درس قرآن کریم

اَلتَّآىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۝

(سورة التوبہ آیت 112)

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (خدا کی راہ میں) سفر کرنے والے، (لِلہ)رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے، اور بُری باتوں سے روکنے والے ، اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے، (سب سچّے مومن ہیں) اور تُو مومنوں کو بشارت دیدے۔

تفسیر:

السَّآىِٕحُوْنَ : مومن دنیا میں اعلاء کلمة اللہ اور عبرت کے لئے پھرنے والا ہوتا ہے۔

الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ : علومِ حقّہ کو حاصل کرکے دوسروں کو تبلیغ کرتا ہے۔

: یہ غلط ہے کہ مستحقِ شفاعت گناہ گارانند۔ مومن وہ ہے جو خدا کی حدود کی محافظت کرے۔ ہاں گنہگار توبہ کرلے تو مستحقِ شفاعت ہوتا ہے۔

حدیث

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ! ایک دفعہ نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! سب سے زیادہ معزّز کون ہے؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا- وہ جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارا سوال اس کے متعلق نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا تو پھر یوسف جو خود بھی نبی تھےاور ان کے باپ دادا بھی۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا۔ یا رسول اللہ! ہمارا سوال اس کے متعلق بھی نہیں تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا تو کیا تم مجھ سے قبائل عرب کے متعلق دریافت کر رہے ہو۔ تو سنو ان میں سے جو جاہلیت میں معزّزتھا وہ اسلام میں بھی معزّز ہے بشرطیکہ اُسے تفقّہ فی الدین حاصل ہو۔

پیاری بات

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہےکہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو اُن میں سے اُٹھ گیا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔ مَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال:34)پس استغفار کرتے رہا کرو کہ پچھلی برائیوں کے بد نتائج سے بچے رہواور آئندہ بدیوں کے ارتکاب سے۔    (ارشادات نور جلد اوّل صفحہ 69)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *