درس القرآن

وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا وَّطَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْقَآئِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ۔ وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔
(سورۃ الحج آیت نمبر 27 – 28)
اور جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہ کعبہ کی جگہ بنائی (یہ کہتے ہوئے کہ) میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک وصاف رکھ۔ اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے وہ تیرے پاس پاپیادہ آئیں گے اور ہر ایسی سواری پر بھی جو لمبے سفر کی تکان سے دبلی ہو گئی ہو وہ (سواریاں اور چیزیں) ہر گہرے اور دور کے رستے سے آئیں گی ۔
تفسیر: اللہ تعالیٰ کا یہ تاکیدی حکم ہے کہ حجِ بیت اللہ کے لئے آنے والوں کو خانہ کعبہ تک پہنچنے سے ہرگز نہ روکو۔ اس کے معاً بعد بیت اللہ کا ذکر ہے اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جو تاکید فرمائی ہے اس کا ذکر ہے کہ میرے گھر کو ہمیشہ حج پر آنے والے اور اعتکاف کرنے والے کی خاطر پاک و صاف رکھو۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام کو جو یہ تاکید کی گئی یہ صرف آپ کی ذات کو نہیں بلکہ آپ کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کو قیامت تک کے لئے ہے۔
اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو حج کی غرض سے خانہ کعبہ آنے کے لئے ایک دعوتِ عام دو۔ اس کے بعد قربانیوں وغیرہ کا ذکر فرمایا گیا کہ وہ بھی خانہ کعبہ کی طرح شعائر اللہ میں داخل ہیں، اگر اُن کی بے حرمتی کرو گے تو گویا خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرو گے۔ لیکن خانہ کعبہ کی خاطر کی جانے والی ساری قربانیاں اس وقت قبول ہوں گی جب تقویٰ کے ساتھ کی جائیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ محض قربانی کرنے والوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
(قرآن کریم اردو ترجمہ صفحہ نمبر 559 حضرت مرزا طاہر احمد)
بیت اللہ کی تعمیر کے موقعہ پر حضرت ابراہیمؑ نے سات دعائیں کی ہیں۔
1۔ جب عمارت بنائی۔ باپ بیٹا مل کر دعا کرتے تھے۔ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ (بقرہ: 129) الہٰی ہمیں اپنا فرماں بردار بنالے۔
2۔ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ (بقرہ: 129) 3۔ وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَا۔ 4۔ وَتُبْ عَلَیْنَا (بقرہ: 129) پھر دعا کی۔ 5۔ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ۔ 6۔ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ 7۔ وَیُزَکِّیْہِمْ (بقرہ: 130)
کل بناء کعبہ میں سات دعائیں کی ہیں۔ا س واسطے مومن سات دفعہ وہاں طواف کرتا ہے اور یہ دعائیں کرتا ہے۔ اسی مقام کو ڈھونڈتا ہے جہاں یہ دعائیں قبول ہوئیں۔
(حوالہ حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 146)

حدیث
ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ والی آیت ہماری کتاب میں موجود ہوتی تو ہم اس آیت کے نزول کے دن کو اپنے لئے عید کا دن مقرر کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم تو ایک دن عید مناتے تھے لیکن ہمارے لئے تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی دو عیدیں جمع تھیں۔ ایک جمعہ کا دن تھا اور دوسرے حج کا دن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *