غزل

طاہرہ زرتشت نازؔ

جو ساتھ ساتھ رہا ہر گھڑی دعاؤں میں
وہ شخص چھوڑ گیا ہم کو ابتلاؤں میں
کڑی تھی دھوپ غضب کی کہ پاؤں جلتے تھے
نہ مل سکاہمیں سایہ شجر کی چھاؤں میں
مرے وطن کی فضاؤں میں گھول کر بارود
“یہ زہر گھول گیا کون ان ہواؤں میں”
نہ چھوڑنا رہا ممکن نہ بھول جانا ہی
عجیب بیڑی پڑی ہے ہمارے پاؤں میں
کڑا ہے وقت سراسیمگی کا عالم ہے
لگا ہے گھٹنے مرا دم اب ان فضاؤں میں
عزیز تر ہے مجھے نازؔ بر گزیدہ شجر
لیا ہے گھیر جسے ملگجی گھٹاؤں نے
ءءء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *