جس روزانسان ہنستا نہیں وہ زندگی کا ضائع دن ہے

شعبہ انٹرنیشنل

بشارت احمد بشارت

جرمنی کے شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والی لنڈا فشر صاحبہ، جو گذشتہ چالیس سال سے شعبہ صحت میں سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ انتہائی مہذب بااخلاق اور خوش مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے حلقہ احباب میں مسکراہٹیں اور خوشیاں بانٹنے والی لنڈا فشر صاحبہ سب کے دلوں میں اپنے لئے احترام ،محبت اور چاہت کی جگہ رکھتی ہیں۔پچھلے دنوں دو ہفتوں کی سیاحت کے لئے میں ترکی گیا تو وہیں ہوٹل میں ان سے میری ملاقات ہوئی کیو نکہ یہ بھی سیاحت کی غرض سے وہاں موجود تھیں اور اسی ہوٹل کی لابی میں ان کی بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے اْن کے ساتھ انٹر ویو کرنے کا موقع مل گیا۔

جب میں نے ان سے پو چھا کہ ایک جرمن عورت کن حالات میں خوش رہتی ہے توکہنے لگیں کہ آپ کے سوال کا جوب اتنا وسیع ہے کہ اس کے جواب کے لئے شائد پورا دن درکار ہو لیکن چونکہ ہرا نسان کے خوش رہنے کے معیار الگ الگ ہیں اس لئے دوسروں کے متعلق کو ئی حتمی رائے دینا تو کافی مشکل ہے لیکن جہاں تک میری ذات اور خیالات کا تعلق ہے میں یہ کہوں گی کہ اگر جرمن ہونے کے ناطے میری ایک مستقل ملازمت ہو جو کہ میرے پاس ہے ، میں اپنے کام کو انتہائی لگن محنت اور دیانتداری سے کرتی ہوں اس کے بدلے میں کام والی جگہ پر مجھے ہمیشہ عزت دی جاتی ہے جس سے مجھے دلی خوشی ہوتی  ہے اور اگر ملنے اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے مثبت سوچ رکھنے والے ہوں خلق خدا سے دلی محبت کرنے والے ہوں تو انسان کافی حد تک ایسے حالات میں خوش رہ سکتا ہے ایک معقول آمدنی اور کسی کا مالی لحاظ سے مرہون منت نہ ہونابھی خوشی میں اضافہ کرتا ہے چھٹیوں کے دنوں میں نیلا آسمان دھوپ کھجور کے سڑکوں پر لگے درخت اور ترک قوم کا حسن سلوک بھی میرے لئے خوشی کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ میں اکثر اپنی چھٹیاں گذارنے کے لئے ترکی کاہی انتخاب کرتی ہوں ترکی موسم کے لحاظ سے بھی اچھا ہے جرمنی سے زیادہ دور بھی نہیں اور کافی سستا بھی ہے میرے خیال میں اگر میں یہ کہوں کہ جرمن عورت کو مصیبت کے وقت خاص طور پر دوسری قوموں اور ملکوں کی مدد کرکے بھی دلی خوشی ہوتی ہے تو یہ بات غلط نہ ہوگی میرے خیال میں شائد ساری دنیا کی عورتیں ہی مصیبت زدہ لوگوں کے لئے دل میں ہمدردی کے جذبات مردوں کی نسبت زیادہ رکھتی ہیں۔

اپنے آپ کو تندرست رکھنے کے لئے آپ کیا تدابیر اختیار کرتی ہیں ۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہنے لگیں انسان کو زندگی کے جہاں دوسرے کاموں میں میانہ روی اختیار کرنی چاہئے وہاں خوراک کے سلسلے میں بھی اس اصول کو مدِنظر رکھنا چاہئے جیسے روزانہ ورزش کرنا، کم گوشت، زیادہ سبزیاں اور پھل کھانے چاہئیں ۔ پانی کا استعمال کثرت سے کرنا چاہئے اور معمولی معمولی بیماریوں کی وجہ سے زیادہ دوائیاں استعمال نہیں کرنی چاہئیںبلکہ قدرتی ذرائع پر انحصار کرکے تندرست ہونے کی کوشش کرنی چاہئے میں روزانہ کچھ دیر کے لئے زمین پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے اور اپنے تمام جسمانی اعضاء کو ڈھیلا چھوڑ کر آنکھیں بند کرکے بیٹھتی ہوں جس سے مجھے بہت سکون ملتا ہے اور کافی حد تک تندرست رہنے میں مدد ملتی ہے۔

جب میں نے پوچھا کہ مذہب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے یا آپ کس مذہب کے ساتھ منسلک ہیں ۔ جواب میں کہنے لگیںمیں ہر مذہب اور اس کے ماننے والوں کی دلی طور پر عزت کرتی ہوں لیکن ذاتی طور پر میرا کوئی مذہب نہیں ہے لیکن میں اس سچائی اور حقیقت سے انکار نہیں کرتی کہ کوئی ایسی غیبی سْپر پاور ضرور ہے جو اس کائینات کو چلا رہی ہے ورنہ اتنا بڑا کائینات کانظام بغیر کسی مالک کے کبھی کا درہم برہم ہوجاتا ہم اپنے روز مرہ میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی چیز جس کا کوئی وارث اور مالک نہ ہو وہ بہت جلد برباد ہوجاتی ہے

میرے اس سوال کے جواب میں کہ جرمنی کی سیاست اور سیاست دانوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ۔ تو کہنے لگیں جرمن سیاست دانوں میں میرے سب سے پسندیدہ سیاست دان سابقہ چانسلر ہلمٹ شمٹ تھے جو پچھلے دنوں وفات پا گئے انہوں نے جرمن قوم کے لئے بڑے بڑے اچھے کام کئے۔ اْن کے علاوہ ہر وہ سیاست دان اچھا ہے جو ملک، قوم ،اور دنیا کے لئے اچھے کام کرتا ہے ہر وہ سیاست دان جو دنیا کو جنگ سے بچانے اور امن قائم کرنے میں مددگا ر ثابت ہو وہ میرے لئے قابلِ احترام ہے اس کے علاوہ ایک اچھے سیاست دان میں یہ بھی خوبی ہونی چائیے کہ وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ خیر سگالی اور بھائی چارے کو فروغ دے اور ملکی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ وسعت دے

جب میں نے پوچھا کہ کوئی ایسی بات جس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہو یا اْس سے آپ اداس ہوجاتی ہوں تو کہنے لگیں کہ میں بھی اسی دنیا میں رہتی ہوں اور میرے خیال میں شائد کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جس کی زندگی میں دکھ تکلیفیں اور پریشانیاں نہ ہوں جب آپ کسی کے ساتھ دلی محبت کرتے ہیں اوراس کے لئے سب کچھ قربان کر رہے ہوتے ہیں ایسا شخص جب آپ سے بے وفائی کرے اور خاص طور پر جب آپ جوانی کی عمر کے آخر پر ہوں تو بہت تکلیف ہوتی ہے ایک جرمن عورت کے طور پر میرے لئے یہ سب بہت تکلیف دہ چیز ہے علاوہ ازیں ماں باپ کا رشتہ ایسا ہے جس کی محبت ہمیشہ میرے  ساتھ ساتھ رہتی ہے گو کہ اْن کو دنیا سے گئے پندرہ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے

میں نے سوال کیا کہ آج کل دنیا پھر تیزی کے ساتھ عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اس کے بارے میں ایک جرمن کے طور پر آ پ کیا کہیں گی ۔ جواب میں کہنے لگیں جنگ سے مجھے سخت نفرت ہے ہنستے اور کھیل کود میں مصروف ہونے کے علاوہ سکول جاتے بچے مجھے بہت پیارے لگتے ہیں میں چاہتی ہوں کہ ان بچوں پر کبھی بھی جنگ کا سایہ نہ پڑے جنگ بہت خطرناک اور تباہ کن ہوتی ہے اور اس تیسری عالمی جنگ کے بعد تو شائد کچھ بھی باقی نہ بچے ۔اس لئے مجھے جنگ کے نام سے ہی نفرت ہے کیونکہ ہم نے پہلے دو عالمی جنگیں دیکھی ہیں۔

اس کے علاوہ کوئی اور بات جو آپ کرنا چاہتی ہوں

کہنے لگیں انسان کو وسیع خیالات اور کھلے دل کا ہونا چاہئے دکھ دردپریشانیاں خواہ کتنی بھی ہوں ہمت نہیں ہارنی چاہئیے اور مسکرانے اور ہنسنے کی کوشش پھر بھی کرتے رہنا چاہئے کیونکہ اس سے دکھ درد اور غم کی شدت کم ہوتی رہتی ہے

آخری سوال کے طور پر میں یہ جاننا چاہوں گاکہ یہ جو آپ نے کہا کہ میں اکثرترکی میں کثرت سے چھٹیاں گذارنے کے لئے آتی ہوں اس کے متعلق جو آپ نے بتایا اس کے علاوہ کوئی اور خاص وجہ بھی ہو تو بتا دیں۔

کہنے لگیں ترکو ں کی مہمان نوازی اور غیر ملکیوں کے ساتھ حسن سلوک سے میں بہت متاثر ہوں بدلے میں میری بھی نیک تمنائیں اس ملک اور اس کے رہنے والوں کے ساتھ ہیں بلکہ ساری دنیا کے ساتھ بھی ۔

لنڈا فشر صاحبہ سے انٹرویو ختم ہوا تو مجھے خیال آیا کہ بنیادی طور پر ساری دنیا کے انسان ایک جیسے ہی ہیں خوشی میں ہنستے ہیں اور دکھ میں سب روتے ہیں اس لئے سچ تو یہی ہے ۔

کوئی آکھدا پھلاں دا دان سوہنا

بھریا تاریاں نال اسمان سوہنا

رب سوہنے دی ایس زمین اْتے

ہر شے تو ودھ انسان سوہنا

ءءء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *