درس قرآن کریم

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۝۳وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۝۴
(سورة العنکبوت آيت 3 تا 4)
کيا لوگ يہ گمان کر بيٹھے ہيں کہ يہ کہنے پر کہ ہم ايمان لے آئے وہ چھوڑ ديئے جائيں گے اور آزمائے نہيں جائيں گے؟ اور ہم يقينا اُن لوگوں کو جو اُن سے پہلے تھے آزمائش ميں ڈال چکے ہيں پس وہ لوگ جو سچے ہيں اللہ انہيں ضرور شناخت کر لے گا اور جھوٹوں کو بھي ضرور پہچان جائے گا ۔
تفسير:
اللہ جلّ شا نہٗ فرماتا ہے۔ کوئي انسان کہہ دے کہ مَيں مومن ہوں۔ تو يہ تو مختلف وجوہات سے مثلاً کسي شرم و لحاظ سے کہہ سکتا ہے کہ ميں مومن ہوں۔ چنانچہ قرآن کريم کے دوسرے رکوع ميں لکھا ہے کہ کچھ لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں کہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہيں ليکن درحقيقت وہ مومن نہيں ہوتے آجکل نئي روشني ميں يہ وباء پھيلي ہوئي ہے کہ جس قسم کي سوسائٹي ہو ويسے ہي ہو جاؤ۔ وہ سمجھتے ہيں کہ مذہب صرف سوسائٹي ميں آرام سے رہنے کا ذريعہ ہے۔ يہاں اللہ تعاليٰ فرماتا ہے صرف يہ کہہ دينا کہ ميں مومن ہوں۔ کافي نہيں۔ جتني قوميں ان سے پہلے آئي ہيں۔ سب کو کٹھالي ميں ڈالا گيا تا معلوم ہو کہ کون جھوٹے ہيں اور کون سچے ہيں۔
ياد رکھو کہ ہماري اور ہمارے امام کي کاميابي ايک تبديلي چاہتي ہے کہ قرآن شريف کو اپنا دستور العمل بناؤ۔ نِرے دعوے سے کچھ نہيں ہو سکتا۔ اس دعوے کا امتحان ضروري ہے۔ جب تک امتحان نہ ہووے کوئي سر ٹيفکيٹ کاميابي کا مِل نہيں سکتا۔ خير القرون کے لوگوں کو بھي يہي آواز آئي۔
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَکُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۔
کيا لوگ گمان کر بيٹھے ہيں کہ وہ صرف اتنا ہي کہنے پر چھوڑ ديئے جاويں گے کہ وہ ايمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاويں۔
ابتلاؤں اور آزمائشوں کا آنا ضروري ہے۔ بڑے بڑے زلزلے اور مصائب کے بادل آتے ہيں۔ مگر ياد رکھو ان کي غرض تباہ کرنا نہيں ہوتا بلکہ اللہ تعاليٰ کا منشاء اس سے استقامت اور سکينت کا عطا کرنا ہوتا ہے اور بڑے بڑے فضل اور انعام ہوتے ہيں۔ (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ نمبر 329)
حديث
نبي کريم صلي اللہ عليہ و آلہٖ وسلم جب نيند سے اٹھتے تو دعا مانگتے اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ اَحْيَانِيْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِيْ بلکہ کروٹ بدلنے ميں بھي شکريہ ادا کرتے اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ پڑھتے۔ (حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ نمبر 323)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *