عالمگیر ایٹمی تباہی

لاہور انٹرنیشنل ڈیسک

عصر حاضر سے تعلق رکھنے والی بعض قرآنی پیشگوئیاں غیر معمولی طور پر عالمگیر اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں سے ایک ایسی ہی پیشگوئی ہونے والی ممکنہ ایٹمی تباہی سے متعلق ہے۔  یہ پیشگوئی اس زمانہ میںکی گئی جب ایٹمی دھماکے کا تصور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ لیکن جیسا کہ ابھی بیان کیا جائے گا قرآن کریم کی بعض آیات میںبڑی صراحت کے ساتھ ایسے باریک ذرات کا ذکر ملتا ہے جوبے انتہا توانائی کا منبع ہیں گویا کہ اپنے اندر جہنم کی آگ سمیٹے ہوئے ہیں۔ مندرجہ ذیل آیات حیرت انگیز حد تک عین اسی مضمون پر روشنی ڈالتی ہیں۔

وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ  لُّمَزَۃِ۔  الَّذِیْ جَمَعَ  مَالًا وَّعَدَّدَہٗ۔ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہٗٓ اَخْلَدَہٗ۔ کَلَّا لَیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ۔ وَمَآ اَدْرَاکَ مَا الْحُطَمَۃُ۔  نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ۔ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَۃِ۔ اِنَّھَاعَلَیْھِمْ مُّؤْ صَدَۃٌ۔ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ۔ (الھمزۃ 10-2:104)

ترجمہ: ہلاکت ہو ہر غیبت کرنے والے سخت عیب جُو کیلئے۔ جس نے مال جمع کیا اور اس کا شمار کرتا رہا۔ وہ گمان کیا کرتا تھا کہ اس کا مال اسے دوام بخش دے گا۔ خبردار ! وہ ضرور حُطَمَہ میں گرایا جائے گا۔ اور تجھے کیا بتائے کہ حُطَمَہ کیا ہے۔ وہ اللہ کی آگ ہے بھڑکائی ہوئی۔ جو دلوں پر لپکے گی۔ یقینا وہ ان کے خلاف بند رکھی گئی ہے۔ ایسے ستونوں میں جو کھینچ کر لمبے کئے گئے ہیں۔

یہ مختصر سورۃ حیرت انگیز پیشگوئیوں کا زبردست مجموعہ ہے جن کا اس زمانہ میں کوئی تصور تک نہیں کر سکتا تھا۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ بعض گنہگار حُطَمَہ میں ڈالے جائیں گے۔ حُطَمَہ سے مراد وہ مہین اور باریک ترین ذرات ہیں جو ایک نیم روشن کمرے میں سے گزرتی ہوئی روشنی کی شعاع میں تیرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

مستند عربی لغات میں حُطَمَہ کے دو بنیادی معانی پائے جاتے ہیں۔ ایک حَطَمَہ ہے جس کا مطلب کسی چیز کو پیسنا یا ریزہ ریزہ کرنا ہے دوسرا حِطـمَہ جس کے معنی بے حقیقت سے چھوٹے ذرات کے ہیں۔ گویا حِطمَہ کسی چیز کو اس کے باریک ترین ذرات میں توڑنے کو کہتے ہیں۔

ان دو نوں معانی کا جائز طور پر اطلاق ان باریک ترین ذرات پر ہو سکتا ہے جن کی مزید تقسیم ناممکن ہو۔ آج سے چودہ سو سال قبل ایٹم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا لیکن صرف حُطَمَہ ہی ایک ایسا لفظ ہے جسے ایٹم کا قریب ترین مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب صوتی اعتبار سے بھی یہ دونوں الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ انسان ابھی اس دعویٰ پرحیران ہے کہ اسے حُطَمَہ میں جھونکا جائے گا کہ ایک اور پہلے سے بھی زیادہ حیرت انگیز دعویٰ سامنے آ جاتا ہے۔

لفظ حُطَمَہ کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم اسے ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ قرار دیتا ہے جو ایسے ستونوں میں بند ہے جو کھینچ کر لمبے کئے گئے ہوں۔ جب انسان کو اس میں جھونکا جائے گا تو یہ آگ پسلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر براہ راست دل پر لپکے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آگ خاصیت کے لحاظ سے عام آگ سے یکسر مختلف ہو گی جو جسم کو جلانے سے پہلے ہی دل کی حرکت کو یوں بندکر دے گی جیسے اسے روکنے والی پسلیوں کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ نزول قرآن کے وقت یقینا اس قسم کی آگ کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔

یہاں بیان کردہ تشریح ہی حیران کن نہیں، آگے آنے والی وضاحت اس سے بھی زیادہ حیرت انگیزہے۔ جس آگ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایسے ستونوں میں بند ہے جو کھینچ کر لمبے کئے گئے ہوں۔ اوریہ آگ ایسے وقت میں انسان پر حملہ آور ہو گی جب اس کا بے قابو ہونا مقدر ہو گا۔

یہ چھوٹی سی سورۃ حیرت انگیز امور پر مشتمل ہے۔ اوّل یہ ذکر کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان چھوٹے چھوٹے ذرّات میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر ان ذرّات کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان میں ہے کیا؟ ان میں آگ ہے جو چھوٹے چھوٹے سلنڈروں میں بند ہے جن کی شکل لمبوترے بلند و بالا ستونوں جیسی ہے۔

چھوٹے ذرات میں جھونکے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ایک آدمی ان میں ڈالا جائے گا بلکہ یہ لفظ وسیع معنوں میں بنی نوع انسان کیلئے استعمال ہوا ہے اور ان میں ڈالے جانے سے مراد وہ عذاب ہے جس میں اسے مبتلا کیا جائے گا جو اس کا مقدّر ہے۔ جب سے انسان نے ایٹم کا پوشیدہ راز دریافت کر کے اس میں موجود بے انتہا توانائی سے آ گہی حاصل کی ہے یہ بات قابل فہم ہو گئی ہے۔ یہی وہ دور ہے جب باریک ترین ذرات میں چھپی ہوئی آگ باہر نکل کر ہزارہا مربع میل علاقہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس کی زد میں آنے والی انسان سمیت ہر چیز تباہ ہو جائے گی۔ چنانچہ وہ بات جو آج سے چودہ سو سال قبل غیر حقیقی دکھائی دیتی تھی اسے آج کا بچہ بچہ جانتا ہے۔

حیرت اور مبالغہ آرائی کا کوئی بھی محاورہ اس پیشگوئی کی عظمت کے بیان کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ کیا یہ حقیقت کم حیرت انگیز ہے کہ اس زمانہ کے لوگ اس چھوٹی سی سورۃ یعنی الھمزۃ کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وگرنہ اس کا اثر دلوں کی بجائے ان کے ایمان و اعتقاد پر ہوتا۔ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ یہ عظیم الشان پیشگوئیاں ان کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکیں۔ شاید ان کا خیال ہو کہ ان آیات کا تعلق اس دنیا کے واقعات سے نہیں، آخرت سے ہے۔ بہت سے مفسرین نے ان آیات کی تفسیر کی کوشش ہی نہیں کی۔ اور جنہوں نے اس مشکل کام کو اپنے ذمہ لیا وہ یہ کہہ کر بری الذمہ ہو گئے کہ یہ تو دوبارہ جی اٹھنے کی باتیں ہیں۔ اور اس طرح ان تما م پیشگوئیوں کے معانی پر غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

مغربی مستشرق سیل (Sale)کو بھی حُطَمَہ کا لفظی ترجمہ کرنے میں مشکل پیش آئی۔ اس نے حُطَمَہ کا لفظی ترجمہ کئے بغیر صرف یہ لکھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حُطَمَہ میں ڈالی جائے گی۔ اس طرح اس نے انگریزی جاننے والوں کی اس ممکنہ بے یقینی کو دور کر دیا جس کا انسان کے چھوٹے چھوٹے ذرات میں ڈالے جانے کے ترجمہ سے پیدا ہونے کا احتمال تھا۔ چنانچہ حُطَمَہ کے درست معنی معلوم نہ ہونے کی وجہ سے قاری کے ذہن میں حُطَمَہ کے معنی کسی بڑے کمرہ میں جلتی ہوئی آگ کے آتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے سیل (Sale)کو غلط ترجمہ سے پیدا ہونے والی شرمندگی سے تو بچا لیا لیکن وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا حق ادا کرنے میں نا کام رہا۔

اس آیت میں مذکور آگ کا تعلق خواہ اس دنیا سے ہو یا آخرت سے، اسے کسی بھی طرح باریک ترین ذرّات میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ ایٹمی دور کے ارتقا سے قبل اس قسم کی آگ کا کوئی تصور ہی موجود نہیں تھا اس لئے سیل اور دیگر پہلے مفسرین کو اس کے حل کرنے میں مشکل در پیش تھی۔ آخرکار اب کہیں جا کر یہ عقدہ کھلتا ہوا نظر آتا ہے جس کی تمام کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ ترتیب سے جڑی ہوئی ہیں۔

جب تک سائنسی لحاظ سے یہ معلوم نہ ہو کہ ایٹمی دھماکہ کس طرح ہوتا ہے اورجوہری کمیت میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، قرآن کریم میں مذکور لمبے ستونوں کے معنی مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ پھٹنے سے قبل جوہری کمیت کی کیفیت کو ایٹمی ماہرین اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کوئی چیز اپنے اندر موجود بے انتہا دباؤ کی وجہ سے پھٹ پڑنے والی ہو۔ یہ دباؤایٹم کے مرکزہ کے پھٹنے سے قبل اس کے پھیلنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس عمل میں ایک بڑے ایٹمی وزن والا عنصر کم ایٹمی وزن والے دو عناصر میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ نئے بننے والے عناصر کے ایٹمی وزن کا مجموعہ ابتدائی عنصر(parent-element) جو heavy metalبھی کہلاتا ہے، کے ایٹمی وزن سے کچھ کم ہوتا ہے۔ اس عمل میں ایٹمی وزن کا جو معمولی سا حصہ ضائع ہوتا ہے وہ توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایٹم بم کا یہی ایک واحد ماڈل نہیں ہے لیکن ہم نے لمبے ستونوں کے عمل کو بیان کرنے کیلئے یہ آسان ماڈل چنا ہے۔

اب ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ آگ براہ راست دلوں پر کس طرح لپکے گی۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ایٹمی دھماکہ کے وقت گاماریز (gamma rays)، نیوٹرانز(neutrons)اور ایکس ریز کی ایک بہت بڑی تعداد خارج ہوتی ہے۔ ایکس ریز درجہ حرارت کو فوری طور پر بے انتہا بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجۃً آگ کا ایک بڑا سا گولہ بنتا ہے جو انتہائی گرم ہواؤں کے دوش پر تیزی سے بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ بہت بڑی کھمبی نما آگ کی چھتری میلوں دور سے نظر آتی ہے۔

ایکس ریز، نیوٹرانز کے ساتھ تمام افقی سمتوں میں بھی پھیل جاتی ہیں اور اپنی حرارت کی وجہ سے راستہ میں موجود تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ ان گرم  لہروں کی رفتار آواز کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے جن سے shockwaves بھی بنتی ہیں لیکن ان سے بھی کہیں زیادہ تیز اور نفوذ کرنے والی گاما ریز ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ان گرم لہروں کو مات دے دیتی ہیں۔ یہ بے حد مرتعش ہوتی ہیں اور اسی ارتعاش کی وجہ سے دلوں کی حرکت کو بند کر دیتی ہیں۔ فوری موت ایکس ریز سے پیدا ہونے والی حرارت کی بجائے گاما ریز کی شدید توانائی کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو بعینہٖ اس طرح بیان کیا ہے۔

پھر سورۃ الدخان میں قرآن کریم ایک ایسے مہلک بادل کا ذکر فرماتا ہے جو تباہ کن چمکدار دھوئیں پر مشمل ہو گا:

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ۔ یَّغْشَی النَّاسَ ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الدخان  44:12-11 )

ترجمہ: پس انتظار کر اس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ ایک بہت درد ناک عذاب ہو گا۔

مندرجہ ذیل آیات اس دھوئیں کی نوعیت پر مزید روشنی ڈالتی ہیں:

اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ لَّا ظَلِیْلٍ وَّلَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّھَبِ۔ اِنَّھَا  تَرْمِیْ  بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ۔ کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ۔ (المرسلات 34-30:77)

ترجمہ: اس کی سمت چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ایسے سائے کی طرف چلو جو تین شاخوں والا ہے۔ نہ تسکین بخش ہے نہ آگ کی لَپٹوں سے بچاتا ہے۔ یقینا وہ ایک قلعہ کی طرح کا شعلہ پھینکتا ہے۔ گویا وہ جو گیا رنگ کے اونٹوں کی طرح ہے۔

یہاں اِنطَلِقُوا سے مراد یہ ہے کہ کسی وقت بنی نوع انسان پر ایسا زمانہ آئے گا جب انہیں ایک اذیت ناک بادل کی شکل میں ایک ایسی آفت کا سامنا کرنا پڑے گا جو کوئی سایہ یا تحفّظ فراہم نہیں کرے گی۔ سائے تو آرام اور پناہ دیا کرتے ہیں۔ بادل ہمارے اور سورج کی جھلسا دینے والی تپش کے مابین حائل ہو جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیات میں کسی سورج کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف اسی آگ کا ذکر ہے جس کی تپش سے یہ سایہ کوئی تحفّظ فراہم نہیں کر سکے گا۔ اس کے برعکس اس بادل کا سایہ آگ کے عذاب میں مزید اضافے کا باعث ہو گا۔ اس کے سائے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہو گا۔ یقینا یہ اشارہ اس تابکار بادل کی طرف ہے جو ایٹمی دھماکہ کے وقت بنتا ہے۔ جس واقعہ کا یہاں ذکر ہو رہا ہے اس میںجوگیا رنگ کے بڑے بڑے شعلے بلند ہوں گے جنہیں قلعوں اور اونٹوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مشابہت میں محض اونٹ کے رنگ کی طرف ہی نہیں بلکہ اس کے کوہان کی طرف بھی اشارہ ہے۔

ساتویں صدی کے لوگ اس ہلاکت خیز بادل یا دھوئیں کی اہمیت کو کما حقہ سمجھنے کے قابل نہیں تھے کیونکہ یہ بات ان کے فہم سے بالا تھی۔ تا ہم آج ہمیں ایٹمی دھماکوں کا بخوبی علم ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تابکار بادل کو ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔

اس خوفناک تباہی کا ذکر مندرجہ ذیل آیت میں بھی ملتا ہے۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ۔  (المرسلات 16:77)  ترجمہ: ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں پر۔

اگرچہ یَوْمَئِذٍ سے مراد قیامت کا دن بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ اس زمانہ پر بھی دلالت کرتا ہے جب ان لوگوں کو جو الٰہی نشانات کا انکار کرتے ہیں ایک ایسے دھوئیں کا عذاب دیا جائے گا جس کے سائے کے نیچے ہر چیز پر موت برسے گی۔ یہ ایک ایسا سایہ ہو گا جو ایک جگہ سے دوسرے جگہ حرکت کرے گا اور آرام دینے کی بجائے عذاب کا باعث ہو گا۔ یہ وہ دور ہو گا جب انسان اس عظیم آسمانی عذاب کو دیکھنے کے بعد بالآ خر خدا کی طرف رجوع کرے گا اور اس سے اس ناقابل برداشت عذاب سے بچنے کی التجا کرے گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا عذاب لوگوں پر نازل ہوتا ہے تو بخشش اور نجات کا وقت پہلے ہی گزر چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔

اَنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَھُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۔(الدخان 15-14:44)

ترجمہ: ان کیلئے اب کہاں کی نصیحت جبکہ ان کے پاس ایک روشن دلائل والا رسول آ چکا تھا۔ پھر بھی انہوں نے اس سے اعراض کیا اور کہا سکھایا پڑھایا ہوا (بلکہ) پاگل ہے۔

بنی نوع انسان کو انبیاء کے ذریعہ تنبیہ کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے المناک نتائج سے آگاہ کیا جائے۔ مذکورہ بالا پیشگوئیاں واضح طور پر عصر حاضر سے تعلق رکھتی ہیں جن میں ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے پرانے زمانہ کے لوگ کلیۃًبے خبر تھے۔ انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کس تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام پیشگوئیوں کی خبر آنحضرت  ﷺ کو پہلے سے دے دی تھی۔ لیکن جس وضاحت کے ساتھ آپ  ﷺ مستقبل کے واقعات کو بیان فرماتے ہیں اس سے بڑا قوی تاثر یہ پیدا ہوتا ہے کہ گویا یہ تمام واقعات آپ  ﷺ کے سامنے کسی فلم کی طرح گزر رہے ہیں۔ تا ہم بنی نوع انسان کو ان پیشگوئیوں کے ظہور کیلئے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑا اور ان واقعات کا ظہور موجودہ ایٹمی دور میں ہی ممکن ہوا۔ ایٹمی تباہی کا تصور بہت ہولناک ہے لیکن انسان نے اس کے اسباب کا کھوج لگانے کی طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ آدمی کی نظر عموماً سطحی معاملات تک ہی محدود رہتی ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے گریبان میں جھانک کر برائی کی شناخت کر سکتے ہیں۔ یہ اندھاپن بطور خاص انسان کی کج روی سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے ماحول میں مصائب اور برائیاں پھیلانے کے باوجود انسان اپنے آپ کو کبھی اس کا ذمہ دار نہیں گردانتا۔

انہی عالمگیر آفات کا ہم اس وقت تجزیہ کر رہے ہیں۔ ایک سائنسدان ایٹمی دھماکوں کے پیچھے کارفرما عوامل کی تشریح محض مادی اور طبعی اسباب کی حد تک ہی کرتا ہے۔ مگر جب اس قسم کے تباہ کن ہتھیاروں کو انسان کی امن و سلامتی کی تباہی کیلئے استعمال کیا جائے تو ایسے ہتھیاروں کے موجد سائنسدانوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بلکہ اصل وجہ کچھ اور ہوتی ہے۔ یہ دراصل بڑی بڑی عالمی طاقتیں ہی ہیں جو عالمگیر سطح کے ظالمانہ اور نامعقول فیصلوں کی ذمہ دار ہیں۔ تا ہم اپنی تمام تر عظمت کے باوجود ان کی حیثیت خود غرض عوام کی اجتماعی سوچ کے ہاتھوں کھیلنے والے مہروں سے زیادہ نہیں ہے۔ قرآن کریم اگرچہ ان سائنسی عجائبات کا بڑے معین رنگ میں ذکر فرماتا ہے لیکن سائنس کے کسی معلّم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ہماری توجہ اس حقیقت کی طرف بھی مبذول کراتا ہے کہ انسان کے مسخ شدہ رویہ کے اصل اسباب دراصل غیراخلاقی محرکات ہوا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نہ صرف ان پوشیدہ محرکات کو بیان کرتا ہے بلکہ ہماری توجہ ان کے پیچھے کارفرما قوت پر بھی مرکوز کرتا ہے۔ یعنی وہ بندوق کی لبلبی کا ذکر تو کرتا ہے لیکن ہماری توجہ اس انگلی کی طرف بھی مبذول کراتا ہے جو اسے دباتی ہے۔ قرآن کریم کی تنبیہات کا یہی مقصد ہے۔ اس طرح وہ بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ انسان پر ہونے والے ہر ظلم کا ذمہ داردراصل انسان ہی ہے۔ پس قرآن کر یم کی رو سے اس سلسلہ میں کئے جانے والے حفاظتی اقدامات کا تعلق انسانی کردار کی اصلاح سے ہے۔ یعنی اگر لوگ اپنے رویہ میں تبدیلی لائیں اور الٰہی ہدایت کے مطابق اپنی اصلاح کریں تو اس سے وہ صحت مند انہ ماحول پیدا ہو گا جو عدل و انصاف کی بقا کیلئے ضروری ہے۔

قرآنی پیشگوئیاں روشنی کے ایک مینار کی حیثیت سے پیش آمدہ خطرات اور ان سے بچنے کے طریقوں کی طرف واضح رہنمائی کرتی ہیں لیکن بظاہر یہ بات محال نظر آتی ہے کہ انسانی معاملات کی کشتی کے ناخدا اس تنبیہ پر کان دھریں گے اور انسان کو ان خطرات سے نکال کر کسی محفو ظ مقام پر لے جائیں گے۔ اور یہی تباہی کی اصل وجہ ہے۔ انسانی رویہ کے تمام پہلوؤں کا حقیقت پسندانہ اور تنقیدی جائزہ لئے بغیر آج کے انسان کو درپیش مسائل کا کوئی بھی قابل عمل حل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ الغرض ان مسائل کا حل بنیادی انسانی اقدار کی بحالی میں مضمر ہے۔ مثلاً سچائی، دیانت، ایمانداری، انصاف،دوسروں کا خیال رکھنا، لوگوں کی تکلیف کا احساس خواہ ان سے کوئی رشتہ نہ ہو اور نیکی کے ساتھ عمومی وابستگی۔ ان اقدار کو انسانی تعلقات کے دائرے سے نکال دیں تو پھر خوفناک آفات سے کوئی مفر (جائے فرار) نہیں۔ اور اس صورت حال کا یہی واحد اور منطقی نتیجہ ہے۔

سورۃ القمر میں اس امر کی وضاحت گزشتہ اقوام کی تاریخ کے حوالہ سے کی گئی ہے جنہوں نے اپنے وقت کے انبیاء کے انذار پر کان نہ دھرا۔ نتیجۃً وہ اپنے المناک انجام کو پہنچیں جس کا انہیں وعدہ دیا گیاتھا اور وقت گزرنے کے بعد کی توبہ ان کے کسی کام نہ آئی۔ اس انذار سے یہ فائدہ ضرور حاصل ہوا کہ وہ آئندہ نسلوں کیلئے عبرت کا نشان بن گئیں۔ چنانچہ قرآن کریم ان کے المیہ کی طرف اس لئے اشارہ کرتا ہے تا ان کی موت سے آئندہ نسلیں صحیح اندا ز سے زندگی بسر کرنے کا فن سیکھ سکیں۔

وَلَقَدْ جَآئَھُمْ مِّنَ الْاَنْبَآئِ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔(القمر 6-5:54)

ترجمہ: اور ان کے پاس کچھ خبریں پہنچ چکی تھیں جن میں سخت زجرو توبیخ تھی۔ کمال تک پہنچی ہوئی حکمت تھی۔ پھر بھی اِنذار کسی کام نہ آئے۔

اگر کوئی قوم سبق حاصل نہ کرے تو اپنی اس خوفناک تباہی کی وہ خود ذمہ دار ہو گی جو ان کی منتظر ہے۔ جس ایٹمی تباہی کا ہم ذکر کر رہے ہیں، سورۃ طٰہٰ میں بھی اس کے انجام کے بارہ میں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت پر غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تباہی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کا غرور اور رعونت پاش پاش کر کے رکھ دے گی۔ انسان کو بحیثیت مجموعی صفحۂ ہستی سے نہیں مٹایا جائے گا۔ متعلقہ آیت میں واضح طور پر یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہ موقع بنی نوع انسان کے کلیۃً خاتمہ کا نہیں ہو گا بلکہ متکبر سیاسی طاقتیں سرنگوں کی جائیں گی اور ان کے مقبروں پر نظامِ نو کی بنیادیں اٹھائی جائیں گی۔ پہاڑوں جیسی عظیم عالمی طاقتیں اس طرح خاک میں ملا دی جائیں گی جیسے وہ ایک چٹیل میدان ہو جس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو تا:

وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا۔ فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا۔ لَّا تَرٰی فِیْھَا عِوَجًا وَّلَا ٓ اَمْتًا۔ یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ  وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلاَ تَسْمَعُ اِلَّا ھَمْسًا۔ (طٰہٰ 109-106:20)

ترجمہ: اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ تُو کہہ دے کہ انہیں میرا ربّ ریزہ ریزہ کر دے گا۔ پس وہ انہیں ایک صاف چٹیل میدان بنا چھوڑے گا۔ تُو اس میں نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ نشیب و فراز۔ اس دن وہ اس دعوت دینے والے کی پیروی کریں گے جس میں کوئی کجی نہیں۔ اور رحمان کے احترام میں آوازیں نیچی ہو جائیں گی اور تُو سرگوشی کے سوا کچھ نہ سنے گا۔

خداتعالیٰ جو کجیاں دور کرنے والا کامل خدا ہے ان کی کجیاں اور اونچ نیچ ختم کر دے گا اور اسی کی قدرت سے یہ حیرت انگیز انقلاب برپا ہو گا۔ یہاں پہاڑوں سے استعارۃ ً حکومتیں اور اقوام مراد ہیں جن کے بارہ میں قرآن کریم پیشگوئی فرماتا ہے کہ جب ان کا غرور توڑ دیا جائے گا اور بالآخر وہ ذلیل و رسوا کر دیئے جائیں گے اور ان کے سب کس بل نکل جائیں گے تب کہیں جا کر وہ خداتعالیٰ کے نہایت ہی منکسر المزاج منادی کی آواز پر لبیک کہیں گے جس میں کوئی کجی نہیں۔ یہ تباہی ان گنت ایٹمی دھماکوں کے نتیجہ میں ہی ممکن ہے جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسان اس وقت تک نصیحت نہیں پکڑے گا جب تک یہ تباہی اس کے کبر کو پارہ پارہ نہ کر دے۔ وعید کے اس افسوس ناک پیغام کے ساتھ ساتھ اس سے امید کی ایک کرن بھی پھوٹتی ہے کہ بنی نوع انسان آخرکار بچ کر روشنی کے ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ انسان اپنے اطوار میں اگر بروقت تبدیلی پیدا نہ کر سکا تو خداتعالیٰ کے انکار اور اپنی حماقتوں کے نتائج کا کسی قدر مزہ چکھنے کے بعد بالآخر توبہ کر ہی لے گا۔

ایک اور سورۃ میں قرآن کریم ایسی خوفناک اور عظیم جغرافیائی اور موسمی تبدیلیوں کا ذکر کرتا ہے جو کئی خطوں، ملکوں اور براعظموں کو کلیۃًبنجر کر کے رکھ دیں گی۔ غالباً اس کا تعلق ایٹمی تباہی کے بعد کے اثرات سے ہے جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے یہی زمینیں دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کی جاتی تھیں اور اپنی بے مثل خوبصورتی کی وجہ سے مشہور تھیں۔ ہماری خواہش ہے کہ کاش پیشگوئیوں کا کم سے کم یہ حصہ تو نہ ہی پورا ہو۔ اس کا یقینا یہ مطلب نہیں کہ ہم قرآنی پیشگوئیوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ ہماری یہ خواہش خداتعالیٰ کی بے پایاں رحمت پر ہمارے غیر متزلزل ایمان سے پھوٹ رہی ہے جو بہت معاف کرنے والا اور بڑا رحیم و کریم ہے۔ تمام وعیدیں خواہ کتنی ہی واضح اور دو ٹوک کیوں نہ ہوں انسان کے اپنے عمل سے مشروط ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کس طرح اپنی حالت میں تبدیلی لانے کے باعث خداتعالیٰ کی تقدیرِمبرم سے بچا لی گئی تھی، یہ مثال ہمارے لئے امید کی شمع روشن کرتی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ انسان کی اخلاقی اقدار میں مسلسل انحطاط ہو رہاہے اس خوش فہمی کا کوئی جواز تو نہیں بنتامگر انسان کم از کم امید کا دامن تو تھام سکتا ہے۔ و رنہ سخت مایوسی اور ناامیدی کی بھیانک رات تو سامنے کھڑی ہے۔ مگر ان گہرے امراض کا علاج ہستی ٔباری تعالیٰ کے منکر ملحد ’مسیحاؤں‘ کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اس کا واحد علاج صرف اور صرف خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بشرطیکہ ہمارے ہاتھ ہمیشہ دعا کیلئے اس کے حضور اٹھے رہیں۔ شاید ہم ایک ایسی زبان بول رہے ہیں جسے عصر حاضر کے انسان کیلئے سمجھنا مشکل ہے۔ کیونکہ اس کے کان اس کے برعکس زبان سننے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ (الہام عقل علم اور سچائی مرزا طاہر احمد صفحہ نمبر 537 تا 546)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *