاندان کا اِس طرح لوگوں میں گھلنے ملنے سے بڑا اچھا اور مثبت اثر ہوسکتا تھا۔ 1917 کے بہار کے موسم میں پرنس اوو ویلز اور مستقبل کے بادشاہ ایڈورڈ ہشتم بھی اگلے مورچوں پر اپنی افواج کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور وُہ اپنے لوگوں میں کافی زیادہ پسند بھی کیے جاتے تھے۔ دُوسرا بیٹا پرنس برٹی بھی نیوی میں خدمات سرانجام دے رہا تھا پرنس برٹی موجودہ ملکہ الیزیبتھ دوئم کے والد تھے۔ پرنس برٹی تھوڑا ہکلاتا تھا اور اُسے نی نوکنگ کا مسئلہ بھی تھا۔

بہرحال ابھی برطانوی شاہی خاندان کو اپنے لئے ایک نئے نام کی تلاش تھی اور بادشاہ کے پرائیویٹ سیکریٹری لارڈ سٹیمفورڈھم سوچ سوچ کر تھک چُکے تھے۔ جو نام ابھی چل رہا تھا یعنی سیکس کوبرگ گوتھا / گوٹا، یہ نام ملکہ وکٹوریہ کے جرمن شوہر پرنس البرٹ نے رکھا تھا اور اب اِس نام کے ساتھ مزید چلنا نامُمکن تھا۔ کئی نام سوچے گئے جیسے کہ Tudor، Stuart، Fitzroy وغیرہ لیکن سب کے سب نام اچھا تاثر نہیں دے رہے۔ لارڈ سٹیمفورڈھم اِس ضمن میں کافی پریشان تھا۔ 13 جون 1917 کو جرمن طیاروں نے لندن پر پھر بمباری کی اور اُسی دِن ونڈسر کاسل کی کھڑکی میں کھڑے کھڑے اُسے یہ نام ذہن میں آیا۔

اب یہ برطانوی شاہی خاندان کا نیا نام تھا اور اب برطانوی بادشاہت اِس نام کے ساتھ آگے چلنی تھی۔ یہ نام انگریزی تھا اور اِس سے اجنبیت کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ کنگ جارج نے اپنے پرائیویٹ سیکریٹری کا اِس نام والے مسئلے کو حل کرنے پر بُہت شُکریہ بھی ادا کیا اور تعریفی خط بھی لکھا۔

11 نومبر 1918 میں پہلی جنگِ عظیم ختم ہوگئی۔ اِس جنگ میں دس لاکھ کے قریب برطانوی افراد مارے گئے تھے۔ یورپ میں نو کے قریب بادشاہ اپنے تخت سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جِن میں کنگ جارج کے جرمن اور رشین کزنز بھی شامل تھے۔ لیکن لندن میں بادشاہ اور شاہی خاندان کو اب کوئی خطرہ نہیں تھا۔ پرنس برٹی اور الیزبتھ کی شادی ویسٹ منسٹر ایبی میں 26 اپریل 1923 میں ہُوئی تھی جبکہ اکتالیس سالہ کنگ ایڈورڈ ہشتم جو اپنے والد جارج پنجم کی وفات کے بعد بادشاہ بنے وُہ ابھی تک غیر شادی شُدہ تھے۔

1934 میں ایک امریکن خاتون والس سمپسن جو دو بار طلاق یافتہ تھی اُس کے ساتھ کنگ ایڈورڈ کا افیئر چلا لیکن اُس وقت کے حساب سے بادشاہ ایک مطلقہ عورت سے شادی نہیں کرسکتا تھا تو بادشاہ نے ولیس سمپسن کی خاطر 10 دسمبر 1936 کو اپنی مرضی سے تاجِ برطانیہ چھوڑ دیا۔ اِس وجہ سے اب پرنس برٹی کو برطانیہ کا نیا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ برٹی نے اپنے والد کے نام کی مُناسبت سے اپنا ٹائٹل جارج ششم رکھا۔ موجودہ ملکہ الیزیبتھ دوئم جارج ششم کی ہی بیٹی ہیں جو 2 جون 1953 کو ملکہ برطانیہ بنیں اور ابھی تک ہیں۔ ملکہ برطانیہ کامن ویلتھ ممالک کی بھی ملکہ ہیں اور اُن کی عِزت پُوری دُنیا میں کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *