نظم

فریال صباء

اب کے اترے یہاں عذاب کیسے کیسے

ڈھل گئے ہیں لوگو شباب کیسے کیسے

قدم سنبھال کے رکھنا یہ پل صراط ہےصاحب

حقیقتوں کےروپ میں دیکھوسراب کیسےکیسے

چلی یہ آندھیاں کیسی یہ کیا طوفان ہے یا رب

اجڑ گئے تیرے شہر میں سہاگ کیسے کیسے

چتا جلاتے ہیں اور راکھ بھی اڑاتے ہیں

یہ کیسی رسم ہے خالق تیرےاصحاب کیسے کیسے

خوشی میں مست اپنی دھول اڑاتے جاتے ہیں

پھر اس پہ ظلم یہ مانگیں حساب کیسے کیس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *