پانچ بڑے عالمي مالياتي بحران

تحرير : رضوان عطا

عالمي تاريخ ميں يکے بعد ديگرے کئي مالياتي بحران آئے۔ ان ميں سے بيشتر مختصر اور کم شديد تھے جن کا اثر وسيع پيمانے پر محسوس نہيں کيا گيا۔ ليکن بعض کے اثرات پورے براعظم يا دنيا بھر ميں ہوئے۔ ان کے نتيجے ميں بے روزگاري اور مہنگائي بڑھي اور لوگوں کي ايک بڑي تعدادکو ضروريات زندگي پوري کرنے ميں مشکلات پيش آئيں۔ ذيل ميں پانچ سب سے تباہ کن مالياتي و معاشي بحرانوں کو مختصراً بيان کيا گيا ہے۔

قرضوں کا بحران، 1772ء

1772ء سے قبل کي دہائيوں ميں برطانيہ نوآباديوں ميں اپني جڑيں خاصي مضبوط کر چکا تھا۔ سلطنتِ برطانيہ مشرق سے ويسٹ انڈيز اور شمالي امريکا تک پھيلي چکي تھي۔ برطانيہ اور نوآباديوں کے درميان بڑے پيمانے پر مختلف اجناس اور بنيادي ضروريات کي اشيا کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ ليکن امريکي نوآباديوں ميں سرمايے کي کمي کي وجہ سے، ان کا برطانوي قرض دہندگان پر بہت زيادہ انحصار تھا، تاکہ آسان شرائط پر قرض مل سکے۔ دوسري طرف سلطنتِ برطانيہ نوآباديوں اور تجارت سے بہت زيادہ دولت اکٹھي کر چکي تھي۔ اس سے بہت زيادہ اميديں پيدا ہوئيں اور برطانوي بينکوں نے دل کھول کر قرض فراہم کيے۔

يہ تيزي جون 1772ء کو اختتام کو پہنچي جب لندن کے دو بينکوں زوال پذير ہوئے اور اس کے اثرات دوسرے بينکوں اور قرض دہندگان تک پہنچے۔ آٹھ جون 1772ء کو اليگزينڈر فورڈائس کا فرار اس کا نکتۂ آغاز مانا جاتا ہے۔ قرض کي ادائيگي سے بچنے کے ليے وہ فرانس بھاگ نکلا۔ وہ لندن ميں قائم بينک ‘‘نيل، جيمز، فورڈائس اينڈ ڈاؤن’’ ميں شراکت دار تھا۔ فرار کي خبرپھيلتے ہي برطانيہ کے بينک ہيجاني کيفيت کا شکار ہو گئے۔

يہ بحران سکاٹ لينڈ، نيدرلينڈز اور پھر يورپ کے دوسرے حصوں ميں پھيلتا ہوا امريکي نوآباديوں تک پہنچ گيا۔ يہ دورِ امن کا بحران تھا۔ بہت سے تجزيہ نگاروں کے مطابق ‘‘امريکي انقلاب’’، جو برطانيہ سے امريکا کي آزادي پر منتج ہوا،کا ايک اہم سبب يہي مالياتي بحران تھا۔

عالمي کساد بازاري، 1929-39ء

يہ بيسويں صدي کا سب سے بڑا مالياتي اور معاشي بحران تھا۔ بہت سے لوگوں کا خيال ہے کہ اس عالمي کساد بازاري کا آغاز 1929ء ميں وال سٹريٹ کے دھڑن تختہ سے ہوا اور بعدازاں امريکي حکومت کے غلط فيصلوں نے اسے مزيد بڑھا ديا۔ يہ کساد بازاري تقريباً 10 برس جاري رہي جس کے نتيجے ميں لوگوں کي آمدني پر بہت زيادہ منفي اثر پڑا، بے روزگاري ميں ريکارڈ اضافہ ہوا، اور بالخصوص صنعتي ممالک ميں پيداوار کم ہو گئي۔ اس کے اثرات سے شايد ہي کوئي شعبہ بچ پايا ہو، صنعت، زراعت، انفراسٹرکچر، شپنگ، کان کني، تعميرات سب متاثر ہوئے۔ رياست ہائے متحدہ امريکا ميں بے روزگاري کي شرح 1933 ء ميں کم و بيش 25 فيصد ہو گئي۔

تيل کي قيمتوں کا بحران، 1973ء

1973ء ميں اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب تيل برآمدکرنے والے ممالک کي تنظيم اوپيک (آرگنائزيشن آف دي پيٹروليم ايکسپورٹنگ کنٹريز)، جن ميں عرب ممالک اہم تھے، نے رياست ہائے متحدہ امريکا کے خلاف قدم اٹھانے کا فيصلہ کيا۔ ان کے ردِعمل کا سبب چوتھي عرب اسرائيل جنگ ميں اسرائيل کو اسلحے کي فراہمي تھي۔ اوپيک ممالک نے امريکا اور اس کے اتحاديوں کو تيل کي فراہمي روک دي۔ اس سے تيل کي بہت زيادہ قلت پيدا ہو گئي اور اس کي قيمتيں آسمان سے باتيں کرنے لگيں۔ خام تيل کي قيمت، جو تين ڈالر في بيرل تھي، 1974ء ميں 12 ڈالر في بيرل ہو گئي۔ نتيجتاً امريکا اور بہت سے ديگر ترقي يافتہ ممالک ميں بحران پيدا ہو گيا۔ اس بحران ميں افراطِ زر کي شرح بہت زيادہ بڑھ گئي اور معيشت جامد ہو گئي۔ کئي برسوں کے بعد افراطِ زر اور پيداوار پچھلي سطح پر آئے۔ اس بحران کے دوران جاپان کي وہ گاڑياں جو کم تيل استعمال کرتي تھيں مقبول ہوئيں۔

ايشيائي بحران،1997ء

چند دہائياں قبل ‘‘ايشيائي ٹائيگرز’’ کي اصطلاح چار ترقي يافتہ معيشتوں ہانگ کانگ، سنگاپور، جنوبي کوريا اور تائيوان کے ليے بہت زيادہ استعمال ہوتي تھي۔ ان کے علاوہ 1990ء کي دہائي ميں مشرقي ايشيا کے ممالک تھائي لينڈ، انڈونيشيا اور ملائيشيا تيزي سے ترقي کر رہے تھے۔ اس دوران قليل المدت بيروني قرضوں پر حد سے زيادہ انحصارکيا گيا اور قرضوں ميں بے تحاشہ اضافہ ہو گيا جس سے بالآخر بحران پيدا ہو گيا۔ اس بحران کي ابتدا 1997ء ميں تھائي لينڈ سے ہوئي اور پھر يہ پورے مشرقي ايشيا اور ان کے تجارتي شراکت داروں تک پھيل گيا۔ اس بحران کو بڑھانے والے ديگر عوامل ميں رئيل سٹيٹ ميں بہت زيادہ سرمايہ کاري اور مختلف طرح کي سٹہ بازي تھي۔ عالمي مالياتي فنڈ نے اسے مينجمنٹ اور ادائيگيوں کا عدم توازن قرار ديا جسے درست تسليم نہيں کيا جاتا۔ اس نے جو ‘‘حل’’ تجويز کيے ان ميں غير ملکي قرضوں کي ادائيگي کے ليے بندوبست اور سٹرکچرل ايڈجسٹمنٹ پاليسيوں کا نفاذشامل تھے جن کے منفي اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے تھائي لينڈ ميں بے روزگاري تين فيصد سے بڑھ کر 10 فيصد ہو گئي اور مجموعي قومي پيداوار ميں ايک سال کے اندر 15 فيصد کمي واقع ہوئي۔ اس بحران سے نکلنے ميں کئي برس لگے۔

مالياتي بحران، 2007-2008ء

يہ دورِ حاضر کا سب سے شديد بحران تھا۔ اس نے پوري دنيا کے بينکنگ اور مالياتي نظام کو ہلا کر رکھ ديا۔ اسے عالمي کساد بازاري کے بعد سب سے بڑا بحران مانا جاتا ہے۔ اس کي ابتدا امريکا ميں ہاؤسنگ کے بحران سے شروع ہوئي جب ‘‘لہمين برادرز’’ ديواليہ ہوا۔ اس کا شمار سرمايہ کاري کرنے والے بڑے عالمي بينکوں ميں ہوتا تھا۔ يہ اپنے ساتھ کئي مالياتي اداروں اور کاروباروں کو لے ڈوبا يا انہيں شديد بحران ميں مبتلا کر ديا۔ اس سے لوگوں کي آمدن ميں اربوں روپے کي کمي ہوئي اور کروڑوں افراد کي ملازمتيں متاثر ہوئيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *