غزل

خیرالدین اعظمؔ  ،علی گڑھ

جدا ہو سب سے کچھ ایسا جمال چاہتا ہے

یہ میرا جسم مجھی سے وصال چاہتا ہے

مجھے تو دے کے فقط چند روز اب مجھ سے

وہ میری عمر کے حصے کا سال چاہتا ہے

ہمارے گاؤں میں اب بھی قیمتی ماضی

تمہارا شہر تو ہر وقت حال چاہتا ہے

میں توڑ آیا خود اپنا حصار جسم تو اب

یہ میرا میں بھی الگ خدوخال چاہتا ہے

میں اب کے توڑنے آیا ہوں سارے قول و قسم

کہ تیرا عشق بہت دیکھ بھال چاہتا ہے

ءءء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *