درس القرآن

 

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا أَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيْدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰی مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔

(سورة البقرة آيت نمبر : 186)

ترجمہ:

رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کےلئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اتار ا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و  باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں ۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو  اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔

تفسیر :

قرآن کریم کا طرز ہے کہ پہلے عام فضائل سکھاتا ہے پھر خاص فضیلت کی بات۔ اسی طرح پہلے عام رذائل سے ہٹاتا ہے پھر ارذل الرذائل شرک سے ۔پہلے عام بات کا حکم ہوتا ہے پھر خا ص کا ، مثلاً پہلے عمرہ وغیرہ کا ذکر ہے پھر حج کا پہلے صدقات کی ترغیب ہے پھر زکوٰۃ کی۔ اسی طرح پہلے یہاں عام طور پر نفلی و فرضی روزوں کا حکم دیا ہے  پھر رمضان کے روزوں کا حکم دیتا ہے ۔ پہلے شھرِ رمضان کی فضیلت بیان کی ہے کہ اس میں قرآن شریف نازل ہوا ۔ چونکہ قرآن کا اطلاق جزو سورہ پر بھی ہو سکتا ہے ۔ اس لئے اس کا یہ  مطلب نہیں کہ تمام قرآن ماہ ِرمضان میں نازل ہوا ہے بلکہ صرف ایک جزو سورۃ کا نزول بھی کافی ہے ۔ میں نے جو تحقیق کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضو ر نبی کریم ﷺجن دنوں غارِ حرا میں عبادت فرمایا کرتے تھے وہ دن رمضان کے تھے اور وہیں پہلی سورۃ کا جزو نازل ہوا۔ اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر رمضان اس لئے فضلیت کا مہینہ ہے کہ اس میں قرآن کا کوئی جزو ناز ل ہوا تو اس فضلیت میں دوسرے مہینے بھی شامل ہیں ۔ اس لئے گو یہ دوسرے معنے بھی بہت سچّ ہے کہ وہ رمضان جس کے بارے میں قرآن شریف نازل ہوا مگر شروع نزول ایک رنگ رکھتا ہے ۔بَیِّنَاتٍ : کھلے ہدایت نامے ۔الْفُرْقَان: قرآن سے مجھے اس کے یہ معنے معلوم ہوئے کہ فرقان نام ہے اس فتح کا جس کے بعد دشمن کی کمر ٹوٹ جائے اور یہ بدر کا دن تھا۔ غزوہ بدر بھی ماہ رمضان میں ہوا ہے ۔ غرض رمضان المبارک کیا بلحاظ فتوحات ِ دنیاوی اور کیا باعتبار ابتداء نزول ِ قرآنی یا تاکید کی کمر ٹوٹ جائے اور یہ بدر کا دن تھا۔ غزوہ بدر بھی ماہ رمضان میں ہوا ہے ۔ غرض رمضان المبارک کیا بلحاظ فتوحات ِ دنیاوی اور کیا باعتبار ابتداء نزول ِ قرآنی یا تاکید قرآنی ہر طرح قابل ِ حرمت ہے۔

اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآن : اسی کے متعلق قرآن نازل ہوا ۔ قرآن میں روزے کی تاکید ہے ۔ قرآن روزوں میں شروع ہوا۔ دونوں معنی صحیح ۔ شَھِدَ : مسافر نہ ہو بلکہ حاضر ۔

رمضان کے دن بڑے بابرکت دن ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں خاص احکام دیئے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی خاص تاکید کی ہے ۔ جو لوگ مسافر ہیں یا بیمار ہیں ان کو تو سفر کےبعد اور بیمار ی سے صحتیاب ہو کر روزے رکھنے کا حکم ہے ۔ مگر دوسرے لوگوں کو دن کے وقت کھانا پینا اور بیوی سے جماع کرنا منع ہے ۔ کھانا پینا بقائے شخص کےلئے نہایت ضروری ہے اور جماع کرنا بقائے نوع کےلئے سخت ضروری ہے ۔ اس مہینہ میں خدا تعالیٰ نے دن کے وقت ایسی ضروری چیزوں سے رکے رہنے کا حکم دیا تھا ۔ ان چیزوں سے بڑھ کر اور کوئی چیزیں ضروری نہیں۔ بے شک سانس لینا ایک نہایت ضروری چیز ہے مگر انسان اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ اسی واسطے بنایا ہے کہ جب انسان گیارہ مہینے سب کام کرتا ہے اور کھانے پینے۔ بیوی سے جماع کرنے میں مصروف رہتا ہے تو پھر ایسی ضروری چیزوں کو صرف دن کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک ماہ کے لئے ترک کر دے تو پھر دیکھو جہاں ایک طرف ان ضروری اشیاء سے منع کیا ہے ۔ دوسری طرف تدریس قرآن ، قیام رمضان اور صدقہ وغیرہ کا حکم دیا ہے اور اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جب ضروری چیزیں چھوڑ کر غیر ضروری چیزوں کو خدا کے حکم سے اختیار کیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے برخلاف غیر ضروری چیزوں کو حاصل کیا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینہ میں دعاؤں کی کثرت ، تدریس ِ قرآن ، قیام رمضان کا ضروری خیال رکھنا چاہئے۔ حدیث شریف میں لکھا ہے ۔

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ  اِیْمَاناً وَّ اِحْتَسَاباًغُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ مگر افسوس کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رمضان میں خرچ بڑھ جا تا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ لوگ روزہ کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ سحری کے وقت اتنا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں کہ دوپہر تک بدہضمی کے ڈکار ہی آتے رہتے ہیں اور مشکل سے جو کھانا ہضم ہونے کے قریب پہنچابھی  تو پھر افطار کے وقت عمدہ عمدہ کھانے پکواکے وہ اندھیر مارا اور ایسی شکم پُری کی کہ وحشیوں کی طرح نیند پر نیند اور سستی پر سستی آنے لگی ۔ اتناخیال  نہیں کرتے کہ روزہ تو نفس کےلئے ایک مجاہدہ تھا نہ یہ کہ آگے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر خرچ کیا جاوے اور خوب پیٹ پُر کر کے کھایا جاوے ۔یادرکھو اسی مہینہ میں ہی قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تھا اور قرآن مجید لوگوں کےلئے ہدایت اور نور ہے اسی کی ہدایت کے بموجب عمل درآمد کرنا چاہئے ۔روزہ سے فارغ البالی پیدا ہوتی ہے اور دنیا کے کاموں میںسُکھ کرنے کی راہیں حاصل ہوتی ہیں۔ آرام تو یا مر کر حاصل ہوتا ہے یا بدیوں  سے بچ کر حاصل ہوتا ہے ۔ اس لئے روزہ سے بھی سُکھ حاصل ہوتا ہے اور اس سے انسان قرب حاصل کر سکتا اور مُتّقی بن سکتا ہے اور اگر لوگ پوچھیں کہ روزہ سے کیسے قُرب حاصل ہوسکتا ہے تو کہہ دے ۔ فَإِنِّیْ قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ(حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 305تا307)

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *