صحت زبان

لاہور انٹرنیشنل نیوز ڈیسک

دفتري تحريروں ميں صحت زبان سے مراد قواعد کي چند بنيادي باتوں ، املا کے معياري طريقوں اور عبارت ميں مناسب رموز اوقاف کا استعمال ہے۔ اگرچہ مراسلت اور کيفيت نويسي بنيادي طور پر زبانداني کے جوہر دکھانے کے کام نہيں ليکن ان ميں قواعد کي غلطياں ہوں گي، املا کے طريقے غير معياري ہوں گے اور عبارت ميں مناسب وقفے اور سکتے استعمال نہ کيے گئے ہوں گے تو يقينا مفہوم غلط ہو سکتا ہے اور قاري اس سے بالکل ہي جداگانہ معاني اخذ کر سکتا ہے۔ اس ليے صحت زبان کي طرف توجہ دينا ضروري ہے۔

بنيادي قواعد

1۔ “آيا” کا استعمال “کيا” کي بجائے نہيں ہونا چاہيئے۔

مثلاً “آيا آپ نے مجھے طلب کيا ہے يا ميرے ٹائپ کار کو۔”

2۔ “کون” اور “کون سا” ميں فرق

مثلاً “يہ کون ہے؟” “يہ کون سا شہر ہے؟”

3۔ “کون” کا مکرر استعمال

“کون کون آئے گا” صحيح ہے اور

“کون کون سے آئيں گے۔” غلط ہے۔

4۔ “کن کو” استعمال صحيح ہے اور “کنھوں کو” غلط ہے۔

5۔ “اس ہي نے” کو مختصراً “اسي نے” لکھا جاتا ہے۔

6۔ “کچھ نے لکھا ہے” کي بجائے “بعض نے لکھا ہے” “(افراد کے لئے کچھ کي بجائے چند يا بعض کا لفظ آئے گا۔)”

7۔ “جون جون سے” غلط ہے۔ صحيح يوں ہے “جن سے”

8۔ “نہ” کا استعمال نفي کے اظہار کے ليے ہے۔ ليکن وہ نہ آيا ہو گا۔

صحيح “وہ نہيں آيا۔” اسي طرح “شور نہ کر” کي بجائے “شور نہيں کر” غلط ہوگا۔

9 ۔اگر جملے ميں دوبار نفي کي علامت ہو تو يہ صرف ايک بار استعمال ہو گي۔

مثلاً “نہ وہ آيا نہ آپ آئے” کي بجائے يوں لکھا جائے گا “وہ آيا نہ آپ آئے۔”

10۔ بعض زوايد روزمرہ استعمال ميں آ رہے ہيں، يہ غلط ہيں۔ مثلاً:

“درحقيقت ميں” اس ميں “در” اور “ميں” ميں سے ايک زايد ہے۔

“استفادہ حاصل کرنا” اس ميں “حاصل” زائد اور غلط ہے۔

“باہمي گفت و شنيد” اس ميں “باہمي” زائد ہے۔

“بالواسطہ طور پر” اس ميں طور پر زايد ہے۔

“براہ مہرباني کر کے” اس ميں “کر کے” زايد ہے۔

“سوچ و بچار” اس ميں “و” زائد ہے۔

11۔ بعض جملے روزمرہ کے لحاظ سے غلط ہوتے ہيں۔ مثلاً:

“دن بدن” روزمرہ کے خلاف ہے اسے روز بروز ہونا چاہيئے۔

“کرم نوازي” روزمرہ کے خلاف ہے اسے “کرم فرمائي” ہونا چاہيئے۔

“تقرري” روزمرہ کے خلاف ہے اسے “تقرر” ہونا چاہيئے۔

12۔ حروفِ عطف کا استعمال موزونيت کے لحاظ سے کيا جانا چاہيئے۔

“اور” کا استعمال دو مختلف کاموں کے لگاتار ہونے کے ليے ہوتا ہے۔

يہ اس صورت ميں ہو گا جب دوسرے جملے کو پہلے جملے کے حکم اور مفہوم ميں شريک کرنا مقصود ہو۔ مثلاً بيٹا گيا اور باپ آيا دو الگ الگ مفاہيم يا خبريں ہيں۔

اگر ايک سے زيادہ بار “اور” استعمال کرنا ہو تو صرف آخري جملے سے پہلے استعمال کيا جائے۔ باقي جملے سکتے کے ساتھ بيان ہوں۔ مثلاً:

“اکبر نے ديکھا (اور) اصغر نے اٹھايا (اور) ان کے باپ نے رکھ ديا۔ “

اسے يوں لکھيں گے۔

“اکبر نے ديکھا، اصغر نے اٹھايا اور ان کے باپ نے رکھ ديا۔”

“و” کا استعمال فارسي تراکيب ہي ميں موزوں رہتا ہے۔ بلاوجہ “اور” کے معاني ميں استعمال کرنا غلط ہے۔

“کر”، “کے” يہ دونوں کلمے صيغہ امر واحد حاضر کے بعد آتے ہيں اور ايسے موقع پر استعمال کيے جاتے ہيں۔ جہاں ايک فعل کے بعد دوسرے فعل کے عمل ميں لانے کا اظہار مقصود ہو “کر کے” دونوں ساتھ ساتھ بھي استعمال ہوتے ہيں۔

“پھر” يہ علامت بعد ميں کيے جانے والے کام کي ترتيب ظاہر کرتي ہے۔ “مثلاً اٹھا پھر چل ديا”

“يا” يہ کلمہ بات ميں تردد پيدا کرنے کے ليے استعمال ہوتا ہے ليکن ابتدائي کلام ميں نہيں آتا مثلاً:

“يا يہ لے لو يا وہ لے لو” غلط ہے۔

“يہ لے لو يا وہ لے لو” صحيح ہے۔

ابتدا ميں “يا تو” کا لفظ آتا ہے۔

“يا توآپ خاموش  رہيں يا پھر مجھے جانے ديں۔”

“خواہ” دو جملوں پر “يا” کے معني ميں جب ايک جملہ مثبت ہو اور ايک منفي ہو۔ مثلاً:

“خواہ سنو، خواہ نہ سنو۔”

“خواہ سنو يا نہ سنو” دونوں طرح درست ہے۔

“ليکن”، “مگر”، “البتہ”، “اگر”، “بلکہ”، “سو” يہ تمام استدراک کے کلمے ہيں۔ جو پہلے جملے کے ابہام کو رفع کرنے کے ليے لائے جاتے ہيں۔ پہلے جملے پر ان کا استعمال غلط ہے۔

13۔ “حروفِ شرط” مثلاً “جو، جب، چونکہ، تاوقتيکہ، باوجوديکہ، اگرچہ، گو، ورنہ، جونہي، اگر ، کے استعمال کے بعد دوسري بات پر جو ان کے بيان پر منحصر ہو مندرجہ ذيل “حروف جزا” استعمال ہوتے ہيں۔ “مگر” ليکن، لہذا، کہ، پھر بھي تو مثلاً:

(الف)   جو ڈھونڈے گا سو پائے گا۔

(ب)     جب ميں کہوں تب کام کرنا۔

(ج)     چونکہ آپ نے بلايا تھا، اس ليے چلا آيا۔

(د)       اگرچہ وقت تنگ تھا ليکن ميں نے کام پورا کر ليا۔

(ر)       اگر يہ کام نہ ہوا تو بھي ميں چلا آؤں گا۔

(س)     اگر خدا ہے تو ميري بھي سنے گا۔

(ص)    غلط کام کرنے ميں نقصان ہو گا، لہذا غلط کام نہ کرو۔

(ط)      وہ نہيں آيا کيو نکہ وہ بيمار تھا۔

14۔ جملوں ميں “نے”، “ہي” اور “کو” کا استعمال ان کے صحيح مقام پر کرنا چاہيئے۔ مثلاً:

“اس نے کہا تھا کہ وہ آئے گا۔”

“اسلم ہي نے يہ حرکت کي تھي۔”

“اسي کو يہ بات زيبا ہے۔”

“تم کو يہ کام کرنا پڑے گا۔”

املاکے اصول

دفتري زبان کو درست طور پر لکھنے کے ليے ضروري ہے کہ زبان کو لکھنے کا طريقہ يعني املا بھي درست ہو۔ مقتدرہ قومي زبان نے حال ہي ميں املا کے ليے چند اصول وضع کيے ہيں۔ انہيں ملحوظ خاطر رکھنا چاہيئے۔

1۔ وہ الفاظ جن کے آخر ميں “آ” کي آواز آتي ہے، الف سے لکھے جائيں۔ سوائے ان الفاظ کے جن کے کوائف لکھنے ميں التباس کا خطرہ ہو۔ مثلاً: تولہ، آنہ، سکہ وغيرہ۔

جو اسمائے خاص ہائے مختفي سے لکھے جا رہے ہيں، وہ بدستور لکھے جاتے رہيں۔ مثلاً ڈھاکہ، ڈسکہ، کوئٹہ۔

2۔ عربي کے جن الفاظ ميں الف مقصورہ آتا ہے، انہيں حسبِ ذيل صورتوں ميں برقرار رکھا جائے۔

اسمائے خاص۔ مثلاً عيسيٰ، موسيٰ، يحييٰ وغيرہ۔

اسمائے تانيث۔ کبريٰ، صغريٰ وغيرہ (اسمائے تانيث کبير کي جمع کبرا، صغير کي جمع صغرا سے التباس نہ ہو۔)

بعض الفاظ عربي ميں الف مقصورہ سے لکھے جاتے ہيں مگر اردو ميں الف سے رواج پا گئے ہيں۔ وہ اردو کے انداز ميں لکھے جائيں مثلاً:

مولا، مولانا، مصفا وغيرہ۔

3۔ عربي کے جن الفاظ کے آخر ميں ہمزہ آتا ہے۔ وہ بغير ہمزہ کے لکھے جائيں۔

مثلاً املا، انشا، اخفا، ابتدا وغيرہ

4۔ عربي کے جن الفاظ ميں الف کي آواز غير ملفوظ ہے، بدستور الف کے ساتھ لکھے جائيں۔ مثلاً بالمقابل، بالکل بالغرض وغيرہ۔

5۔ جو الفاظ امالہ قبول کرتے ہيں، انہيں بول چال کے مطابق “لے “ سے لکھا جائے مثلاً مزے دار، معاملے ميں، مسئلے کو، کوئٹے سے۔

6۔ مندرجہ ذيل الفاظ ميں ہمزہ لکھا جائے۔

(الف) چائے، گائے، (ب) آؤ، جاؤ ، (ج) تناؤ، جماؤ (د) گاؤں

7۔ مندرجہ ذيل الفاظ ميں ہمزہ نہ لکھا جائے۔ (کيونکہ ان ميں “ي” کي واضح آواز موجود ہے۔)

(الف)      ليجيے، پيجيے۔

(ب)       کيے، ليے (کئے، لئے نہ لکھا جائے)

البتہ گئے اور نئے ميں ہمزہ کي آواز ہے۔

8۔ کہنا، بہنا، سہنا کے افعال امر کہہ، سہہ وغيرہ کو کہني دار “ہ” سے لکھنا جائے گا مگر کہ اور جگہ وغيرہ ہائے مختفي ہي سے لکھے جائيں۔

9۔ دو چشمي “ھ” صرف مخلوط ہائيہ آوازوں کے ليے مخصوص رکھي جائے اور جہاں آواز الگ ظاہر ہو، وہاں دو چشمي کا استعمال نہ کيا جائے مثلاً لاہور کو لاھور اور دہن کو دھن نہ لکھا جائے۔

10۔ مندرجہ ذيل الفاظ کو “ذ” ہي سے لکھا جائے مثلاً:

ذرہ، ذرا، ذات، لذيذ وغيرہ

11۔ (الف) مرکب الفاظ کو مفرد کي صورت ميں الگ الگ نہيں بلکہ ملا کر لکھا جائے۔ بلکہ کو “بل کہ” اور چونکہ کو “چوں کہ” نہ لکھا جائے۔

(ب) “جائيں گے” اور “لاؤں گا” وغيرہ کو ملا کر نہ لکھا جائے۔

12۔ تنوين کے ليے مندرجہ ذيل صورتيں اختيار کي جائيں۔

(الف) جن عربي الفاظ کے آخر ميں گول “ة” آتي ہے، ان پر الف کا کا اضافہ کر کے تنوين لگائي جائے مثلاً فطرتاً، حقيقتاً، حکماً، جبراً، لازماً وغيرہ ميں تنوين کا مروج انداز جاري رہے گا۔

13۔ صحت تلفظ کے ليے تشديد (  ّ) کسر کي افافت (  ِ) اور نون غنہ کي علامتيں لازماً لکھي جائيں۔

14۔ انگريزي الفاظ کو چھوٹے ٹکڑوں ميں تقسيم کر کے لکھنا مستحسن ہو گا۔ ٹيلي ويژن يوني فارم وغيرہ۔

ان سفارشات کے علاوہ مندرجہ ذيل الفاظ کي املا کا خيال بھي رکھنا ضروري ہے۔

1۔ مندرجہ ذيل الفاظ کا صحيح املا قوسين ميں يوں ہے۔

اچنبھا (اچمبھا)، اژدہام (ازدحام)، بالمشافہہ (بالمشافہہ)، بارات (برات)،

بمع (مع)، برائے مہرباني (برائے مہرباني)، پائيندہ (پائندہ)، تشبيہہ (تشبيہ) ،

تقاضہ (تقاضا)، تمغہ (تمغا)، تنازعہ (تنازع)، دوئم (دوم)،

زايچہ (زائچہ)، سرگذشت (سرگزشت)، سقہ (سقا)، سوئم (سوم)،

عاشورہ (عاشورا)، گذارش (گزارش)، لايق (لائق)، متنازعہ (متنازع)،

مذبحہ (مذبح)، مربعہ (مربع)، معمہ (معما)، ناشتہ (ناشتا)

2۔ ہائے مختفي کے ساتھ بعض الفاظ غلط طور سے لکھے جاتے ہيں، ان کي املا يہ ہے۔

“گھنٹا، گيارا، راجا” وغيرہ درست ہيں۔

3۔ اردو کے بعض الفاظ کے آخر ميں الف ہے۔ وہ عربي، فارسي ہيں ليکن انھيں غلطي سے “ہ” کے ساتھ لکھ ديا جاتا ہے۔

اڈا، انگارا، انگوٹھا، اولا، باجا، بھرتا، بھروسا، بھوسا،

تانبا، تانگا، جوتا، چرخا، چھجا، دليا، ڈبا، ڈيرا، دوڑا، کوئلا،

گھونسا، لوٹا، ميلا، نخرا وغيرہ

4 ۔ بعض عربي فارسي الفاظ کے آخر ميں “ہ” نہيں ہے، وہاں بھي “ہ” لگا دي جاتي ہے۔ جوغلط ہے۔ مثلاً:

برقعہ (برقع)، پرواہ (پروا)، تقاضہ (تقاضا)، تماشہ (تماشا)

باجرہ (باجرا)، منافعہ (منافع)، موقعہ (موقع) وغيرہ

5 ۔ مندرجہ ذيل الفاظ کے آخر ميں دو “ہ” ہيں۔

شبہہ، قہقہہ، مشافہہ وغيرہ۔

6 ۔ مندرجہ ذيل الفاظ ميں “ژ” ہے “ز” نہيں۔

اژدھا، پژمردہ، ژالہ، مژدہ، نژاد وغيرہ۔

7۔ مندرجہ ذيل الفاظ “ز” سے ہيں “ذ” سے نہيں۔

آزر، زخار، زرا، زکريا، گزارا، گزر، گزشتہ، گزند وغيرہ۔

8۔ مندرجہ ذيل تراکيب ميں “بہ” ہے “ب” نہيں۔

بنظر (بہ نظر)، باآساني (بہ آساني)، بسہولت (بہ سہولت)

بصد ادب (بہ صد ادب)، حرف بحرف (حرف بہ حرف)،

لب بلب (لب بہ لب)

9۔ مندرجہ ذيل الفاظ ميں “ے” ہے، ہمزہ نہيں۔

آيندہ، شايد، شايستہ، مشايخ، مضايقہ، معاينہ، حمايت وغيرہ۔

10 ۔ مندرجہ ذيل الفاظ ميں ہمزہ ہے، “ے” نہيں۔

پائدار، تائب، جائز، حائل، خائف، خائن، دائر، رائگاں، زائچہ، زائر، عائد، عقائد، فائق، قائد، قائم، لائق، وقائع وغيرہ۔

11۔ مندرجہ ذيل الفاظ غلط لکھے جاتے ہيں۔ قوسين ميں ان کا صحيح املا ہے۔

آسامي (اسامي)، برخورداري (برخوردار)، بمع (مع)، تابع دار (تابع) تازي (تازہ)، ديہات (واحد “ديہہ”)، راشي (رشوت ؛لينے والا “مرتشي”)، عزيزدار (عزيز)، عيد الضحيٰ (عيد الاضحي)، فحش غلطي (فاش غلطي)، مشکور (ممنون)، موقعہ (موقع)، نقص امن (نقض امن)، نورِ چشمي (نورِ چشم)، واقف کار (واقف)

رموز اوقاف کا استعمال

1۔ ہر جملے کے اختتام پر ختمہ (۔) کا نشان لازم ہے۔ جب دو يا دو سے زيادہ کلمات اسما، افعال، صفات جملے وغيرہ پيش کيے جا رہے ہوں تو ان کے درميان وقف کي علامات ضروري ہيں۔ مثلاً:

“اکبر، انور، حميد اور اصغر نے مل کر يہ کام کيا۔”

اس جملے ميں چار افراد کے نام آئے ہيں۔ پہلے تين کے درميان سکتے (کومے) کي علامت اور آخري سے پہلے “اور” کا لفظ استعمال کيا گيا ہے۔ مولوي عبد الحق نے رموزِ اوقاف کے مندرجہ ذيل مواقع اور محل ٹھہرائے ہيں۔

سکتہ : (،)

اس کا استعمال ايسے ضمائر کے درميان جو ايک دوسرے کے بدل کا کام ديتے ہوں مثلاً:

“جہانگير، ابن اکبر، شہنشاہ ہندوستان نے جب………………. “

2۔ ايک ہي قسم کے کلمے کے ان تين يا تين سے زائد لفظوں کے درميان جو ساتھ ساتھ استعمال کيے گئے۔ اس حالت ميں پہلے دو کے درميان سکتہ اور آخري دو کے درميان حرف عطف يا حرف ترديدہو گا۔ مثلاً:

“حيدر آباد، ميسور اور ٹراونکور”

“حميد، اصغر يا اکبر نے يہ کام کيا ہو گا۔”

“اکبر بہت عقل مند، وسيع النظر، ہمدرد بادشاہ تھا۔”

3۔ ندائيہ لفظوں کے بعد جيسے:

(1) جنابِ صدر، خواتين و حضرات!

(2) جنابِ من، تسليم!!

4۔ دو يا دو سے زيادہ ايک ہي درجے کے جملوں کے درميان مثلاً:

(الف)  ميں گھر سے بازار گيا، بازار سے مدرسے آيا، اب مدرسے سے گھر واپس جاتا ہوں۔

(ب) نہ نو من تيل ہو، نہ رادھا ناچے گي۔

(ج) جس شخص نے مجھ سے، آپ سے کل باتيں کي تھيں۔

(د)   سارا زمانہ آيا، پر وہ نہ آيا۔

5۔ جب کوئي حجاب درپيش ہو ۔ مثلاً:

————

يا وہ جلي حروف ميں ہوتي ہے۔

(ب) نذير احمد کي سب سے عام پسند کتاب، مراة العروس ہے۔

6۔ تعقيد کے اظہار کے ليے مثلا:

1۔   ديوار، بار منتِ مزدور سے، ہے خم۔

2۔   صدر نے، جو بہت مصروف تھے، مجھے وقت ديا۔

رموز اوقاف کي ديگر علامتيں دفتري اردو ميں بہت کم استعمال ميں آتي ہيں تا ہم انہيں بھي درج کرنا ضروري ہے:۔

1۔ جب سکتے سے زيادہ ٹھہراؤ کي ضرورت ہو يا جملوں کے لمبے لمبے اجزا جو ايک سے معاني دے رہے ہوں تو انہيں عليحدہ کرنے کے ليے وقفہ (؛) کا نشان ضروري ہوتا ہے۔

2۔ جب کسي تشريح يا تصديق کي ضرورت ہو تو رابطہ (:) کي علامت استعمال کي جاتي ہے۔ مثلاً:

سچ ہے:

1۔ گيا وقت پھر ہاتھ آتا نہيں۔

2۔ اپنا کيا ہي سامنے آتا ہے۔

3۔ جب طويل اقتباس يا تشريحات ہوں تو تفصيليہ (:۔) کي ضرورت پيش آتي ہے۔

4۔ واوين (’’    ‘‘) کي علامت ہميشہ کسي اقتباس يا قول کے آغاز اور اختتام پر لگاني چاہيئے۔ کتاب يا رسالے کا نام بھي اکثر واوين ميں دے ديا جاتا ہے۔

5۔ فجائيہ يا ندائيہ (!) کي علامت جذبے اور طلب کے اظہار کے ليے لگائي جاتي ہے۔

6۔ سواليہ (؟) کي علامت سواليہ جملے کے آخر ميں لکھي جاتي ہے۔

7۔ قوسين () کي علامت جملہ معترضہ سے پہلے اور آخر ميں لگائي جاتي ہے۔

(حوالہ دفتري اُردو ورکشاپ حصہ سوم مقتدرہ قومي زبان اسلام آباد)

ءءء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *