خوش رہيں، خوشي پھيلائيں، مثبت سوچ اپنائيں

تحرير: فاروق احمد انصاري

کہتے ہيں کہ اگر آپ خوش نہيں ہيں تو خوش رہنے کي کوشش کريں، اس کا صحت پر بہت اچھا اثر پڑتاہے۔ بعض اوقات دوسروں کو خوشي پہنچانے سے بھي خوشي ملتي ہے، آپ کے اندر ايک طمانيت اترتي ہے اور آپ کو احساس ہوتا ہےکہ آپ کي پريشانياں دور بھاگ گئي ہيں اورلاحق فکريں ماند پڑ گئي ہيں۔

نہ تو ہم ہميشہ خوش رہ سکتے ہيں، نہ ہي يہ ضروري ہےکيونکہ دکھ درد اور غم و الم بھي اتنے ہي حقيقي ہيں جتني کہ خوشي۔ ايک عام انسان خوش بھي ہوتا ہے اور ناخوش بھي، ہنستا بھي ہےاور روتا بھي، کبھي پريشاني ميں رات بھر جاگتا بھي ہے اور کبھي بے فکري کي چادر تان کر سوتا بھي۔ جب ہميشہ خوش نہيں رہا جا سکتا تو ہميشہ پريشان کيوں رہا جائے؟

اگر پريشاني کے اسباب موجود ہيں تو خوش رہنے کي وجوہات بھي تلاش کي جا سکتي ہيں۔ اگر تلخ جملوں کو سوچ کر کُڑھا جا سکتا ہے، تو ميٹھے بولوں کو ياد کرکے پھولا بھي جا سکتا ہے۔ اگر ناکاميوں کا دکھڑا سنايا جا سکتا ہے، تو کاميابيوں کي شيخي بھي بگھاري جاسکتي ہے۔ اگر ہر روز گئے دن پر غمگين رہا جا سکتا ہے، تو آنے والے کل کا جشن بھي منايا جاسکتا ہے۔ سچ تو يہ ہے کہ اگر بنا کوشش کيے ناخوش ہوا جا سکتا ہے، تو کوشش کرکے خوش بھي رہا جاسکتا ہے۔

کوشش کيا ہے؟ خوشي کے ليے کوشش کرنا بظاہر احمقانہ سي بات لگتي ہے ليکن صرف تب تک جب تک يہ کوشش کي نہ جائے۔ روتے ہوئے بچے کو ہنسا ديا جائے، راہ گير کو رستہ دکھا ديا جائے، کسي سے کچھ کہہ ليا جائے يا کسي سے کچھ سن ليا جائےاور جو ناراض ہيں انھيں منا ليا جائے، يہ سب ايک کوشش کے نتيجے ميں ممکن ہے۔

امريکا کي ييل يونيورسٹي ميں علم نفسيات اور علم ادراک کي پروفيسر لوري سينٹوس کا کہنا ہے کہ سائنس نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ ‘خوش رہنے کے ليے دانستہ کوشش کرنے کي ضرورت ہے۔ييل يونيورسٹي کي316سالہ تاريخ ميں ان کي کلاس سب سے زيادہ مقبول ہے۔ ان کے پاس 1200 طلبہ ہيں اور انھوں نے حال ہي ميں يونيورسٹي کے کسي بھي کورس ميں داخلے کا ريکارڈ توڑا ہے۔ ان کا کورس مثبت علم نفسيات کے اصول پر مبني ہے۔ يہ علم نفسيات کي وہ شاخ ہے، جس ميں خوشي اور عادات و اطوار ميں تبديلي کا مطالعہ کيا جاتا ہے۔

پروفيسر سينٹوس کہتي ہيں کہ ‘خوش رہنا يونہي نہيں آتا، اس کے ليے آپ کو مشق کرني ہوتي ہے۔ ٹھيک ويسے ہي جيسے موسيقار اور ايتھليٹ اپنے آپ کو بہتر کرنے اور کامياب ہونے کے ليے مسلسل رياض اور مشق کرتے ہيں۔ ہفتے ميں دو دن پروفيسر سينٹوس اپنے طلبہ کو خوش رہنے کے بارے ميں تعليم ديتي ہيں۔جس کا لب لباب ذيل ميں درج ہے۔

٭   شکر اور احسان مندي کي ايک فہرست بنائيں

٭   زيادہ اور بہتر طريقے سے نيند ليں

٭   روزانہ 10منٹ مراقبہ کريں

٭   زيادہ وقت اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ گزاريں

٭   موبائل پر سماجي رابطوں ميں کمي جبکہ حقيقي روابط کو بڑھائيں

اس پر مزيد بات کريں تو ہم مزيد کچھ مشوروں پر عمل کرسکتے ہيں، جو خوش رہنے والے لوگوں نے بتائے ہيں۔

لينے کےبجائے دينا سيکھيں

عام طور پر يہي سمجھا جاتا ہے کہ اپني فالتو چيزيں دوسروں کو دينے والا نقصان ميں رہتاہے اورچيزيں حاصل کرنے والے کو فائدہ ہوتا ہے جبکہ سماجي و نفسياتي سائنسدانوں نے بتايا ہے کہ اس کا فائدہ دينے والے کو بھي ہوتا ہے۔ اگرغور کيا جائے تو يہ بات واضح ہوجاتي ہے کہ معاشرے کے ستائے ہوئے لوگوں کي مدد کرنے کا عمل حقيقت ميں مدد کرنے والے کيلئے زيادہ فائدہ بخش ہوتا ہے، جو لوگ خوش رہتے ہيں وہ اس حقيقت سے آگاہ ہوتے ہيں۔

دوسروں کي باتوں کا اثر نہ ليں

دوسرے لوگوں کے ڈراموں سے دور رہيے اور خود بھي کوئي ڈرامہ مت کيجئے۔ اپنے بارے ميں دوسرے لوگوں کي کہي ہوئي فضول باتوں پر بالکل بھي توجہ نہ ديں۔ لوگوں کي باتيں سن کر صرف مسکرائيں اور ان سے دور ہوکر اپنے راستے پر چلتے رہيں۔

رشتے اور تعلقات استواريں

جن لوگوں کے پانچ يا اس سے زيادہ ايسے دوست ہوں، جن کے ساتھ وہ اپنے اہم مسائل پر گفتگو کرسکتے ہيں، وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے ميں60فيصد زيادہ خوش پائے جاتے ہيں۔

خود سے بھي محبت کريں

کسي اور کي چاہت ميں خود سے محبت کرنا نہ چھوڑيں۔ خوش رہنے والے لوگ جانتے ہيں کہ اپنے آپ سے محبت کرنا خود غرضي نہيں، اگر آپ دوسروں کي مدد اس طرح کريں کہ اپنا خيال بھي رکھيں، تو آپ دوسروں پر اپني حقيقي شخصيت بھي ظاہر کرسکيں گے اور ہر وقت خوش بھي رہ سکيں گے۔

مايوسي سے بچيں

خوش رہنے والوںميں سب سے اچھي صلاحيت يہ ہوتي ہے کہ وہ اپني اميد پرستي خود تخليق کرسکتے ہيں۔ صورتحال جتني بھي زيادہ نااميدي پيدا کرنے والي ہو، مسائل سہنے والا انسان اس صورت ميں بھي اميد پرستي اپنانے کا طريقہ کھوج نکالتا ہے۔ ايسے لوگ ناکام بھي ہوں تو ناکامي کو ايک موقع سمجھتے ہوئے ترقي کرنے اور زندگي سے ايک نيا سبق سيکھنے کي کوشش کرتے ہيں۔

مشکلات کو قبول کيجئے

جدوجہد، کوشش اور کاوش ترقي کا ثبوت ہے۔ ہميشہ خوش رہنے والے لوگ اس اصول کے مطابق زندگي بسر کرتے ہيں۔ ايسے لوگ غير معمولي قوت اور حوصلے کے حامل ہوتے ہيں اور انہيں پوري طرح استعمال کرتے ہيں۔ وہ سيکھتے ہيں، چاہے يہ عمل ان کے لئے تکليف دہ ہي کيوں نہ ہو۔

چھوٹي چھوٹي خوشيوں سے لطف اُٹھائيں

آپ غور کريں تو آپ کو ہر جگہ چھوٹي چھوٹي خوشياں دکھائي ديں گي۔ جب ہم خوشياں دينے والے کسي لمحے کو نظر انداز کرتے ہيں تو اس لمحے کو اس کے جادو سے محروم کرديتے ہيں۔ اگر ہم زندگي کي سادہ چيزوں سے مکمل طور پر لطف اندوز نہيں ہوں گے تو ان سے حاصل ہونے والے فوائد سے خود کو محروم کرليں گے۔

ءءء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *