کارکردگي بڑھانے کے 6 سائنسي طريقے

تحرير : پروفيسر ضيا ء زرناب

کسي بھي فرد کي ذاتي اور عملي زندگي ميں کاميابي کي بنياد اُس کي مسائل کو حل کرنے کي صلاحيت،مجموعي ذہانت، اعليٰ فيصلہ کرنے کي طاقت اور کارکردگي پر ہوتي ہے۔ دنيا بھر ميں ادارے چاہے تعليمي ہوں يا صنعتي ، اِن ميں کاميابي اور ترقي ميں سب سے اہم کردار فرد کي کارکردگي کا ہوتا ہے۔

زيادہ کام کرنے کي کوشش ميں انسان ڈپريشن کا شکار ہو سکتا ہے

کيونکہ فرد کي اعليٰ پيداواريت اور کارکردگي پر ہي اداروں اور اقوام کي ترقي کا انحصار ہوتا ہے۔ ترقي يافتہ ممالک ميںلوگوں کي انفرادي اور اجتماعي کارکردگي ترقي پذير ملکوں کي نسبت بہت زيادہ ہوتي ہے۔ وہاں لوگ کسي بھي بيروني دبائو يا لالچ کي بجائے اپني خوشي اور آزادي سے اپنے تعليمي اور صنعتي اداروں ميں اعليٰ ترين کارکردگي کا مظاہرہ کرتے ہيں جس سے نہ صرف ان کي پيشہ وارانہ صلاحيت ميں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کا براہِ راست مثبت اثر ان کے اداروںکي مجموعي کارکردگي پر بھي ہوتا ہے۔ عام اوراوسط درجہ کے لوگ ہر جگہ صرف کام مکمل کرنے کو ہي بڑي کاميابي تصور کرتے ہيں جب کہ کسي بھي ميدان ميں ماہر اور پروفيشنل لوگ مقررہ کام مکمل کرنے کے بعد بھي نہ صرف مزيد کاموں کو پايہ تکميل تک پہنچانے ہيں بلکہ اپني مہارت اور ہنر کو بھي دوسروں کو منتقل کرتے ہيں۔انہيں اپنے قابل اور اہل جانشين پيدا کرنے سے ڈر نہيں لگتا۔

اوسط درجہ کے لوگوں ميں يہ خوف بہت زيادہ ہوتا ہے کہ اپني مہارت کو دوسروں کے ساتھ باٹنے يا منتقل کرنے سے اُن کي ملازمت يا کاروبار کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ مگر دوسري جانب پروفيشنل لوگوں کو اپني ذات اور حاصل کردہ علم و ہنر پر بھروسہ ہوتا ہے کہ مارکيٹ کے حالات ميں خواہ کتني بھي تبديلي آجائے وُہ اپنے آپ کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کر کے ہر ميدان ميں اپني کاميابي کو يقيني بنا ليں گے۔ ان کو خود پر يہ اعتماد ان کي اوسط لوگوں سے بہتر پر فارمنس اور کارکردگي کي بدولت عطا ہوتا ہے۔ ياد رکھيں اگر آپ اپنے کاموں سے کچھ زيادہ کرنے کے ہر وقت خواہشمند رہتے ہيں اور اس کے لئے درکار مہارتيں اور ہنر سيکھتے رہتے ہيں تو آپ کو اس بات پر سو في صد يقين ہونا چاہيے کہ چاہے جاب يعني   ملازمتوں کي کتني بھي کمي ہو اور بے روزگاري جتني بھي بڑھ جائے آپ کي شاندار جاب اور اعليٰ کيرئير کو کبھي بھي کوئي خطرہ نہيں ہو گا۔

مقاصد کو طے کرنے کے بعد اپني حکمت ِ عملي اورصلاحيت سے ان کے حصول کو تيزي سے ممکن بنانے کو ہي تو کسي فرد کي کارکردگي گردانا جاتا ہے۔ اکثر لوگوں کا دن رات يہ رونا ہوتا ہے کہ مارکيٹ ميں ملازمتيں نہيں ملتيں مگر ملٹي نيشنلائز اور نيشنل کمپنيوں ميںسينکڑوں کلائنٹس جو ہيومن ريسورس يعني انساني ذرائع کے شعبہ ميں ماہر ہيں کا شکوہ يہ ہے کہ اُنہيں ايسے ماہر اور قابل لوگ نہيں ملتے جو اعليٰ کارکردگي دکھانے کي ذمہ داري لے سکيں۔ موجودہ دور ميں تو مقابلے کي دنيا ميں ہر جگہ مار دينے والے مقابلے نے فرد پر کر دکھانے کا بوجھ بہت بڑ ھا ديا ہے۔ تعليمي ميدان ميں طلباء سے اعليٰ نتائج کي توقع کي جاتي ہے۔صنعتي ميدان ميں ہر منيجر اور منتظم کي اعليٰ کارکردگي کو ہي ترقي کي بنياد بنايا جاتا ہے۔کھيل کے ميدانوں ميں نئے نئے ريکارڈ بنائے جا رہے ہيں۔ جو ہر انسان سے جو زندگي ميں کچھ کر دکھانا چاہتا ہے کہ وُہ اپني کارکردگي ميں اضافي کرے، ايک معيار مقرر کررہے ہيں ۔يوں ہم پر يہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم موجودہ معيار اور مقدار کو اس سے اگلے درجے پر لے جائيں ۔اسي کا نام تو کارکردگي ہے۔ انساني ترقي کي بنياد ميں بھي يہي جذبہ اور عمل پوشيدہ ہے۔

يعني اگر آج فرد کو کسي بھي ميدان ِ عمل ميں کامياب ہونا ہے تو اُس ميں کارکردگي دکھائے بناء کوئي گذارہ نہيں ہے۔ بلکہ اگر يہ کہا جائے کہ تواتر کے ساتھ جاري رکھ پانا بھي محال ہے تو بے جا نہ ہو گا۔اس کا سادہ سا مطلب يہ ہے کہ اب انسان پر نفسياتي دبائو بہت بڑھ گيا ہے کہ وُہ جلدي زيادہ کر کے دکھائے۔ پھر فرد تشويش ، ڈپريشن اور سٹريس کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروري ہے کہ کارکردگي کي سائنس کو جانا جائے اور اپني کارکردگي ميں فوري بہتري لا کر اپنے آپ کو نہ صرف ان ذہني بيماريوں سے بچايا جاسکتا ہے بلکہ دوسروں کو اپني کارکردگي سے حيران کر کے اندروني اطمينان و سکون بھي حاصل کر سکتا ہے۔

کارکردگي بڑھانے کيلئے مندرجہ ذيل چھ سائنسي تحقيق و طريقے پر مبني اصولوںخيال رکھنا بہت ضروري ہے تاکہ فرد نہ صرف ذہني طور پر بھي صحت مندزندگي گذار سکے بلکہ اِس کي کارکردگي ميں بھي فوري مگر ديرپا اضافہ ہوتا ہے۔

کارکردگي کا پہلا اصول منظم ہونا ہے: وقت کي پابندي کرنا اوراپنے آپ کو دن بھر کي مصروفيات کو ايک خاص نظام الاوقات کا پابند بنالينا جہاں زندگي کو کچھ مشيني سا بنا ديتا ہے وہاں فرد کي کارکردگي اور پيداواريت ميں بے پناہ اضافہ کر ديتا ہے مگر شرط يہ ہے کہ فرد نہ صرف اپنے مقاصد کو طے کر چکا ہو بلکہ وُہ ان کے حصول کے لئے پوري قوت سے آمادہ بھي ہو۔اس سلسلے ميں اُس نے اپني مصروفيات ميں ان مقاصد کو پہلي ترجيح دے رکھي ہو۔ منظم کوشش جس ميں استقلال اور استقامت ہو فرد کو کامياب بنانے ميں پہلا قدم ثابت ہوتي ہے۔ کامياب لوگوں کا وطيرہ ہے کہ وُہ اپنے کاموں ، مقاصد اور ترجيحات کو مقررہ وقت سے بہت پہلے ہي طے کر ليتے ہيں اورپھر سختي سے ان کے حصول کے لئے اپنے نظام الاوقات پر کاربند رہتے ہيں جس کي وجہ سے ان کي کارکردگي اور پيداواريت دوسروں سے بہتر ہو جاتي ہے۔

کارکردگي کادوسرا اصول آہستہ مگر لگاتار کوشش کرناہے: اگر آپ اپنے جسم ميں کثرت کر کے اسے خوبصورت ورزشي جسم ميں ڈھالنا چاہتے ہيں تو پھر يہ ياد رکھيں کہ يہ مقصد ايک دن ميں حاصل نہيں ہو سکتا ۔اس کے لئے بعض اوقات مہينوں اور اکثر اوقات سالوں تک اپنے آپ کو جم ميں يا کسي کھيل کے ميدان ميں جا کر سخت ٹريننگ اور مشق کا عادي بنانا پڑتا ہے۔ اگر آپ جسم پر اپنے اس کي استطاعت سے زيادہ بوجھ ڈاليں گے تو يہ برداشت نہ کر پائے گا۔ آہستہ آہستہ وزن اٹھانے کي صلاحيت بڑھانے سے آپ کے جسم کے مسل يعني پٹھے بننے لگيں گے۔ کام، آرام اور انعام کے اصول پر چلنے يعني پہلے مشقت ، پھر تھوڑا سا سکون اور اپنے آپ کو تحريک دينے سے ہي بڑي منزلوں کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ذہني طور پر مضبوط بننے کا عمل بھي بعين اسي طرح طے ہوتا ہے۔

ايک غلط العام خيال يہ ہے کہ آپ زيادہ وقت کام کريں گے تو کارکردگي ميں خودبخود اضافہ ہو جائے گا۔ مگر ايسا ہرگز نہيں ہے۔ دفتروں ميں گھنٹوںليٹ اوقات ميں بيٹھے رہنا آج کل کے دور ميں محنتي نہيں بلکہ نا اہل ہونے کي دليل سمجھا جاتا ہے۔ واضح مقاصد اور پھر اس کے لئے ترجيحا ت کا تعين کر کے فوري نتائج لانا ہي کاميابي کي بنياد بنتا ہے۔ اس کے لئے ضروري ہے کہ آپ کو نہ صرف اپنے وقت کي قدر اور تنظيم کرنا آتي ہو بلکہ آپ اپني توانائي کو بھي اچھے طريقے سے منظم کرنا جانتے ہوں ۔ عملي زندگي ميں بھي يہي ديکھا گيا ہے کہ سُست رفتار مگر يکسو کچھوے منتشر سوچوں کے ما لک تيز رفتار خرگوشوں کو ہرا ديتے ہيں۔

کارکردگي کا تيسراا صول دخل اندازيوں سے بچناہے: يہ کوئي راز نہيں ہے کہ يکسوئي اور ارتکازِ توجہ کي بدولت کارکردگي ميں فوري اور ديرپا اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ علم ِ نفسيات ميں سائنسي طور پر يہ ثابت شدہ بات ہے کہ جو لوگ کام کے وقت کسي بھي قسم کے لالچ اورکشش سے اپني ذات کو اُوپراٹھانے ميں کامياب ہو جاتے ہيں جس کي وجہ سے ان کے لئے کام پر کامل توجہ دينا چنداں مشکل نہيں رہتا۔اس سلسلے ميں 1970کي دہائي ميں کي گئي ٹافيوں پر کي گئي ايک تحقيق اہم ہے۔ جسے امريکہ کے مشہور سٹين فورڈ يونيورسٹي ميں والٹر مشيل نے کيا تھا۔

اس ميں انہوں نے 32بچوں کا اپني ذات پر کنٹرول اور اپني خواہشات کي تکميل کرتے ہوئے فوري تسکين يا اسے روک لينے کا سائنسي مطالعہ کيا تھا۔اُنہوں نے بچوں کے سامنے ٹافياں رکھ ديں اور انہيں بتايا کہ اگر وُہ اُسے فوراً کھا ليںگے تو انہيں کوئي انعام نہيں ملے گا مگر اگر وُہ 15منٹ تک اپني اسے کھانے کي خواہش کو روک ليں گے تو انہيں ايک اور بسکٹ بطور انعام ملے گا ۔جن بچوں نے محقق کے جاتے ہي ٹافي کھا لي تھي ايسے بچے عملي زندگي ميں کچھ بڑا نہ کر سکے کيونکہ وُہ اپني پڑھائي اور کام پر بھي توجہ نہ دے سکے اور کسي بھي بيروني دخل اندزي پر فوري طور پر اپنے کام چھوڑ کر فوري تسکين کي راہ پر چل پڑتے تھے۔ مگر جن بچوں نے ٹافي بھلا کر اپني توجہ کام پر مرکوز کر لي اور بعد ميں ديکھا گيا کہ ان کے امتحانات ميں مارکس بھي زيادہ تھے اور وُہ عملي زندگي ميں کامياب بھي زيادہ ہوئے۔ اگر آپ کي خواہش ہے کہ آ پ کچھ بڑا کريں تو اس کے لئے جو کام فوراً لطف دينے والے ہيں جيسے فلم ديکھنا، کہيں سير و تفريح کے لئے جانا، دوستوں کے ساتھ گپيں لگاناوغيرہ کو بڑے مقاصد کے لئے چھوڑنا ہو گا۔

کارکردگي کا چوتھااصول آرام کرنا ہے: عام لوگوں کا خيال ہے کہ ہر وقت بہت زيادہ لگاتار محنت ہميشہ اچھے نتائج لاتي ہے۔ مگر نفسيات ميں ريسرچ سے اس بات کي نفي ہوئي ہے۔ گھنٹوں ايک ہي کام کرنے اور اسي پر اپني توجہ مرکوز کرنے کي کوشش کرنے کے نتائج بجائے اچھے کے اُلٹ آتے ہيں۔ يعني کارکردگي ميں اضافے کي بجائے کمي آتي ہے۔ايسا کرنے سے فرد ذہني دبائو کا شکار ہو کر اس کا م کو ہي ہميشہ کے لئے خداحافظ کہہ ديتا ہے۔

کھيلوں کے ميدان ميں چيمپئن خواہ وہ ريسلنگ ميں ہو يا اتھليٹکس ميں، سکواش ميں ہو يا ويٹ لفٹنگ ميں، کرکٹ ميں ہو يا ہاکي ميں، ايسے چيمپئنز وقفوں وقفوں سے مشق (پريکٹس)کرتے ہيں۔ لگاتار کوشش اور استقامت جہاں فرد کا سٹيمنا(قوتِ برادشت) بڑھاتي ہے وہيں اس ميں فرد اگر ايک حد سے زيادہ توانائي لگاتاہے تواس ميں انجري يعني مشق کے عمل ميں خود کو ہي زخمي کر لينے کے چانسز بہت بڑھ جاتے ہيں۔

سائنسي طور پر ثابت شدہ بات ہے کہ کسي بھي کام ميں 52منٹ کام کرنے کے بعد 15سے17منٹ تک اپنے آپ کو سکون دينا تاکہ جسم اور دماغ دوبارہ تروتازہ ہو جائيںبہت ضروري ہے۔ سائنيٹفک امريکن ميں شائع شدہ تحقيق ميں يہ بتا گيا ہے کہ ضرورت سے زيادہ لگاتار کام دماغ کو اپنے پوري استعداد پر کام سے روک ديتا ہے۔جس کي وجہ يہ ہے کہ دماغ کو خون اور آکسيجن کي رسد ميں کمي آتي ہے اور فرد کسي بھي کام پر اپني پوري توجہ مرکوز نہيں کر پاتا ۔سائنسي تحقيقا ت ميں يہ ديکھا گيا ہے کہ جب ورکرز چند ہفتوں کي چھٹياں گذار کر واپس آتے ہيں ان کي کارکردگي ميں اضافہ ہو جاتا ہے اور وُہ اپنے کاموں پر توجہ بھي بھرپور ديتے ہيں۔

سپورٹس سائيکولوجي ميں ہونے والي بہت سي سائنسي تحقيقات ميں اس بات پر بے حد زور ديا گيا ہے اور اس کي بارہا تاکيد کي گئي ہے کہ 45سے55منٹ تک کوئي بھي کام کرنے کے بعد 16سے21منٹ تک آرام کر کے جسم و دماغ کو تازہ دَم کيا جائے جس سے نہ صرف آپ کي کارکردگي ميں اضافہ ہوتا ہے بلکہ آپ کے اطمينان اور خوشي کے درجے ميں بھي بہتري آتي ہے۔ مزيد برآں ان وقفوں ميں ميوزک سننے يا کوئي بھي موسيقي کاآلہ بجانے سے بھي کارکردگي ميں اضافہ ہوتا ہے۔

کارکردگي کا پانچواں اصول ماحول ميں تبديلي ہے: سائيکالوجي ميں ڈيسک ٹائمز ميں شائع شدہ تحقيق کے مطابق دفتري ماحول ميں صر ف تيزروشني ميں کام کرنے يا مصنوعي روشني کو مناسب کر دينے، ہوا کي آمدورفت کو بہتر بنا دينے، اپني روجہ ايک ہي کام پر مرکوز کرنے اور کام پر اپنے آپ کو مشغول رکھنے سے نہ صرف فرد کي کارکردگي ميں بيش بہا اضافي ديکھنے ميں آيا بلکہ فرد کي زندگي سے مجموعي اطمينان و تسکين بھي بہت زيادہ بڑھ گئي۔

طبعي ماحول کا خوش گوار ہونا نہ صرف فرد کے موڈ کو بہتر بنا ديتا ہے بلکہ اس کي ياداشت، کام کرنے کي صلاحيت اور قوتِ ارتکاز کو بھي بہتر بنا ديتا ہے۔ نفسيات ميں يہ بات بھي سائنسي طور پر ثابت شدہ حقيقت ہے کہ خوبصورت اور دل کش رنگ بھي ہماري کارکردگي ميں اضافہ کرتے ہيں۔ کارنل يونيورسٹي ميں بيٹھنے کے انداز پر تحقيق ميں پتہ چلا ہے کہ ہمارا بيٹھنے کا انداز بھي ہماري کارکردگي اور مزاج يعني موڈ Mood پر اچھے يا بُرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

جن لوگوں نے اپنے ڈيسک يعني کام کرنے کي جگہ کو بہتر بنا ليا تو ان کي کارکردگي ميں بھي خاطر خواہ بہتري ديکھنے ميں آئي۔ جب بھي آپ بيٹھ کر کام کريں تو اپني کمر کو 90کے زاويے پر سيدھا رکھيں گے تو کسي بھي کام ميں آپ کي قوتِ ارتکاز اور کارکردگي ميں فوري اضافہ ہو جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ کرسي پر بيٹھنے سے ہونے والي اَموات دنيا ميں کسي بھي مرض سے ہونے والي اَموات سے زيادہ ہيں۔ اس لئے اب کھڑے ہو کر کام کرنے کے کلچر کو دنيا کي بڑي کمپنيوں ميں فروغ ديا جا رہا ہے تا کہ جس کي وجہ سے موٹاپے اور ہارٹ اٹيک، شوگر اور ديگر امراض جو بيٹھے رہنے کي وجہ سے ہوتے ہيں ميں کمي لائي جا سکے۔

کارکردگي کاچھٹا اصول اپنے کام کے علاوہ باقي سب بھلاديناہے

 بہتر اور شاندار کارکردگي دکھانے والے لوگ اکثر اوقات اپنے کام ميں اپنے آپ کو اس قدر بھُلا ديتے ہيں کہ اُن کا اپنے کام سے عشق دوسروں کے لئے مثال بن جاتا ہے۔چند گھنٹوں ميں وُہ دن بھر کا کام مکمل کر ليتے ہيںجس کے بعداِن کو اپني ذات ، دوسروں اور اپنے کام پر غورو فکر کا موقع ملتا ہے جو ان کي ٹخليقي صلاحيتوں ميں اضافے کي بڑي وجہ بن جاتي ہے۔

وُہ اپني زندگي کو بامقصد خيال کرتے ہوئے جب کام کرتے ہيں تو کام پر ہي توجہ ديتے ہين ليکن جب آرام يا تفريح ميں مشغول ہوتے ہيں تو لگتا ہے کہ انہوں نے کبھي کوئي کام کيا ہي نہيں۔ اس لئے آپ بھي زندگي کو يہاں اور اِسي وقت يعني Here and Now کے اُصول کے تحت گذارنا شروع کريں جس مطابق آپ جوکام کررہے ہو ں، اُس پراپني پوري توجہ اور توانائي لگا ديں تو کيسے ممکن ہے کہ آپ کا نام بھي کامياب لوگوں کي فہرست ميں شامل نہ ہو۔

ءءء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *