غزل

 

 

صاؔدق باجوہ   

زندگانی سی عطا جیسی عطا کوئی نہیں

پھر کہے کیونکر کوئی رَبُّ الوریٰ کوئی نہیں

جس نے شیوہ ظلم و اِستبداد کا اپنا لیا

وہ سمجھ لیتا ہے کیا روزِ جزا کوئی نہیں

پُر خطا ہر ایک تھا لیکن ستم تو دیکھئے

ہر کسی کو تھا گماں اس کی خطا کوئی نہیں

ہو شکایت بھی کہاں ممکن نہیں کو ئی گِلہ

بے وفا ہی کہہ رہا ہے بے وفا کوئی نہیں

جب کبھی مانگا ہوئی پوری مرے دل کی مُراد

خواہشیں بڑھنے لگیں تو انتہا کوئی نہیں

زندگی بھر کس قدر انجام سے تھے بیخبر

ڈھونڈتے اُس کو رہے جس کا پتا کوئی نہیں

آگیا بھٹکا ہوا صاؔدق تری دہلیز پر

کر عطا بخشش سخی تجھ سے بڑا کوئی نہیں

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *